پیر مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی  

جس نے دکھایا طیبہ وہ قبلہ تمہی تو ہو

معروضہ ببارگاہِ مرشدبرحق ناصرِ ملّت مولانا محمد نعیم الدین صاحب قبلہ مرا د آبادی

جس نے دکھایا طیبہ وہ قبلہ تمہی تو ہو
جس میں نبی کو دیکھا وہ شیشہ  تمہی تو ہو

...

کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا

کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا
مرتے مرتے بھی انتظار رہا

بزمِ اعداء میں رات جاگے ہیں
آنکھ میں شام تک خمار رہا

آنکھ وہ کیا جو اشکبار رہی
دل ہی کیا وہ جو بے قرار رہا

آنکھ وہ دید سے جو شاد رہی
دل جو دلبر سے ہمکنار رہا

آپ پہلو میں دشمنوں کے رہے
میری آنکھوں میں انتظار رہا

نہ وفا کی جناب نے مجھ سے
نہ مجھے دل پہ اختیار رہا

روتے روتے گزر گئیں راتیں
دلِ بے صبر بے قرار رہا

انتہا ہے سیاہ بختی کی
دل گرفتارِ زلفِ یار رہا

ہائے منعم کی بیکسی افسوس
نزع میں بھی وہ اشکبار رہا

...

احسن اللہ الینا حسنا

احسن اللہ الینا حسنا
برک اللہ تعالیٰ فینا
نحن فی سکہ بلدک طفنا
شرفِ کعبہ بود کوئے ترا
زادھا اللہ تعالیٰ شرفا

زانکہ بد از مئے عشقش سرمست
ولق اندر بغل و کاسہ بدست
دلق انداخنہ و کاسہ شکست
زائر کوئے تو از کعبہ گزشت
سر کوئے تو کجا کعبہ کجا

...