منقبت خواجہ غریب نواز

منقبت خواجہ غریب نواز

سرکار کرم کے صدقہ میں خواجہ کا روضہ دیکھ لیا
خواجہ کی غریب نوازی کا دربار میں نقشہ دیکھ لیا


سرکار میں جھولی پھیلا کر، مانگوں تو کیا کچھ پاؤ گے
اللہ کے فضل و رحمت سے دیتے ہیں خواجہ دیکھ لیا


جو لے کے تمنّا آتا ہے، وہ لے کے مُرادیں جاتا ہے
اندازِ طلب بھی دیکھ لیا، اندازِ عطا بھی دیکھ لیا


رحمت کے خزانے بھی بے حد، خواجہ کی سخاوت بھی بے حد
دیتے تو نہیں دیکھا ہے مگر، دامن جو بھرا تھا دیکھ لیا


دربار معینی سے بے شک، محروم رہا جو مُنکر تھا
کتنے ہی تمنّا والوں کو واصل بہ تمنّا دیکھ لیا


مسکین و تونگر سب یکساں، جذبات سے کھنچتے آتے ہیں
اِک قبر میں سونے والے کا، انسانوں پہ قبضہ دیکھ لیا


عشّاق کا مجمع روضہ پر، پروانوں سا اُمڈا آتا ہے
کیا شمع جمالِ انور میں سرکار کا روضہ دیکھ لیا


جس نور کا جلوہ کعبہ اور طیبہ کو منوّر کرتا ہے
بغداد میں اور اجمیر میں بھی اُس نور کا جلوہ دیکھ لیا


جتنے بھی ولی ہیں عالم میں، اغواث بھی ہیں، اقطاب بھی ہیں
ہر غوث و ولی، ابدال پہ ہے فیضانِ مدینیہ دیکھ لیا


ایک دھوم ہے اللہ والوں کی، اِک شور مچا ہے باہو کا
نیکوں کے سبب بدکاروں پر، انعام ولی کا دیکھ لیا


مردوں کے ہجومِ بے حد میں، ہیں عورتیں بھی اور بچے بھی
تہذیب و حیا کا خوں ہم نے، ان آنکھوں سے ہوتا دیکھ لیا


اس پر بھی کرم نے خواجہ کے محروم کسی کو کب چھوڑا
روتے ہوئے آنے والے کو ، ہنستا ہُوا جاتا دیکھ لیا


بُرہانؔ پر بھی، حامد پر بھی، حافظ پہ علی احمد پر بھی
اور جان محمد اور ضیاء پر نوری کا صدقہ دیکھ لیا


حاضر بھی ہوئے چادر تھامے، بوسے بھی لئے ، طواف کیا
مانگی بھی دُعا، بُرہاںؔ پہ کرم تھا غوث و رضا کا دیکھ لیا


متعلقہ

تجویزوآراء