(آب زم زم فروخت کرنے کا حکم )

04/27/2017 AZT-24226

(آب زم زم فروخت کرنے کا حکم )


محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے متعلق (۱)۔ سعودی عرب سے ایک شخص آب زم زم مفت میں لا کر پاکستان میں فروخت کرتا ہے۔(فروخت کرنا کیسا ہے؟) (۲)۔ اگر کین ،پیکنگ کی لاگت کو دیکھا جائے تو وہ تقریباً300روپے پاکستانی بنتی ہے۔ جبکہ مذکورہ شخص5K.Gکا کین 3000روپے کا فروخت کرتا ہے۔ کیا یہ غبن فاحش نہیں؟ (۳)۔ کیا خریدا ہوا آب زم زم وہی تبرک، وہی خاصیات رکھتا ہے ؟جو کہ وہاں سے خود لایا جائے۔ یا کوئی تقسیم کیلئے تبرک کے طور پر لائے۔ جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور وعند النا س مشکور ہوں۔ سائل:محمد سہیل DHA

الجواب بعون الملك الوهاب

(۱)۔فروخت کر نا جائز ہے ۔کیونکہ آب زم زم ایک مباح  چیزہےجو بھی اسےبلاواسطہ یا بالواستہ آب زم زم کے کنوے سےلےگا تو وہ اس کا مالک ہو جائے گا۔اور مالک  کواپنی مملوکہ چیز بیچنے کا پوراپورااختیارہوتا ہے۔

(۲)۔ہاں اس صورت میں غبن فاحش ہے جو جائز نہیں لیکن اس کے باوجود بیع با کراہت جائز ہو گی ۔ غبن فاحش یہ ہے کہ کسی چیز کے ماہرین اگر قیمتیں لگائیں تو اتنی زیادتی کے ساتھ اس کی قیمت نہ لگائیں۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ غبن فاحش کا معنی ہے قیمت دوگنا کردینا۔

(۳)۔ہاں اسی طرح متبرک ہے اور وہی خصوصیات رکھتا ہے ۔جس طرح خود لایا ہوا یابطور تبرک تقسیم کیا ہوا آب زمزم متبرک اور خصوصیات کاحامل ہوتا ہے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم

  • رئیس دارالافتاء مفتی محمد اکرام المحسن فیضی
  • رئیس دارالافتاء مفتی محمد اکرام المحسن فیضی

متعلقہ

تجویزوآراء