الجزائر کی حکومت مسلمانوں کے جذبات سے نہ کھیلے، ضیائے طیبہ

17فروری 2019

الجزائر کی حکومت مسلمانوں کے جذبات سے نہ کھیلے، ضیائے طیبہ

درس کتب سے بسم اللہ کا خراج او ر اسکولوں میں نماز کی ممانعت قبول نہیں مفتی فیضی

او آئی سی صورت حال کا نوٹس لے،  حکومت بھی احتجاج ریکارڈ کرائے، اللہ رکھا ضیائی

کراچی (سندھ اسپیشل) انجمن ضیائے طیبہ نے الجزائر کے اسکولوں میں نماز پر پابندی اور اسکولوں کے بچوں کو دینی معمولات گھروں پر انجام دینے کے حکم نامے کی مذمت کی ہے ایک اخباری بیان میں انجمن کے سر پرست مفتی اکرام المحسن فیضی، بانی سید اللہ رکھا ضیائی، اور چیئرمین اسکالرز اکیڈمی مبشر قادری، نعیم قادری، ندیم نورانی، علامہ ابو  بکر قادری،نے کہا کہ دینی شعائر کی ادائیگی سے طلبہ و طالبات کو روکنے کی کوشش حکومت الجزائر کو مہنگی پڑے گی کہ یہ ایک طرح سے اللہ رب العزت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے انہوں نے آرگنائز یشن آف اسلامک کنٹر یز اور حکومت پاکستان پرزور دیا کہ وہ صورت حال کو نوٹس لے کر احتجاج  ریکارڈ کرائیں کہ الجزائر کی حکومت مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہی ہے نیز درسی کتب سے بسم اللہ کا اخراجات  اور مذہبی سرگرمیاں محدود کرنے کا عمل بھی عالم اسلام کو قبول نہیں وہ باز آجائے کہ ایک اسلامی مملکت میں  اکثریت مسلم آبادی کو ان  کے دینی شعائر کی  ادائیگی سے روکنا قابل مذمت ہے۔

تجویزوآراء