تازہ ترین ضیائے بخشش  

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے
زندگی ہے نبی کی نبی کے لئے

نہ سمجھ مرتے ہیں زندگی کے لئے
جینا مرنا ہے سب کچھ نبی کے لئے

چاندنی چار دن ہے سبھی  کے لئے
ہے صدا چاند عبدالنبی کے لئے

اَنْتَ فَیْھِمْ کے دامن میں منکر بھی ہیں
ہم رہے عشرتِ دائمی کے لئے

عشق کر لو یہاں منکر و چار در
مر کے ترسو گے اس زندگ کے لئے

داغِ عشقِ نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغِ لحد روشنی کے لئے

نقشِ پائے سگانِ نبی دیکھیے
یہ پتہ ہے بہت رہبری کے لئے

وہ بلاتے ہیں کوئی یہ آواز دے
دم میں جا پہنچوں میں حاضری کے لئے

اے نسیمِ صبا ان سے کہہ دے ذرا
مضطرب ہے گدا حاضری کے لئے

جن کے دل میں ہے عشقِ نبی کی چمک
وہ ہیں نجم زماں روشنی کے لئے

اختؔرِ قادری خلد میں چل دیا
خلدوا ہے ہر اک قادری کے لئے

شاعر مفتی اختر رضا خاں قادری ﷫

...

منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کردے

منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کردے

منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کردے
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلفِ دُتا کردے

جہاں بانی عطا کر دے بھری جنت ہبہ کر دے
نبی مختارِ کل  ہیں جس کو جو چاہیں عطا کر دے

جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کر دیں
زمیں کو آسماں کردے سریا کو سرا کر دیں

فضا میں اڑھنے والے یوں نہ اترائیں ندا کر دے
وہ جب چاہیں جسے چاہیں اسے فرما رواکردیں

عطا ہو بے خدی مجھ کو خدی میری ہوا کر دے
مجھے یوں اپنی الفت میں میرے مولافنا کردے

مجھے کیا فکر ہو اخؔتر میرے یاور ہیں وہ یاور
بلاؤں کو جو میری خود گرفتارے بالا کردے

شاعر:حضور تاج الشریعہ مفتی اخؔتر رضا خاں قادری﷫

...

حق گو ہیں حق پسند ہیں حضرت تراب حق

حق گو حق پسند ہیں حضرت تراب حق
اک مردِ حق ہیں بے گماں حضرت تراب حق

سنگم ہیں قادریت و برکاتیت کے آب
ناشر ہیں رضویات کے حضرت تراب حق

غوث الوریٰ ہیں شاہ ولایت بفضلِ حق
غوث الوریٰ کے نائب ہیں حضرت تراب حق

ہیں مردِ حق نائب سجادہ بے شبہ
آئینۂِ سیرتِ حضرت تراب حق

ظلمت کدہ میں آج ہے روشن سراج، حق
یہ ہے کرامت آپ کی حضرت تراب حق

مسجد کے بام و درے خوش آتی ہے یہ صدا
صَلُّوا عَلٰی النَّبِیْ الْاُمِّیْ لِقُرْبِ حق

ذروں سے دیکھی گونجتی تکبیر رب حق
سجدے جہاں پہ کرتے ہیں حضرت تراب حق

باطل کا معاملہ ہو تو سیف یَدُاللَّہی
مومن کا معاملہ ہو تو رحمت تراب حق

ان پر بثار سنی ہیں پیر و ضوان سب
اک انجمن علم ہیں حضرت تراب حق

وہ ہیں بلال شرف فلکِ عزو جاہ کے
برتر قیاس سے ہیں حضرت تراب حق

احمد رضا سے رشتہ ہے عشق رسول﷑
فکرِ رضا کے حامل ہیں حضرت تراب حق

جب بھی کسی نے بات کی میلاد کے خلاف
مثلِ شہاب لپکے ہیں حضرت تراب حق

تسلیم غیر کو بھی ہے جاء تراب حق
شہر وفا کی شانِ قیادت تراب حق

لرزہ عدد پہ طاری بنامِ تراب حق
شیر خدا کی گھن گرج حضرت تراب حق

وہ اہتمامِ محفلِ میلاد ہے کہ آج
ہر گھر سجا ہوا ہے بہ حجت تراب حق

پڑھتے نمازِ عشق ہیں تیغوں کے سائے میں
اس رسمِ عاشقی کی ہیں رفعت تراب حق

جمع یہاں ہیں ارد گرد سب اہل قرب حق
حق رہنما دلیل ہیں حضرت تراب حق

حَیَّ عَلیٰ الفَلاح کی دعوت پہ دوڑ کے
آتے ہیں لوگ دور سے بہ نہضت تراب حق

ہر معاملے میں کرتے ہیں یہ فتح بابِ حق
ہیں منبعِ دانائی و حکمت تراب حق

روشن ہے مصطفیٰ﷑سے جو شیدا ہے آپ کا
چشم و چراغِ زہرہ ہیں حضرت تراب حق

اللہ رکھے ان کو سلامت بہ کرّ و فَر
اہل سنن کی آن ہیں حضرت تراب حق

یکتائے روزگار کو تابؔاں مرا سلام
وہ نازشِ خطاب ہیں حضرت تراب حق

شاعر: صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری تاباں

...