اجمیر مقدس میں فجر کی نماز اور غسل کا نظارہ

اجمیر مقدس میں فجر کی نماز اور غسل کا نظارہ

رجب کی نو (۹) ہے اور خواجہ کا یہ دربارِ عالی ہے
یہاں کی ہر ادا وقتِ سحر ہی نرالی ہے

نگہ عشّاق کی روضہ کے دروازوں سے وابستہ
تلاوت میں کوئی ضربات اللہ ہُو میں وارفتہ

کہیں تو نعت کی مجلس میں زور و شور صلُّوا سے
کہیں قوال کے نغموں میں پیدا شور ہا ہُو ہے

کہیں گانے کا قوّالیوں کا شور برپا ہے
کوئی سر دُھن رہا ہے وجد میں کوئی تھرکتا ہے
سما ں پیدا کیا وجد آفریں نغمے نے سازوں کے
تو حال و قال میں ہُو حق ہیں نعرے نعرہ بازوں کے

کمر جنبش میں ہے اور دونوں ہاتھوں میں ہے پیچ و خم
جُھکا ہے سر زباں پر لفظ یا خواجہ ہیں آنکھیں نم

اذانِ فجر نے ساری فضا ہی کو بدل ڈالا
نہ وہ نغمے نہ قوالی نہ اب وہ شور باقی تھا

وہ ہیبت چھائی توحید و رسالت کی ہر اِک دل پر
صدا تکبیر و توحید و صلوٰۃ آئی ہر اِک لب پر

کھڑے ہیں دست بستہ  صف بہ صف رب کی عبادت میں
نہیں اس وقت کچھ بھی فرق غُربت میں امارت میں

وہ ہے رحمت کی بارش گنبد پرُنور خواجہ پر
منوّر ہو رہے ہیں دل شعاعیں نُور کی لے کر

نمازِ فجر کی قراءت میں محویّت وہ طاری ہے
خیال ما سوا اللہ سے دل سب کا خالی ہے

سمجھنا چاہتے ہو فلسفہ گر تم اطاعت کا
تو آکر دیکھ لو منظر جماعت سے عبادت کا

خشوعِ قلب میں ہر اِک مصلّیٰ کی یہ حالت ہے
نہ جنبش لب پہ نہ اعضاء میں اُن کے کوئی حرکت ہے

رکوع و سجدہ و قعدہ میں وہ جس وقت جاتے ہیں
عبادت میں اطاعت کو حقیقت کر دکھاتے ہیں

سلام آخری جس دم امامِ فجر نے پھیرا
عجب اِک شور الا اللہ کا درگاہ میں اُٹھا

اُمنڈتے آرہے ہیں ہر طرف پروانے خواجہ کے
کھڑے ہیں لے کے جھاڑوہاتھ میں دیوانے خواجہ کے

یہ یومِ غُسل ہے عطر و گلاب و کیوڑہ لا کر
کوئی باہر کھڑا ہے اور کوئی درگاہ کے در پر

کہیں ہے بہشتیوں کا شور مشکٰن پیٹھ پر لادے
کوئی کہتا ہے، بیٹا بالٹی پانی کی اِک لا دے

ہے سب کو اِنتظارِ ابتداء غُسل مرقد کا
ابھی روضہ کا بالکل بند ہے ہر ایک دروازہ

وہ آئی غسل کی ساعت وہ اُٹھا شور یا خواجہ
ہر ایک ذرّہ سے تھا آوازۂ پُر زور یا خواجہ

در و دیوارِ روضہ اور ستون فرش میں باہر
گلاب و عطر کو ڈالا گیا ہے گوشہ گوشہ پر

کوئی رومال و چادر سے کوئی دامن سے کُرتوں کے
تو کوئی ریشمی دستی کوئی کشمیری شالوں سے

در و دیوار روضہ کی نمی کو جذب کرتا ہے
مُبارک غُسل کے چھینٹوں سے اپنی گود بھرتا ہے

عجب پُر لطف منظر غُسل کا باہر نظر آیا
کہ ہر دیوانہ جھاڑو ہاتھ میں لے کر نظر آیا

کُھلے مَشکوں کے مُنہ اور صحن میں پانی ہی پانی تھا
وہ پانی نذر کا مَنَّتِ خواجہ کا پانی تھا

اگر چہ صُبح کے ہونے میں کافی دیر ہے باقی
درِ خواجہ پہ لیکن ہے جُھکی ہر اِک پیشانی

طلوعِ صبحِ صادق کا عجب پُر کیف منظر تھا
نزولِ رحمتِ حق کا سماں کیا رُوح پرور تھا

رجب کی نو (۹) ہے اور خواجہ کا یہ دربارِ عالی ہے
یہاں کی ہر ادا وقتِ سحر ہی نرالی ہے


متعلقہ

تجویزوآراء