ذوقِ طلب

گر ہمیں ذوقِ طلب سا رہنما ملتا نہیں

راستہ ملتا نہیں اور مدعا ملتا نہیں

 

جھک کے مہر و ماہ گویا دے رہے ہیں یہ صدا

دوسرا میں کوئی تم سا دُوسرا ملتا نہیں

 

اِبْتَغُوْا فرما کے گویا رب نے یہ فرمادیا

بے وسیلہ نجدیو! ہر گز خدا ملتا نہیں

 

ان سے امید وفا اے دل محض بیکار ہے

اہل دنیا سے محبت کا صلہ ملتا نہیں

 

کس نے تجھ سے کہہ دیا دل بے غرض آتے ہیں وہ

بے غرض نادان کوئی بے وفا ملتا نہیں

 

دیکھتے ہی دیکھتے سب اپنے بیگانے ہوئے

اب تو ڈھونڈے سے بھی کوئی آشنا ملتا نہیں

 

لو لگاتا کیوں نہیں باب شہِ کونین سے

ہاتھ اٹھا کر دیکھ تو پھر ان سے کیا ملتا نہیں

 

تیرے میخانے میں جو کھینچی تھی وہ مے کیا ہوئی

بات کیا ہے آج پینے کا مزہ ملتا نہیں

 

ساقیا تیری نگاہِ ناز مے کی جان تھی

پھیر لی تو نے نظر تو وہ نشہ ملتا نہیں

 

پینے والے دیکھ پی کر آج ان کی آنکھ سے

پھر یہ عالم ہوگا کہ خود کا پتہ ملتا نہیں

 

اخترِؔ خستہ عبث در در پھرا کرتا ہے تو

جُز درِ احمدﷺ کہیں سے مدعا ملتا نہیں


متعلقہ

تجویزوآراء