منقبت  

افسوس آج سنیوں کے رہنما گئے

افسوس آج سنیوں کے رہنما گئے
سب مقتدی کھڑے رہے وہ مقتدا گئے

اب شمعِ علم کون جلائے گا ان کے بعد
وہ اپنے بعد چھوڑ کر کتنا خلا گئے

سارے مرید آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے
بے چین و مضطرب ہیں شہِ باصفا گئے

فیضِ رضا کہوں یا کہ حسنِ ضیا کہوں
تم سنیوں کو ٹھوس عقیدہ سکھا گئے

کیسے سنبھالیں خود کو اجاگرؔ ہمیں بتا!
ہم ہوگئے یتیم کہ وہ پیشوا گئے

شاعر: نثار علی اجاگر

...

سچائی کا امین تھا دہن ترابِ حق

سچائی کا امین تھا دھنِ ترابِ حق
حق گوئی کا نشان تھی تیغ ترابِ حق

شہر وفا میں دھوم ہے ذکرِ رسول کی
یہ بھی ہے سعی و کاوش عشق ترابِ حق

سنتا تھا درد دل کا قصہ جو غمگسار
وہ آشنا سپاس تھا شاہ ترابِ حق

تیغوں کے سائے میں پرھی جس نے نماز عشق
اس دور میں دکھاؤ تو مثل ترابِ حق

تنطیم، اتھاد اور ایمان کی لگن
اہلِ سنن کے سر پہ ہے قرض ترابِ حق

درویشی، انکساری و حبِّ نبی پاک﷑
یہ کل متاع زیست تھی بہر ترابِ حق

یارب کمال ’’عبد‘‘ ہو مثلِ سراج حق
دیکھیں انہیں تو کہہ اٹھیں ترابِ حق

دیکھا جو عبد حق کو تو عکس جمیل ہیں
صورت و حسن سیرت شاہ ترابِ حق

تکفیر کا تلک جو کرتے تھے آج وہ
بن کر ’’منیب‘‘ آئے ہیں پیش ترابِ حق

کہتے ہیں لوگ آج کہ وہ مرد حق اٹھا
روئیں گے صدیوں جس کو بنام ترابِ حق

اک بزمِ مصطفیٰ ہے یہ، طیب بلائے آئے ہیں
دیکھے تو کوئی آکے یاں شانِ ترابِ حق

تاباؔں مقدر اپنا ہو، گر تم بھی چل سکو
اک عزم بالیقین سے راہ ترابِ حق

...

حق گو ہیں حق پسند ہیں حضرت تراب حق

حق گو ہیں حق پسند ہیں حضرت تراب ِحق
اک مردِ حق ہیں بے گماں حضرت تراب ِحق

سنگم ہیں قادریت و برکاتیت کے آب
ناشر ہیں رضویات کے حضرت تراب ِحق

غوث الوریٰ ہیں شاہ ولایت بفضلِ حق
غوث الوریٰ کے نائب ہیں حضرت تراب ِحق

ہیں مردِ حق نائب سجادہ بے شبہ
آئینۂِ سیرتِ حضرت تراب ِحق

ظلمت کدہ میں آج ہے روشن سراج، حق
یہ ہے کرامت آپ کی حضرت تراب ِحق

مسجد کے بام و درے خوش آتی ہے یہ صدا
صَلُّوا عَلٰی النَّبِیْ الْاُمِّیْ لِقُرْبِ حق

ذروں سے دیکھی گونجتی تکبیر ربِّ حق
سجدے جہاں پہ کرتے ہیں حضرت تراب ِحق

باطل کا معاملہ ہو تو سیف یَدُاللَّہی
مومن کا معاملہ ہو تو رحمت تراب ِحق

ان پر بثار سنی ہیں پیر و ضوان سب
اک انجمن علم ہیں حضرت تراب ِحق

وہ ہیں بلال شرف فلکِ عزو جاہ کے
برتر قیاس سے ہیں حضرت تراب ِحق

احمد رضا سے رشتہ ہے عشق رسول﷑
فکرِ رضا کے حامل ہیں حضرت تراب ِحق

جب بھی کسی نے بات کی میلاد کے خلاف
مثلِ شہاب لپکے ہیں حضرت تراب ِحق

تسلیم غیر کو بھی ہے جاء تراب حق
شہر وفا کی شانِ قیادت تراب ِحق

لرزہ عدد پہ طاری بنامِ تراب ِحق
شیر خدا کی گھن گرج حضرت تراب ِحق

وہ اہتمامِ محفلِ میلاد ہے کہ آج
ہر گھر سجا ہوا ہے بہ حجت تراب ِحق

پڑھتے نمازِ عشق ہیں تیغوں کے سائے میں
اس رسمِ عاشقی کی ہیں رفعت تراب ِحق

جمع یہاں ہیں ارد گرد سب اہل قرب حق
حق رہنما دلیل ہیں حضرت تراب ِحق

حَیَّ عَلیٰ الفَلاح کی دعوت پہ دوڑ کے
آتے ہیں لوگ دور سے بہ نہضت تراب ِحق

ہر معاملے میں کرتے ہیں یہ فتح بابِ حق
ہیں منبعِ دانائی و حکمت تراب ِحق

روشن ہے مصطفیٰ﷑سے جو شیدا ہے آپ کا
چشم و چراغِ زہرہ ہیں حضرت تراب ِحق

اللہ رکھے ان کو سلامت بہ کرّ و فَر
اہل سنن کی آن ہیں حضرت تراب ِحق

یکتائے روزگار کو تابؔاں مرا سلام
وہ نازشِ خطاب ہیں حضرت تراب ِحق

...