اشکِ رواں

سوزِ نہاں اشک رواں آہ و فغاں دیتے ہیں

یوں محبت کا صلہ اہلِ جہاں دیتے ہیں

کون رکھتا تری اس خاص عنایت کا بھرم

بس ہمیں دادِ ستم گر یہ کناں دیتے ہیں

اب پسِ مرگ ابھرتے ہیں یہ دیرینہ نقوش

ہم فنا ہوکے بھی ہستی کا نشاں دیتے ہیں

کفر ہے دیکھ یہ خوف اور رجا ان سے ندیم

بت بھی کیا تجھ کو بھلا سودوزیاں دیتے ہیں

٭…٭…٭


متعلقہ

تجویزوآراء