مولانا حسن رضا خان صاحب  

فرماتے ہیں شیخ عبدالرزاق

فرماتے ہیں شیخ عبدالرزاق
فرخندہ سیر ستودہ اخلاق

پوچھا یہ جناب سے کسی نے
کب خود کو ولی حضور سمجھے؟

فرمایا کہ دس برس کے تھے ہم
جاتے تھے جو پڑھنے کے لیے ہم

پہنچانے کے واسطے فرشتے ٔ
مکتب کو ہمارے ساتھ جاتے

جب مدرسہ تک پہنچتے تھے ہم
لڑکوں سے یہ کہتے تھے وہ اُس دم

محبوبِ خدا کے بیٹھنے کو
اِطفال جگہ فراخ کر دو(۱)

ایک شخص کو ایک روز دیکھا
دیکھا تھا نہ اس سے پہلے اصلاَ

اُس نے یہ کسی مَلک سے پوچھا
کچھ مجھ کو بتاؤ حال اِن کا

یہ کون صبّی ہیں باوجاہت
سرکار میں جن کی ہے یہ عزت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تحفۃ القادریہ(فارسی) ، صفحہ18 پر ہے ، اَفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللّٰہِ یعنی اُٹھو اور خدا کے ولی کو جگہ دو۔قادری

بولا کہ ولی ہیں اولیا سے
توقیر یہ پائیں گے خدا سے

بے تبع عطا عطا کریں گے
بے پردہ لقا عطا کریں گے

تمکیں انہیں بے حجاب دیں گے
جو دیں گے وہ بے حساب دیں گے

حاصل ہو انہیں وہ قرب اللہ(ا)
جس میں نہ ہو مکر کو کبھی راہ

سائل کو کہ وقت کا ’’بَدَلْ‘‘ تھا
چالیس برس کے بعد دیکھا

اے دل یہ طریقِ سروراں ہے
آئینِ اکابرِ جہاں ہے

شہزادہ جو مدرسے سدھاریں
خدام اَدب چلیں جلو میں

تھا عالم قدس سے جو وہ ماہ
خالق نے کیے فرشتے ہمراہ

یعنی کہ نواسے کے جلو میں
نانا کے غلام خدمتیں دیں

وسائلِ بخشش

...

دایہ ہوئیں اک روز حاضر

دایہ ہوئیں ایک روز حاضر
اور عرض یہ کی کہ عبدِ قادِر

بچپن میں تو اُڑ کے گود سے تم
ہو جاتے تھے آفتاب میں گم

امکان میں ہے یہ حال اب بھی
کر سکتے ہو یہ کمال اب بھی

ارشاد ہوا بخوش بیانی
وہ عہد تھا عہدِ ناتُوانی

اُس وقت ہم صغیر سِنْ تھے
کمزوری و ضُعف کے وہ دن تھے

طاقت تھی جو ہم میں مہر سے کم
چھپ جاتے تھے آفتاب میں ہم

اب ایسے ہزار مہر آئیں
گُم ہم میں ہوں پھر پتا نہ پائیں

صدقے ترے اے جمال والے
قربان تری تجلیوں کے

تو رُخ سے اگر اُٹھا دے پردے
ہر ذرّہ کو آفتاب کر دے

وہ حسن دیا تجھے خدا نے
محبوب کیا تجھے خدا نے

ہر جلوہ بہار گلشنِ نور
ہر عکس طرازِ دامنِ نور

تو نورِ جنابِ کبریا ہے
تو چشم و چراغِ مصطفی ہے

کہتی ہے یہ تیرے رُخ کی تنویر
میں سُورۂ نور کی ہوں تفسیر

اے دونوں جہان کے اجالے
تاریکیِ قبر سے بچا لے

میں داغِ گناہ کہاں چھپاؤں
یہ رُوے سیاہ کسے دکھاؤں

ظلمت ہو بیان کیا گناہ کی
چھائی ہوئی ہے گھٹا گناہ کی

اے مہر ذرا نقاب اٹھا دے
للہ خوشی کا دن دکھا دے

پھر شامِ اَلم نے کی چڑھائی
بغداد کے چاند کی دُہائی

آفت میں غلام ہے گرفتار
اب میری مدد کو آؤ سرکار

حالِ دلِ بے قرار سُن لو
للہ میری پکار سُن لو

وسائلِ بخشش

...

منقول ہے تحفہ میں روایت


منقول ہے ’تحفہ‘ میں روایت
بچپن میں ہوا یہ قصدِ حضرت

کھیتی کو کریں وسیلۂ رزق
مسنون ہے کسبِ حیلۂ رزق

جس دن یہ خیال شاہ کو آیا
لکھتے ہیں وہ روز عرفہ کا تھا

نر گاؤ کو لے چلے جو آقا
منہ پھیر اس طرح وہ بولا

یہ حکم نہ آپ کو دیا ہے
مخلوق نہ اس لیے کیا ہے(۱)

سن کر یہ کلام ڈر گئے آپ
گھر آئے تو سقف پر گئے آپ

وہ نیّرِ دیں جو بام پر آئے
حاجی عرفات میں نظر آئے

سبحان اللہ اے تیری شان
یہ بام کہاں، کہاں وہ میدان

صدہا منزل کا فاصلہ تھا
یاں پاؤں تلے کا ماجرا تھا

ہاں چاند ہیں بامِ آسماں ہے
گردُوں سے قمر کو سب عیاں ہے

یہ دیکھ کر آئے پیشِ مادر
گویا ہوئے اس طرح سے سرور

امی مجھے اِذن کی ہو اِمداد
اب کارِ خدا میں کیجیے آزاد

بغداد کو جاؤں علم سیکھوں
اللہ کے نیک بندے دیکھوں

مادر نے سبب جو اس کا پوچھا
دیکھا تھا جو کچھ وہ کہہ سنایا

وہ روئیں، اُٹھیں، گئیں، پھر آئیں
میراثِ پدر جو تھی وہ لائیں

وارثِ پدرِ حضورِ عالی
دینار شمار میں تھے اَسّی

چالیس اُن میں سے شاہ نے پائے
چالیس برادرِ دوم نے

دینار وہ اُمّ مشفقہ نے
جامہ میں سئیے بغل کے نیچے

پھر عہد لیا کہ راستی کو
ہر حال میں اپنے ساتھ رکھو

پھر بہر سفر ملی اجازت
باہر آئیں برائے رخصت

اِرشاد ہوا برائے یزداں
کرتی ہوں میں تجھ سے قطع اے جاں

اب تیری یہ پیاری پیاری صورت
آئے گی نظر نہ تا قیامت

جیلاں سے چلا وہ شاہ ذی جاہ
اک چھوٹے سے قافلہ کے ہمراہ

ہمدان سے جو لوگ باہر آئے
قزاق انہوں نے ساٹھ پائے

لُوٹا، مارا، کیا گرفتار
شاہ کو نہ دیا کسی نے آزار

اک شخص ادھر بھی ہو کے نکلا
پوچھا کہ تمہارے پاس ہے کیا

مولیٰ نے کیا یہ سُن کے اظہار
جامہ میں سلے ہوئے ہیں دینار

رہزن نے کہا، کہو! کہاں ہیں؟
فرمایا تہِ بغل نہاں ہیں

گنتی پوچھی وہ کہہ سنائی
موقع پوچھا جگہ بتائی

سُن کر یہ جواب چل دیا وہ
اس سچ کو ہنسی سمجھ لیا وہ

اک اور بھی سامنے سے گزرا
اس سے بھی یہ حال پیش آیا

وہ بھی سِرکا ہنسی سمجھ کر
چلتا ہوا دل لگی سمجھ کر

دونوں جو ملے دلوں کی صورت
کی ایک نے ایک سے حکایت

سردار کو حال جا سنایا
اُس نے انہیں بھیج کر بلایا

وہ آپ کو ساتھ لے کے پہنچے
جس ٹیلے پہ مال بانٹتے تھے

اس نے بھی کیے وہی سوالات
فرمائی حضور نے وہی بات

آخر ٹھہری کہ امتحاں ہو
اس جامہ کو چاک کر کے دیکھو

نکلے صادق کی کرتے تائید
چاکِ جیبِ سحر سے خورشید

یوسف کا قمیص تھا وہ کُرتا
تصدیق وہ چاک کیوں نہ کرتا

حیرت ہوئی اُس کو کی یہ گفتار
کیوں تم نے کیا یہ حال اظہار

فرمایا کہ ماں کی تھی نصیحت
یہ عہد لیا تھا وقتِ رُخصت

ہر حال میں راستی سے ہو کام
ہر کام میں بس اسی سے ہو کام

وہ عہد ہے صُورتِ امانت
کرتا نہیں اُس میں مَیں خیانت

سردار نے جب سُنے یہ اَحْوال
روتے روتے ہوا بُرا حال

سچوں کی تھی پُر اثر وہ تقریر
کیوں کرتی نہ دل میں گھر وہ تقریر

تاثیرِ بیاں بیاں ہو کیوں کر
دل کھینچ لیا ہے لب ہلا کر

رونے سے جو کچھ افاقہ پایا
سردار حضور سے یہ بولا

قائم رہو ماں کے عہد پر تم!
اور عہدِ خدا کو ہم کریں گُم!

کرتا ہوں میں ترک یہ معائب
ہوتا ہوں تمہارے آگے تائب

دیکھا جو یہ اُس کے ساتھیوں نے
سردار سے اس طرح وہ بولے

جب راہ زنی تھی اپنا پیشہ
سردار رہا ہے تو ہمیشہ

توبہ میں بھی ہم سے تو ہے اَقدم
یوں بھی کریں تیری پیروی ہم

تائب ہوئے، مال قافلہ کا
جس جس سے لیا تھا اس کو پھیرا

فرماتے ہیں ہاتھ پر ہمارے
کی توبہ اُنہوں نے سب سے پہلے

آقا میں بَلا میں مبتلا ہوں
شیطان کے دام میں پھنسا ہوں

اب میری مدد کو آؤ یا غوث
رہزن سے مجھے بچاؤ یا غوث

لُٹتا ہے غریب آہ سرکار
درکار ہے اک نگاہ سرکار

لُٹتا ہے میاں غلام تیرا
للہ! اِدھر بھی کوئی پھیرا

مضطر ہے بہت غلام آقا
جنگل میں ہوئی ہے شام آقا

قطاع طریق ہیں مقابل
نزدیک ہے شام دُور منزل

کیجیے میری سمت خوش خرامی
کہتے ہوئے لَا تَخَفْ غُلَامِیْ

ہو جائے شبِ اَلم کنارے
آ جاؤ کہ دن پھریں ہمارے

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تحفۃ القادریہ(فارسی) میں ہے : یَا عَبْدَالْقَادِرِ مَا لِھٰذَا خُلِقْتَ وَ لَا بِھٰذَا اُمِرْتَ۔ قادری

وسائلِ بخشش

...

منقول ہے قول شیخ عمراں


منقول ہے قول شیخ عمراں
فرماتے ہیں اس طرح وہ ذیشاں

اک دن میں گیا حضور سرکار
اور عرض یہ کی کہ شاہِ ابرار

گر کوئی با ادعاے نسبت
کہتا ہو کہ ہوں مرید حضرت

واقع میں نہ کی ہو بیعت اُس نے
پائی نہ ہو یہ کرامت اُس نے

خرقہ نہ کیا ہو یاں سے حاصل
کیا وہ بھی مریدوں میں ہے داخل

گویا ہوئے یوں خدا کے محبوب
جو آپ کو ہم سے کر دے منسوب

مقبول کرے خداے برتر
ہوں عفو گناہ اس کے یکسر

ہو گرچہ َاسیرِ دامِ عصیاں
ہے داخلِ زمرۂ مریداں (۱)

ہاں مژدہ ہو بہرِ قادریاں
ہے جوش پہ بحر فیضِ احساں

دیکھے تو کوئی حسنؔ کہاں ہے
وہ وقفِ غم و محن کہاں ہے

کہہ دو کہ گئی اَلم کی ساعت
سرکار لٹا رہے ہیں دولت

سلطان ہے بر سرِ عطا آ
دامن پھیلائے دوڑتا آ

کیوں کوہِ اَلم تجھے دبائے
کیوں کاوِشِ غم تجھے ستائے

سرکارِ کریم ہے یہ دربار
دربارِ کریم ہے دُربار

جھوٹوں بھی جو ہو غلام کوئی
اُس کا بھی رُکے نہ کام کوئی

رد کرنے کا یاں نہیں ہے معمول
ہیں نام کی نسبتیں بھی مقبول

تجھ کو تو ہے واقعی غلامی
لے دولت عشرتِ دوامی

اس ہاتھ میں آ کے ہاتھ دیجیے
اور دونوں جہاں میں چین کیجیے

احسانِ خدا کہ پیر پایا
اور پیر بھی دستگیر پایا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) سرکار غوث پاک رضی اللہ عنہ نے نہ صرف مریدوں میں قبول فرمایا بلکہ مزید بشارت عطا فرمائی چنانچہ بہجۃ الاسرار : 193 پر ہے: رَبِّیْ عَزَّوجَلَّ وَعَدَنِیْ اَنْ یَدْخُلَ اَصْحَابِیْ وَ…کُلُّ مُحِبّی فِی الْجَنَّۃِ یعنی میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اور میرے ہم مذہبوں اور مجھ سے محبت کرنے والوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ قادری

 

 

...