غمِ ہستی

جب کبھی ہم نے غمِ جاناں کو بھلایا ہوگا

غمِ ہستی نے ہمیں خون رلایا ہوگا

دامنِ دل جو سوئے یار کھنچا جاتا ہے

ہو نہ ہو اس نے مجھے آج بلایا ہوگا

آنکھ اٹھا کر تو ذرا دیکھ مرے دل کی طرف

تیری یادوں کا چمن دل میں سجایا ہوگا

گردشِ دور ہمیں چھیڑ نہ اتنا ورنہ

اپنے نالوں سے ابھی حشر اٹھایا ہوگا

ڈوب جائے نہ کہیں غم میں ہمارے عالم

ہم جو رو دیں گے تو بہتا ہوا دریا ہوگا

سوچئے کتنا حسیں ہوگا وہ لحظہ اخترؔؔ

سرِ بالیں پہ دمِ مرگ وہ آیا ہوگا


متعلقہ

تجویزوآراء