سید شاہ حمزہ عینی قادری مارہروی

حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ﷫

 

ولادتِ با سعادت:

 سید شاہ حمزہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 14؍ ربیع الآخر 1131ھ کو ہوئی۔

تحصیلِ علم:

اپنے والد ماجد سید شاہ آل محمدر حمۃ اللہ علیہ اور شمس العلماء مولوی محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔

فنِ طب :

حکیم عطاء اللہ صاحب سے۔

زوجہ کا اسم شریف :

دیانت فاطمہ بنت حضرت سید محمد محسن بلگرامی عرف سید محمد روشن قدس سرہٗ۔

صاحبزادگان :

(۱)حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں (۲)حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں (۳)حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں(۴)حضرت سید علی (ان کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا)قدست اسرارہم۔

تبرکاتِ  نبوی کی آمد:

 سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک، قدم مبارک اور نعل شریف کے تبرکات مارہرہ شریف میں  حضرت سید شاہ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کو حاجی جمال الدین سے ملے، جو صحابی رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ یا ان کے بھائی کی اولاد میں تھے ۔ ان کے علاوہ آپ نے مولائے کائنات کے مزار مقدس کا ٹکڑا اور سرکار غوث پاک کی لکھی ہوئی بسم اللہ شریف بھی جمع فرمائی۔

 تصانیف:

(۱) کاشف الاستار (۲) فص الکلمات(۳) مثنوی اتفاقیہ (۴) قصیدہ گوہر بار (اردو) وغیرہ۔

تاریخ وصال :

14؍ محرم الحرام 1198ھ بدھ کی شب بعد نماز مغرب۔

بارگاہِ غوثیت مآب میں نذرانۂ عقیدت:

آپ کو شعر و شاعری سے بھی اچھا شغف تھا اور عینیؔ تخلص فرماتے تھے۔ مشہور زمانہ منقبت ’’غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے‘‘ یہ منقبت پاک سید شاہ حمزہ رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔

مشہور خلفا ء:

 (۱)حضرت سید شاہ محمد حقانی (۲)حضرت شاہ نصیر الدین لنگ (۳)حضرت شاہ حفظ اللہ (۴) حضرت شاہ رمضان اللہ(۵)حضرت شاہ رحیم اللہ (۶)حضرت شاہ دیدار علی (۷) شاہ سیف اللہ قدست اسرارہم۔

نمایاں وصف:

سخاوت ،چنانچہ آپ حضور صاحب البرکات کے عرس کے موقع پر سو سو قسم کے کھانے تیار کرا کر حاضرین میں تقسیم کراتے۔ ایک سال ایک لاکھ چونتیس ہزار آم اور کئی ٹوکریاں بیر تقسیم کرائے۔آپ کا شمار اس دور کے بڑے عا ملین میں ہوتاہے ۔دعائے سیفی کے آپ بہت بڑے عامل تھے۔

 

بہ شکریہ : البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب : محمد حسین مُشاہد رضوی

مزید

تجویزوآراء