جد ہر کو رونق افزا وہ بہار باغ رضوان ہو

جد ہر کو رونق افزا وہ بہار باغ رضوان ہو
تمامی کوچہ و بازار نگہت سے گلستان ہو

سواری جس طرف اُس شکریں گفتار کی گذہ
تواُس صحرا کا ریگستان تمامی شکر ستان ہو

پڑی پر توحد ہر کو لعل لب پر دُروندان کا
وہاں کے سنگریزوں سے ہویدا دُر مرجان ہو

اگر وہ کھولدے گیسوئے مشکین کو سیہ شب میں
یکایک اختر ِ بخت شب یلد درخشاں ہو

کوئی گل باغ امکان میں کہلا ہے اور بھی ایسا
کہ جس کے واسطے پیدا بہار باغ امکان ہو

حسیناں و جمیلان جہاں سے ان کو کیا نسبت
کہ جن کی حسن کا ادنی سا پر تو ماہ کنعان ہو

ملال ناخن انگشت والا کے اشارے ہے
عجب کیا ہے کہ دو تکڑے نہ قرص ماہ کنعان ہو

اگر دوش صبا پر تھا وان تخت سلیما نے
براق رحمت عالم فلک پر گرم جو لان ہو

کلیم اللہ کا معراج کوہ ِ طور پر ہوئے
رسول اللہ کا معراج فرش عرش رحمان ہو

مدینہ کی طرف پہنچوں تو پہنچوں مقصد لکھو
حصولِ راحت ِجان فروغ دین ایمان ہو

اسیر دام حرماں ہوں کنبد یاس کا قیدی
میرے اللہ میرے مشکل کشا و شوار آسان ہو

الہی یا الہی یا اللہ العالمین یارب
میرے حال پریشان پر عنایات فراوان ہو

دکھا دے بلدۂ طیب دکھادے روضۂ اقدس
دکھا دے گبند خضرا کہ تسکین دل و جان ہو

دکھادے وہ بھی دن یارب کہ حاضر ہو کے کؔا فی
جناب مصطفی کے آستانہ پر غزل خواں ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی)


متعلقہ

تجویزوآراء