آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا

آدمی کو بھی میسّر نہیں اِنساں ہونا

ہر مسلمان کو لازم ہے مسلماں ہونا
جانِ اسلام ہے سرکار پہ ایماں ہونا

پیروی جس کی بنا دیتی ہے محبوبِ خدا
اُن کا ہر کام میں بس تابع فرما ہونا

آپ ہی سے تو ہوئی آدمیّت کی تکمیل
شرف انساں کا ہے وابستۂ داماں ہونا

سرورِ دین کی غلامی نہ ہو جب تک حاصل
”آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا‘‘

اُن کے ہی نور سے پیدا ہے جہاں پھر اُن سے
غیر مُمکن ہے کسی چیز کا پنہاں ہونا

راستہ صدق و سعادت کا بتا دیتا ہے
دل میں اخلاصِ نیّت ، ہاتھ میں قرآں ہونا

یاد دل میں رہے اور اسمِ مبارک لب پر
منزلِ قبر کا مشکل نہیں آساں ہونا

یا نبی کہتے رہو ، پُل سے گزرتے جاؤ
رَبِّ سَلِّم کی صدا ہے، نہ پریشاں ہونا

زندگی، موت ، سبھی وقت وہ کام آئینگے
اُن سے پھِر کر نہ کہیں حشر میں حیراں ہونا

ہے شفاعت پہ نظر، گر چہ گنہگار ہیں ہم
عاصیوں تم نہ کبھی اس سے ہراساں ہونا

ہوتی ہے مظہرِ اخلاص، ہر اِک قربانی
بہ دلِ صدق و رضا، صبر بداماں ہونا

عید قرباں یہ سبق دیتی ہے قربانی کا
   حکم اللہ پہ یوں شوق سے قرباں ہونا

روضۂ پاک کے سائے میں ہو جو موت نصیب
   روح کا دیکھنا پھر  ذوق سے فرحاں ہونا

سر پہ بُرہانؔ کے ہے سایۂ فیضانِ رضاؔ
اُن کی رحمت ہے ترا صاحبِ عرفاں ہونا

جسمِ بے جان کے بھی جان میں جان آجائے
   ہو جھلکتا رُخِ پُرنُور سے شاداں ہونا

معصیت کیش خطا کار یہ بُرہاؔں سہی
وہ تمہارا  ہے اسے عفو کا ساماں ہونا


متعلقہ

تجویزوآراء