امید بوسہ پائے نبی میں

امید بوسہ پائے نبی میں
رہے کیا کیا یہ حسرت اپنے جی میں

بجائے نقش پا میں کاش ہوتا
یہی کہتا ہوں ہر دم بے کل میں

رسول اللہ کے الطاف و اخلاق
پڑہے جیسے کتاب ترمذی میں

ہوا ثابت نہ ہوگا مثل ان کے
ملک جن وبشر حورو پری میں

رُلاتی ہے اسے شوق رہائی
تڑپتا ہے امید مخلصی مین

نکلتے ہیں تمامی حسرت دل
اگر مرجائیں ہم ان کی گٹی میں

سنا تھا ماجرائے شعلۂ طور
دکھایا اس نے یہ عالم ہنسی میں

قد عالم کی کچہہ نسبت نہ پاوے
منور بر سر و شمشادو سہی ہیں

لکھون کیا حال کاؔفی ہم صفیر و
پہنا ہے جب سے دام بےکسی میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی)


متعلقہ

تجویزوآراء