راہِ الفت میں

نہیں جاتی کسی صورت پریشانی نہیں جاتی

الٰہی میرے دل کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

 

نہ جانے کس قدر صدمے اٹھائے راہ الفت میں

نہیں جاتی مگر دل کی وہ نادانی نہیں جاتی

 

پئے بن ہی یہاں مستی کا یہ عالم معاذاللہ

قریبِ مرگ بھی وہ چال مستانی نہیں جاتی

 

ہزاروں درد سہتا ہوں اسی امید میں اخترؔ

کہ ہرگز رائیگاں فریاد روحانی نہیں جاتی

٭…٭…٭


متعلقہ

تجویزوآراء