منظومات  

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیقِ اکبر کا

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کاہے یارِ غار محبوبِ خدا صدیق اکبر کا الٰہی رحم فرما خادمِ صدیق اکبر ہوںتری رحمت کے صدقے واسطہ صدیق اکبر کا رُسل اور انبیا کے بعد جو افضل ہو عالم سےیہ عالم میں ہے کس کا مرتبہ صدیق اکبر کا گدا صدیق اکبر کا خدا سے فضل پاتا ہےخدا کے فضل سے میں ہوں گدا صدیق اکبر کا نبی کا اور خدا کا مدح گو صدیق اکبر ہےنبی صدیق اکبر کا خدا صدیق اکبر کا ضیا میں مہر عالم تاب کا یوں نام کب ہوتانہ ہوتا نام گر وجہِ ضیا صدیق اکبر کا...

بہتری جس پر کرے فخر وہ بہتر صدیق

معروضہ ببارگاہ امیر المؤ منین امام المتقین صدیق اکبر ﷜ بہتری جس پر  کرے فخر وہ بہتر صدیق سروری جس پہ کرے ناز وہ سرور صدیق چمنستانِ نبوت کی بہارِ اوّل گلشنِ دین کے بنے پھلے گلِ تر صدیق بے گماں شمعِ نبوت کے ہیں آئینہ چار یعنی عثمان و عمر حیدر و اکبر صدیق سارے اصحابِ نبی تارے ہیں امّت کےلئے ان ستاروں میں بنے مہر منوّر صدیق ثانی اثنین ہیں بو بکر خدا میرا گواہ حق مقدم کرے پھر کیوں ہو موخّر صدیق زیست میں موت میں اور قبر میں ثانی ہی رہے ثانی...

یقینا منبع خوف خدا صدیق اکبر ہیں

یقینا ًمنبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں حقیقی عاشِقِ خیرُ الْوریٰ صِدِّیقِ اکبر ہیں   بِلا شک پیکرِ صبر و رِضا صِدِّیقِ اکبر ہیں یقیناً مخزنِ صِدق و وفا صِدِّیق اکبر ہیں   نِہایَت مُتَّقی و پارسا صِدِّیقِ اکبر ہیں تَقی ہیں بلکہ شاہِ اَتْقِیا صِدِّیق اکبر ہیں   جو یارِ غارِ مَحْبوبِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں وُہی یارِ مزار ِمصطَفیٰ صِدِّیقِ اکبر ہیں   طبیبِ ہر مریضِ لادوا صِدِّیق...

بشر کو چاہیے جس کے لیےحیاتِ خضر

بشر کو چاہیے جس کے لیےحیاتِ خضر﷤ بشر کو چاہیے جس کے لیے حیاتِ خضر﷤ قلیل وقت میں  وہ کام  کر گیا  صدیق﷜   اُسی کے لہجے میں حق نے نبی سے باتیں کیں فراز عرش پہ جیسے ہو  لب کُشا  صدیق﷜   شرف ہزار تھا  حاصل  اُسے  رفاقت  کا غلام بن کے رہا پھر بھی آپ کا صدیق﷜   سفر حضر میں رہا ساتھ اپنے آقا ﷺ کے یہ شان  مہر و وفا،  واہ مرحبا  صدیق﷜   نبی علیل تھے  پوچھا بل...