ضیائی دارالافتاء

شبِ براءت کو قبرستان جانااور ایصالِ ثواب کرنا

سوال: شعبان المعظم کی پندرھویں شب قبرستان جانااورایصالِ ثواب کرنا کیسا ہے؟ کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟ کیوں کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ اسے ضروری سمجھتے ہیں ،کیا واقعی یہ ضروری ہے؟

محمد ظفر (کورنگی، کراچی )

الجواب بعون الوھّاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شَعبان المعظّم کی پندرھویں شب قبرستان جانا اور اپنے مرحوم عزیز و اقارب، احباب اور عامتہ المسلمین کی قبروں پر فاتحہ پڑھنا اور ایصالِ ثواب کرنا مستحب ومستحسن امر ہےاوریہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ اگر کوئی شخص شعبان المعظم کی پندرھویں شب قبرستان جائے اورایصالِ ثواب کرے تو وہ ثواب کا مستحق ہو گا اور اگر نہ جائے تو اس پر کوئی ملامت بھی نہیں ہے؛ چناں چہ امّ المؤمنین حضرت سیّدہ حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے:

’’میں نے اللہ کے رسولﷺ کو ایک رات گم پایا۔ میں (تلاش کے لیے) نکلی تو آپﷺ بقیع (مدینے کا قبرستان) میں موجود تھے۔ پس آپ ﷺنے فرمایا: ’’اے عائشہ! کیا تجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ سے ناانصافی کریں گے؟‘‘ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا گمان یہ تھا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس گئے ہوں گے۔ پس آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ (گناہوں )کی مغفرت فرماتا ہے۔‘‘ )جامع الترمذی، ابواب الصوم، باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان،حدیث نمبر۷۳۹(

لہٰذا،اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ شعبان المعظم کی پندرھویں شب قبرستان جانا اور اپنے مرحوم عزیز و اقارب، احباب اور عامۃ المسلمین کی قبروں پر فاتحہ پڑھنا اور ایصالِ ثواب کرنا مستحب ومستحسن امرہے اوریہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔واللہ تعالٰی اعلم و رسولہٗ اعلم۔

شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھنا

سوال: یہ بتائیں کہ نبی اکرم ﷺ ماہِ شعبان کے کتنے روزے رکھتے تھے،کیا آپ پورا ماہ ِشعبان روزے رکھتے تھے یا اکثر ماہ ِشعبان روزے رکھتے تھے؟ (محمد جاوید سامٹیہ، پنجاب)

الجواب بعون الوھّاب اللھم ھدایۃ الحق والصّواب

نبی اکرم ﷺسوائے چنددن (آخری دویا تین )کے علاوہ پورا ماہِ شعبان روزےرکھتے تھے۔ چناں چہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:

امّ المؤمنین حضرت سیّد ہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سےروایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ مسلسل روزے رکھتے رھتے حتی کہ ہم کہتے افطار نہ کریں گے اورمسلسل افطار کرتے رہتے حتی کہ ہم کہتے روزے نہ رکھیں گے اور میں نے رسول اﷲ ﷺ کو نہ دیکھا کہ سوائے رمضان کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور میں نے حضور کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہ دیکھااورایک روایت میں یوں ہےآپ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ قریبًا سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور بجز تھوڑے دنوں کے سارے شعبان کے روزے رکھتے۔

(صحیح مسلم، باب صیا م النبی ﷺ ،ص۲،ص۸۰۹)

اور حضرت ربیعہ بن غاز سے روایت ہے کہ:

انھوں نے امّ المؤمنین حضرت سیّد ہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے (شعبان کے) روزوں کے بارے میں پوچھا تو امّ المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہانے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تقریباًپورا شعبان روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملا دیتے تھے۔ اور یہ حدیث صحیح ہے ۔

ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہو اکہ آپ ﷺ تقریباً پورا ماہِ شعبان (سوائے آخر دو یا تین دن کے )روزےرکھا کرتے تھے ۔

واللہ تعالٰی اعلم و رسولہٗ اعلم۔


متعلقہ

تجویزوآراء