تاریخ الاسرأ و المعراج

ڈاکٹر رضوان بن فضل الرحمٰن  بن ضیاء الدین، الشیخ حفظہ اللہ

مترجم:مولانا افتخار احمد قادری

 

وہ عظمت والے آقا نبی گرامی ﷺ آپ کو رات کے تھوڑے حصے میں مسجد  حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی گئی،وہ مسجدِ اقصیٰ جس کے گرد اللہ تعالیٰ نے برکتیں رکھی ہیں۔پھر وہاں سے بلند آسمانوں پر آپ تشریف لے گئے۔پھر آپ کو آپ کے رب نے اپنے قرب ِ خاص میں بلایا اور نوازا۔

قرآن ناطق ہے

(سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہ لَیْلاََ مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدْ  الْاَقْصیٰ الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہُ مِنْ اٰیَاتِنَا طھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ (بنی  اسرائیل ایۃ ۱) )

’’تاریخ الاسرأ و المعراج‘‘

 

 

ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک جس کے گِرد دو نواح میں ہم نے برکت دی ،تاکہ ہم اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں دیکھائیں، بیشک وہی سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔اس مقام پر ہرصاحبِ فکر و دانش پورے یقین کے ساتھ جانتا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنےبندے کو روح و جسم کے ساتھ ہی یہ تاریخی سیر کرائی واضح بات ہے کہ جسم و روح کے مجموعہ کو ہی بشر و عبد کہتے ہیں،رب تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا (بروحہ) روح کو سیر کرایا، اور نہ یہ فرمایا: بجسدہ ،کہ آپ کے جسم کو سیر کرائی بلکہ فرمایا:(بعبدہ) ،اور لفظ عبد جسم و روح دونوں کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔

بلکہ غور کیا جائے تو اس لفظ میں ہمارے نبی ﷺ کا ایک عظیم اعزاز و اکرام ہے،  وہ یہ ہے خود رب تعالیٰ نے ’’عبد‘‘ کو اپنی طرف منسوب کیا ،فرمایا۔’’اپنے بندہ‘‘کو اس نے سیر کرائی،ظاہر سی بات ہے جو مخلوق اپنے خالق کی طرف منسوب ہو جائے اس کے لیے تو بذاتِ خود یہ ایک معراج ہے۔

امام المفسّیرین طبری نے اپنی تفسیر ’’جامع البیان ‘‘ میں فرمایا:معراج جسم و روح دونوں کے ساتھ ہوئی، جو یہ کہتا ہے کہ صرف روح کومعراج ہوئی وہ بے معنیٰ بات کہتا ہے،اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس میں نُبُوّت کی دلیل نہ ہوتی اور معراج کو معجزہ ٔ نبوت نہ کہا جاتا اور نہ ہی یہ واقعہ رسالت کے لیے حجت و دلیل بنتا اور نہ ہی کفار ِ مکہ اس کی حقیقت کا انکار کرتے، اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ایک سال کی مسافت کا بھی کوئی انکار نہ کرتا اور یہاں تو ایک ماہ یا اس سے کم کی مسافت کا انکارکیا گیا ہے،کفارِ مکہ کو اعتراض یہ تھا کہ ایک ماہ کی مسافت ایک رات کے تھوڑے حصہ میں کیسے طے ہوگئی ، مزید ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا اس نے’’اپنے بندے‘‘ کو سیر کرائی اس نے یہ نہ فرمایا کہ اس نے  ’’اپنے بندے‘‘ کی روح کو سیر کرائی اور کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے آگےبڑھے۔[1]

’’واقعۂ معراج  کب پیش آیا‘‘

اس میں روایتیں بھی مختلف ہیں اور علماء کے اقوال بھی متعددہیں۔

ایک روایت ہے کہ واقعہ معراج رمضان المبارک میں پیش آیا

ایک قول یہ ہے کہ شوال کا یہ واقعہ ہے ،تیسرا قول یہ ہے کہ ربیعُ الاول میں واقعہ رونما ہوا، چوتھا قول یہ ہے کہ رجب میں معراج ہوئی جمہور علماء نے فرمایا یہ ہجرت سے ایک سال قبل معراج ہوئی ،امام نوری نے پورے جزم و یقین کے ساتھ فرمایا کہ معراج رجب میں ہوئی ۔[2]

ماہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور اس ماہ میں روزہ رکھنا فضیلت کا باعث ہے،یہ  مہینہ حرمت والے مہینوںمیں سے ایک ہے اورنبی ﷺ نے حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنا مسنون فرمایا ہے،ہاں یہ فضیلت اُنہیں کو نصیب ہوتی ہے جو زیادہ اجرو ثواب کے متلاشی ہوتےہیں۔[3]

واقعۂ معراجاس وقت رونما ہوا جب آپ کے چچا ابو طالب اور آپ کی محبوب زوجۂ مطہرہ حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا  وفات پاچکے تھے اور ان دونوں کی وفات سے رسول اللہ ﷺکی بہت سی حمایت اور ظاہری قوت و توانائی میں کمی واقع ہوگئی تھی، دوسری طرف  سفرِ طائف سے آپ کی واپسی پر یہ واقعہ وقوع پزیر ہوا ، جہاں قبیلۂ ثقیف نے آپ کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائی تھیں ،اس طرح آپ کے لیے انسانی مدد و نصرت کے دروازے بند ہوچکے تھے۔

اس وقت آپ نے اپنے خالق و مالک کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔

(اَللّٰھُمَ اِلَیْکَ اَشْکُرْ  ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلیَ النَّاسِ ،یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَ اَنْتَ رَبِّیْ اِلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ؟ اِلیٰ بَعِیْدِ یَتَجَھَّمُنِیْ ؟ اَمْ اِلیٰ عَدُوَّمَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ ؟ اِنْ لَمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ، اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہٗ الظُّلْمَاتُ ، وَ صَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ مِنْ اَنْ تُنْزِلَ بِیْ غَضَبَکَ اَوْیَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبیٰ حَتَیَّ تَرْضیٰ وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ)۔

ترجمہ:اے اللہ میں تجھ سے اپنی ناتوانی ، کم تدبیری اور لوگوں میں بے وقاری کا شکوہ کرتا ہوں ،اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تو ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا بھی رب ہے تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے؟کیا اس بعید و اجنبی کے جو ترشروئی کے ساتھ پیش  آئے ؟یا اس دشمن کے جس کو تونے میرا معاملہ سونپ دیا ہے؟اگر میرے اوپر تیرا غضب نہیں تب تو مجھے کوئی پرواہ نہیں لیکن تیری عافیت میرے لیے بہت زیادہ وسیع ہے ، میں تیرے رُخ ِانوار کی پناہ میں آتا ہوں جس سے تاریکیاں چَھٹ گئیں اور جس سے دنیا وآخرت کے معاملے درست ہوگئے اس سے پناہ مانگتاہوں کہ تو میرے اوپر اپنا غضب نازل فرمائے یا مجھ پر تیری ناراضگی آپڑے ،تیری ہی رضاہیں چاہتا ہوں کہ تو راضی ہو جا ئے اور کوئی طاقت اور کوئی قُوَّت نہیں مگر تجھ سے ہی ہے۔

اس دعا کے بعد صحیح روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا اور رسول اللہ ﷺ کو مطلع کردیا کہ فرشتہ آپ کی دعا پوری کرنے کے لیے مامور ہے اور ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہے لیکن قربان جائیں رسول اللہ ﷺ کی رحمۃُلّلعالمینی پر کہ آپ نے اپنی مقبول دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے  محفوظ کرلی،اس عظیم دن کے لیے جس دن ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہوگا اور ہمارے نبی ﷺ فرمارہے ہوں گے ۔میں ہوں شفاعت کے لیے،اس لیےکہ آپ کے ربّ نے آپ کو یہ منصب و اعزاز عطا فرمادیا ہے نتیجۃََ آپ نے قبیلۂ ثقیف اور قریش کے لیے دعاءِہلاکت نہ فرمائی اس اُمید پر کہ اللہ تعالیٰ ان کی پُشتوں سے ایسی نسلوں کو پیدا فرمائے گا جو اللہ کی عبادت کریں گی۔[4]

’’الاسراء‘‘

نبی اکرم ﷺ کی مذکورہ دعاسے اہلِ کفر کے ظلم و طغیان کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن اس واقعۂطائف کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو معراج کا اعزاز عطا فرمایا اور اس  سفر میں رب تعالیٰ نے آپ کو اپنی عظیم بادشاہی اور بے مثل سلطنت کا مشاہدہ کرایا اور اپنی رِضا عطا کی۔

اس واقعہ سے یہ بھی واضح کرنا تھا کہ اگر اہلِ زمین آپ پر ظلم و جفا کر رہے ہیں تو اہلِ سما ءآپ کا اکرام و اعزاز کر رہے ہیں اور آسمانوں پر فرشتے اور انبیاء علیہم السلام آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔[5]

امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے واقعۂ معراج اس طرح بیان فرمایا ،میں مکہ میں تھا میرے گھر کی چھت کھلی اور جبرائیل  علیہ السلام  نازل ہوئے ۔پھر انہوں نے میرا سینہ کھولا اور اس کو آبِ زمزم سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لائے،یہ طشت حکمت و ایمان سے لبریز تھا ۔پھر اس طشت کو میرے سینے میں انڈیل دیا۔[6]

امام بخاری نے اپنی صحیح میں وضاحت کی ہے کہ شقِ صدر آپکےسینۂ مبارکہ کے نشان (گڑھے) سےشکم کے نیچے کی طرف تھا اور یہ بھی واضح کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مصطفیٰﷺ کے قلب مبارک کو نکالا اور اس کو آبِ زمزم سے دھوکر حکمت و ایمان سے بھر دیا۔[7]

صحیح روایت سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کے شقِ صدر کے واقعات متعدد مرتبہ رونما ہوئے۔

(1)۔مسلم کی روایت کے مطابق پہلا شقِ صدر ایامِ طفولت میں واقع ہوا اور شقِ صدر کے بعد حضرت جبرائیلعلیہ السلام نے قلب مبارک بندھا ہوا خون نکالا اور فرمایا:یہ شیطان کا حصہ ہے۔[8]

(2)۔دوسرا شقِ صدر بعثت کے وقت ہوا یہ خالقِ قدیر کی طرف سے ایک بڑا اکرام و اعزاز تھا اس میں حکمت یہ تھی کہ کامل ترین پاکیزگی کے عالم میں طاقتور قلب کے ساتھ آپ وحی کا استقبال کریں ،اس میں بحیثیت مُبشّر آپ کا یہ  بڑا اعزاز ہے۔

(3)۔تیسرا شقِ صدر لطیف و خبیر کی طرف سے آپ کے اعزاز میں اس وقت پیش آیا جب آپ معراج کے لیے تشریف لےجانے والے تھے،اس میں حکمت یہ تھی کہ آپ اپنے رب کے پاس پوری توانائیکے ساتھ  مناجات کر سکیں۔[9]

علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے توثیق کردی ہے کہ شقِ صدر اور قلب مبارک نکالے جانے اور اس طرح کے دیگر معجزات کو تسلیم کرنا ہر مومن کے لیے فرض ہے، ان میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ یہ سب کچھ قادرِ مطلق کی قدرت کے نمونے ہیں،ابنِ ابو جمرہ بیان کرتے ہیں کہ قادرِ مطلق اور خالقِ کائنات قلبِ مصطفیٰ ﷺ کو شق صدر کے بغیر بھی ایمان و حکمت سے بھر سکتا تھا پھر بھی شقِ صدر ہوا، اس کی حکمت یہ ہے کہ ایمان ویقین کی قوت میں مزید اضافہ ہو جائے، ظاہر سی بات ہے کہ آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ کا شکم مبارک چاک کیا گیا اور اس سے آپ پر کوئی اثر نہ ہوا، اس واقعہ کے بعد آپ خوف  وہراس کی تمام  چیزوں سے اور زیادہ بے خوف ہوگئے،اسی لیے نبی ﷺ سب سے زیادہ شجاع و بہادر اور اپنی وضع اور گفتگو میں سب سے زیادہ بلند تھے۔[10]

صحیح روایت میں ہے کہ نبیﷺ کے پاس بُراق ایسے عالم میں لایا گیا کہ اس کی زِین بھی کَسِی تھی اور لگام بھی پڑی تھی جب رسول اللہ ﷺنے اس پر سواری کا ارادہ کیا تو بُراق نے سرکشی کا انداز اختیار کیا حضرت جبرائیل علیہ السلام بول پڑے کہ تم سیِّدُنا محمد ﷺ کے ساتھ ایسا کر رہے ہو؟تمھارے اوپر ان سے برگزیدہ  ہستی کوئی سوار نہ ہوئی، اس کے بعد وہ پسینہ پسینہ ہوگیا، ابن منیر اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ بُراق کا یہ نَخْرَہ حضور ﷺ کی سواری کے فخر و اعزاز میں تھا ورنہ اس کی کیا مجال تھی کہ سرتابی کرتا، جس طرح پہاڑ جھوم اٹھا تھا جب رسول اللہ ﷺ اس پر چڑھے تھے، ظاہرہے یہ پہاڑ غصہ سے نہ ہلا تھا بلکہ عالمِ طُرب میں جھوم اٹھا تھا۔[11]

پھر آپ اپنے رفیقِ سیر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس )کی سیرپر روانہ ہوئے ،جب آپ وہاں پہنچے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سُوراخ کیااور بُراق کو اس سے باندھ دیا۔[12]

بُراق گدھے سے چھوٹا اور خچر کے برابر ایک سفید رنگ کا چوپایہ ہے اس کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ تا حد ِ نظر اس کا ایک قدم ہوتا ، جب وہ کسی پہاڑ پر پہنچتا تو اس کے دونوں پاؤں بلند ہوجاتے اور جب نیچے کو آتا تو اس کے دونوں ہاتھ بلند ہو جاتے غرض نبی کریم ﷺاس پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے اور مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر آپ باہر تشریف لائے، اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں تین برتن پیش کئے ، ایک برتن میں شراب ،دوسرے میں دودھ اور تیسرے میں پانی ،نبی ﷺ نے دودھ کا برتن منتخب کیا ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کیا آپ نے فطرت کا انتخاب کیا،مزید عرض کیا حضور ﷺ نے شراب منتخب کی ہوتی تو ان کی امت گمراہ ہو جاتی۔نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہدایت کی توفیق بخشی ،صحیح روایت میں ہے کہ جب نمازکا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے انبیاء کرام کی امامت فرمائی ،ان حضرات نے آپ کی تشریف آوری پر مرحباکہا اور مسرت و شادمانی کا مظاہرہ کیا ، اس طرح  امام الانبیاء کے منصب پر فائز ہوئے ، طبرانی نے ’’اُوسَط‘‘ میں نقل کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی نماز میں انبیاء کرام علیہم السلام نبی اعظم ﷺ کو امام بنانے کے لیے سب کے سب ایک دوسرے کی  تائید فرمارہے تھے۔[13]

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو سیر کرائی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گِرد و نواح کو اس نے بابرکت بنایا ابن ابو جمرہ نے نقل کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ تک نبی ﷺکی سیر میں حکمت یہ ہے کہ سید کائنات ﷺ  کے دشمنوں کے اوپر حق پورے طور سے ظاہر ہو جائے ۔اگر آپ مکہ مکرمہ سے براہِ راست آسمانوں پر تشریف لے جاتے تو نبی ﷺ کے دشمنوں کے سامنے بیت المقدس کی تفصیلات اور معلومات بیان کرنے کی کیا شکل ہوتی جن دشمنوں نے بیت المقدس کی جزئیات کے بارے میں سوال کیا تھا وہ پہلے اسے دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ محمد ﷺ نے انہیں نہیں دیکھا ہے ،اس کے بعد جب نبی ﷺ نے بیت المقدس کی جزیات بیان کر کے ان پر حجت قائم کردی تو اب ان کے لیے واقعۂِاسراء کی تصدیق کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہ گیا اور یہ بھی کُھل کر سامنےآگیا کہ اگر یہ لوگ انصاف پسند ہوتے تو سیدُ الانبیاءﷺ کی تصدیق اس کے علاوہ دیگر چیزوں میں بھی کردیتے، اس طرح یہ عظیم تاریخی واقعہ اہل ایمان کی ایمانی طاقت میں اضافہ اور منکرین کی بدبختی کے اضافہ کا سبب بن گیا۔[14]

 

جس وقت سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ پہلے آسمان پر تشریف لے گئے ۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کو دستک دی آواز آئی آپ کے ساتھ کوئی اور ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ،میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں۔

پھر آواز آئی ،کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ،ہاں ان کو بلایا گیا ہے، پھر دروازہ کُھلا ،حضور ﷺبیان فرماتے ہیں :وہاں ہم کیا دیکھتے ہیں،کہ ایک شخص ہے انکی دائیں جانب بہت سے وجودہیں اور بائیں جانب بھی بہت سے وجود ہیں، جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھتے تو خوشی سے ہنستے ہیں اور بائیں طرف نظر کرتے  ہیں رو پڑتے ہیں ،یہ دیکھ کر نبی ﷺنے فرمایا یہ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا ، یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ دائیں بائیں کے وجود ان کی اولاد ہیں ،دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں ،جب وہ اپنی دائیں جانب نظر کرتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں،اور جب اپنی بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رو پڑتے ہیں ، حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام نے اس پہلے آسمان پر مجھے خوش آمدید کہا اور دعا ِٔخیر کی اور یہ الفاظ استعمال فرمائے:(مَرْحَباَ مبِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَ الْاِبْنِ الصَّالِحِ)[15]

ترجمہ: اے نبی صالح خوش آمدید اور اے فرزند ِ دلبند مرحبا۔

پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کو دستک دی ،آواز آئی آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل!پھر سوال ہوا آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا ،محمد ﷺ، پھر آواز آئی کیا ان کو بلایا گیاہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں ،ان کو بلایا گیا ہے۔پھردروازہ کُھلا تو  عالم یہ ہے کہ وہاں خالہ زاد کے دونوں صاحبزادے ،عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام تشریف فرما ہیں ،ان دونوں حضرات نے مجھے خوش آمدید  کہا اور دعا ِٔ خیر کی۔

پھر ہم تیسرے آسمان پر پہنچے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے باِ بِ آسمان کھٹکھٹایا آواز آئی آپ کون ؟انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہےپِھر دروازہ کُھلا،اس آسمان پر ہم کیا دیکھتے کہ یوسف علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضورﷺ فرماتے ہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہااور دعأِ خیر کی۔

پھر ہم چوتھے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس آسمان پر ہم  دیکھتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں حضورﷺ فرماتے ہیں حضرت ادریس علیہ السلام نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔

پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر دروازہ کُھلا، وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تشریف فرماہیں ،انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعأِخیر کی۔

پھر ہم چھٹے آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،پھر آسمان کُھلا ،وہاں ہم دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعأِ خیر کی۔نبی ﷺ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے،آواز آئی ،آپ نے گِریہ کیوں کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،اے میرے رب یہ کتنے کم عمر ہیں ،ان کو تو نے میرے بعد بھیجا اور ان کی امت کے لوگ میری امت سے کہیں زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔

پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ،حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بابِ آسمان کھٹکھٹایا، آواز آئی ،آپ کون ؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ،پھر سوال ہوا، آپ کے ساتھ کون ؟ انہوں نے جواب دیا محمدﷺ پھر آواز آئی کیا انہیں بلایا گیا ہے؟حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا ،ہاں انہیں بلایا گیا ہے،اس کے بعد آسمان کا دروازہ کُھلا ،وہاں میں کیادیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں ۔انکا اندازِ نشیست یہ ہے کہ اپنی پُشت ’’بیت معمور‘‘

کی طرف کئے ہوئے ہیں ،اس ’’بیت معمور‘‘ میں روزانہ ایسے ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کو پھر دوبارہ یہ موقع نہیں ملتا پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتھیٰ تک لے گئے ،اس شجرِمبارک کے پتےّ ہاتھی کے کانوں جیسے اور پھل مٹکے جیسے،حضور ﷺ فرماتے ہیں ،اللہ کے حکم سے اس کو کسی شئے نے ڈھک لیا ،یہ اللہ تعالیٰ ہی جانے۔اس کا عالم ہی بدل گیا ،کسی مخلوق میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی صفت و حسن بیان کر سکے ،پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو وحی کی ۔[16]

’’اس کا نام سدرۃُ المنتھیٰ ‘‘کیوں ہے اس کی وجہ امام نووی نے یہ بتائی ہے کہ ملائکہ کا علم اس سدرہ‘‘تک اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے اور اس کے آگے ہمارے نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہ جاسکا اس لیے اسے ’’سدرۃ المنتھیٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔[17]

وَلَیْلَۃُ الْمِعْرَاجِ اَجْلیٰ آٰیَۃِ         اِذْ سَارَ مِنْ مَّکَّۃَلَیْلَاَ وَّسَریٰ

شب معراج روشن ترین معجزہ ہے، جب آپ مکہ مکرمہ سے رات میں اس سفر پر روانہ ہوئے۔

فَاخْتَرَقَ السَّبْعَ الطِّبَاقَ صَاعِدَا          حَتَّی انْتَھٰی مِنْھَا لِأَعْلیٰ مُنْتَھٰی

آسمان کے ساتوں طبقوں کو چڑھتے ہوئے سدرۃالمنتہیٰ سے کہیں اعلیٰ مقام تک آپ تشریف لے گئے۔

وَائْتَمَّ سُکَّانُ السَّمٰوَاتِ بِہِ         مِنْ مَّلَکِ وَّمِنْ نَبِیِّ مُّجْتَبٰی

آسمان کے سب بسنے والے فرشتے اور برگزیدہ انبیاء آپ کی پیروی میں رہے۔

سَاَیَرَہٗ جِبْرِیْلُ حَتّٰی اَشْرَفَا               مَعَا عَلیٰ بِجَارِ نُوْرِوَّ سَنَا

جبرائیل امین آپ کے رفیقِ سیر رہے اور پھر یہ دونوں حضرات نور کے سمندروں سے گزر کر بلند رفعتوں تک پہنچے۔

فَقَالَ جِبْرِیْلُ تَقَدَّمْ رَاشِدَا        ھَذٰا مَقَامِیْ فِیْ السَّمٰوَاتِ الْعُلَا

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضورﷺ سے عرض کیا آپ اور آگے بڑھیں اپنی منزل کی جانب میں تو اپنی بلند آسمانوں کی آخری منزل تک پہنچ چکا۔

فَاخْتَرَقَ الْأَنْوَارَیَمْشِیْ وَحْدَہٗ         وَالْحُجْبُ تَنْجَابُ لَہٗ حَیْثُ انْتَھٰی

اب  تنھا عالمِ انوار شق کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں اور جس رُخ پرجارہے ہیں حجا بات اُٹھتے جاتے ہیں۔

وَقَامَتِ الْاَمْلَاکُ اِجْلَالَا لَّہٗ         أَمَامَہٗ یَسْعَوْنَ حَیْثُ مَاسَعٰی

آپ کی تعظیم میں فرشتے آپ کے سامنے کھڑے ہو جاتےہیں جہاں آپ تشریف لے جاتے ہیں آپ کے ساتھ فرشتے جاتے ہیں۔

نَادَاہُ فِیْ ذَاکَ الْمَقَامِ رَبُّہٗ          یَاصَفْوَۃَالْخَلْقِ اَدْنُ مِنِّیْ فَدَنَا

بارگاہِ ذولجلال میں آپ حاضر ہوتے ہیں آپ کا رب آپ کو آواز دیتا ہےاے افضل خلق مجھ سے قریب ہوجا  اور آپ قربِ خاص میں پہنچ گئے۔

فَکَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ عُلَا          مَا کَذَبَ اِذْ ذَاکَ الْقُوادُمَارَأیٰ

پھر آپ اس قدر قریب ہوئے کہ قابَ قوسین دو کمانوں کا فاصلہ میں پہنچے،اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی۔

اس قرب خاص میں حبیب کریم ﷺ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں ،اس کے بعد آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام  کے پاس پہنچے ،حضرت  موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا،آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ؟نبی ﷺ نے  فرمایا ،پچاس نمازیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؟آپ اپنے رب کے پاس جائیں اور اس میں کمی کرائیں، کیونکہ آپ کی امت اس کی متحمل نہ ہوگی ، میرے پاس بنی اسرائیل کا تجربہ ہے، نبیﷺ اپنے خالق و مالک کے پاس واپس گئے اور عرض کیا ،میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،میرے رب میری امت کی خاطر نمازوں میں کمی فرمادے ،رب تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردیں ،پھر نبی ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آکر خبر دی کہ میرے رب نے پانچ نمازیں کم کردی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:آپ کی اُمت اس کی استطاعت نہ رکھ سکےگی آپ پھرواپس تشریف لے جائیں اور اس میں کمی کرائیں ،نبیﷺ پھر  اپنے  رب کے پاس حاضر ہوئے اور کم کرنے کے لیے درخواست کی اور اس مرتبہ اور ہر مرتبہ آپ نے یہی عرض کیا ،میری آمت یہ نہ کرسکے گی ،میری امت یہ نہ کرسکے گی، میری امت یہ نہ کرسکے گی،اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آپ واپس آتے رہے اور وہ حضورﷺ کو ان کے رب کے پاس بھیجتے رہے جب بات پانچ نمازوں پر آگئی تو رب تعالیٰ نے فرمایا ،اے محمد ﷺیہ شب و روز میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز کا ثواب دس کے برابر ہے اس طرح یہ پچاس کے برابر ہیں ،اور اسی طرح جس شخص نے ایک  نیکی  کا ارادہ کیا اور پوری نہ کی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی گئی اور اگر نیکی اس نے کر ڈالی تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی گئیں اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور برائی نہ کی اس کے لیے کچھ نہ لکھا گیا اور اگر برائی کر  ڈالی تو اس کے لیے ایک برائی  لکھ دی گئی، اس کے بعد نبی کریم ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے اور یہ تفصیل بتائی ،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ،آپ پھر اپنے رب کے پاس جائیں اور نماز کم کرائیں ،نبی ﷺ نے فرمایا ،میں رب کے پاس کتنی دفعہ جاچکا ہوں اور اب مجھے اس سے حیاء آتی ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی و ضاحت کرتے ہیں کہ شب معراج میں نماز کی فرضیت کی حکمت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس رات میں فرشتوں کی عبادت کا مشاہدہ کیا ہے ،آپ نے دیکھا کہ کچھ فرشتے وہ ہیں جو کھڑے کھڑے عبادت میں مصروف ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم ِ رکوع میں مصروف ِ عبادت ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عالم سجدہ میں ہیں اور سجدہ سے سر نہیں اٹھاتے ،رب تعالیٰ نے عبادت کے یہ انداز آپ کو دیکھائے اور پھر ان سب عبادتوں کو ایک رکعت میں جمع کردیا بشرطیکہ بندہ اطمینان و اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرے۔[18]

نبی گرامیﷺجنت میں تشریف لے گئے تو آپ نے وہاں کا عالم یہ دیکھا کہ جنت کے گنبدموتی کے ہیں اور زمین مشک کی ہے۔[19]

وفی لیلۃ المعراج اعطی منصبا         رفیعا من التشریف لیس یضاھی

شبِ معراج صاحب ِمعراج نبی مکرم ﷺ کو شرف و مَجد کا وہ عظیم مرتبہ ملا جس کا کوئی مقابلہ نہیں۔

رای جنۃ الماوی وما فوقھا ولو          رای بعض مراہ سواہ لتا ھا

آپ نے جنت اور اس کے اوپر کے ایسے مناظر و مشاہد دیکھے کہ ان مسحور کُن مناظر کو اگر آپ کے علاوہ کوئی دیکھتا تو اس کے حواس گم ہو جاتے۔

فما خانہ قلب ولا بصر طغی          ولا زاع عن اشیائ کان یراھا

جو مناظر آپ نے دیکھے دل نے اس کی تصدیق کی اور چشم مبارک ان مناظر کے دیکھنے میں نہ کج ہوئی اور نہ آگے بڑھی۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے ہم شکل تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صفت میں فرمایا، وہ تویل قامت اور گندم گوں تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ مبارکہ کے سلسلے میں فرمایا، ان کا قد درمیانہ اور بال گھنگریالے تھے، اسی ضمن میں حضور ﷺنے دارو غۂ جہنم مالک کا بھی تذکرہ کیا معراج کی تاریخی سیر میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل باروعب صورت میں بھی دیکھا اور ان کی صفت میں فرمایا، کہ جبرائیل علیہ السلام کے پروں کی تعداد ۶۰۰  ہے، کہ سارے ہی پر زبر جد، موتی اور یاقوت سے پروئے ہوئے ہیں اور ان کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ جبرئیل  ان پروں سے اُفَقِ آسمان کو ڈھانپ لیتے ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے آپ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا، یہ کیا بات ہے کہ میں جس آسمان پر پہنچا وہاں والوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور مسرت و شادمانی کا اظہار کیا، علاوہ ایک فرشتہ کہ میں نے اسے سلام کیا اس نے جواب تو دیا اور خوش آمدید بھی کہا لیکن خوش نہ ہوا اور نہ ہنسا؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا، حضور ! یہ خازنِ جہنم مالک ہے، اپنی پیدائش سے لے کر اب تک اسے کبھی ہنسی نہ آئی اگر وہ کسی کے لیے ہنستا تو آپ کے لیے ہنستا اور خوش ہوتا۔

ترمذی نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ: ملائکہ کی جس جماعت کے پاس سے آپ کا گزر ہوا ان سب نے آپ سے عرض کیا کہ آپ اپنی امت کو پچھنے لگانے کا حکم ضرور دیں گے۔[20]

سریت من حرم لیلا الی حرم          کما سری البد رفی داج من الظلم

آپ رات میں ایک حرم سے دوسرے حرم کے لیے اس طرح چلے جیسے چودھویں رات کا چاند سخت تاریکی میں چلا کرتا ہے۔

وبت ترقی الی أن نلت منزلۃ          من قاب قوسین لم تدرک ولم ترم

آپ شب میں مدارجِ رفعت طے کرتے کرتے قاب قوسین کے مرتبہ کو پہنچے جو نہ کسی کو ملا اور نہ کسی نے اس کا قصد کیا۔

وقد متک جمیع الأ نبیاء بھا          والرسل تقدیم مخدوم علی خدم

آپ کو تمام انبیاء و رسل نے امامت کے لیے آگے بڑھایا اس طرح سے جیسے مخدوم کو خادمین پر آگے کیا جاتا ہے۔

وانت تخترق السبع الطباق بھم         فی موکب کنت فیہ صاحب العلم

آپ آسمان کے ساتوں طبقوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے آپ کے ساتھ جو قافلہ تھا اس کے آپ صاحبِ پرچم اور قائدِ اعلیٰ تھے۔

اے اللہ! تو کروڑوں درود اس نبی کریم ﷺ پر نازل فرما اورہمیں ان کی شفاعت کا اعزاز عطا فرما۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے خواب کے چند مناظر میں دیکھا ،یہ بھی حق ہے، ان خرابیوں کو معتبر آئمہ نے اپنی اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے۔ امام بخاری نےنبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: رات میرے پاس دو آنے والے آئے، انہوں نے مجھے اٹھایا اور کہا چلئے میں ان کے ساتھ چل پڑا ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس پہنچے، وہاں ایک دوسرا شخص ایک بڑا پتھر لیے کھڑا ہے اور یکایک وہ اس پتھر کو اس کے سر پر مارتا ہے اور پتھرسے اس کا سر چور چور کر دیتا ہے پتھر نیچے کی طرف گرتا ہے، وہ پتھر کی طرف بڑھتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، یہ شخص پھر اس کے پاس آتا ہے۔ اس کے آتے آتے اس کا سر پہلے کی طرح درست ہوجاتا ہے، پھر یہ شخص اس کو پہلے ہی کی طرح پتھر مارتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے ان فرشتوں سے پوچھا، یہ  دونوں کون ہیں؟ فرشتوں نے کہا آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایسے شخص کے پاس پہنچے، جو چت لیٹا ہوا تھا اور اس کے پاس بھی ایک دوسرا شخص لوہے کی سلاخ لے کھڑا تھا اور یکایک وہ اس کے آدھے چہرے کو سلاخ سے اس طرح کھینچتا کہ اس کے جبڑے کو پھاڑ کر اس کے پیچھے کی گُدی تک اورنرخرہ اور اس کی آنکھ کو بھی گُدی تک پہنچا دیتا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے کہا سبحان اللہ! یہ کون ہے؟ فرشتوں نے پھر مجھ سے کہا آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایسے مقام پر پہنچے جہاں تندور جیسی ایک عمارت تھی وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ شوروغل بپا ہے، حضورﷺ فرماتے ہیں ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر ننگے مرد اور عورتیں ہیں اور آگ کے شعلے ان کے نیچے کی طرف سے آتے ہیں جب یہ شعلے بڑھ کر ان کےپاس آتے ہیں یہ شور مچاتے ہیں حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے ان فرشتوں سے کہا، یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا آگے چلیں، ہم اور آگے بڑھے اور خون جیسی سرخ نہر پر پہنچے، وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ نہر میں ایک تیرنے والا تیرتا ہے اور ایک دوسرا شخص نہر کے کنارے پر ہے جس نے بہت سارے پتھر جمع کر رکھے ہیں، جب وہ تیرنے والا تیرتا ہے پھر وہ شخص آتا ہے جس نے اپنے پاس پتھر جمع کر رکھے ہیں اور تیرنے والا شخص  اپنا منہ کھولتا ہے اور یہ شخص پتھر کا ایک لقمہ دے مارتا ہے، پھر وہ تیرنے لگاتا ہے پھر واپس آتا ہے جب ،جب یہ آتا ہے اپنا منہ کھول دیتا ہے اور دوسرا شخص اس کو ایک پتھر کا لقمہ دے مارتا ہے، حضورﷺ فرماتے ہیں، میں نے فرشتوں سے کہا، یہ دونوں کون ہیں؟ فرشتوں نے کہا آگے چلیں آگے چلیں ،پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو انتہا درجہ کا بد شکل تھا، وہاں ہم نے یہ دیکھا کہ اس کے پاس آگ ہے جسے وہ بڑھکا رہا ہے میں نے فرشتوں سے کہا یہ کیا ہے؟ پھر ان فرشتوں نے کہا آگے چلیں، ہم او ر آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو سبزوں کی زیادتی کے باعث سیاہ تھا اور اس میں فصلِ بہار کی ہر طرح کی کلیاں کِھلی ہوئی تھیں اور اس باغ کے بیچ میں ایک اتنے لمبے انسان ہیں کہ فضا ئے آسمان میں ان کے سر کی بلندی نظر نہ آتی تھی اور کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس اتنی زیادہ اولاد ہےجن کو میں نے کبھی نہ دیکھا تھا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، میں نے فرشتوں سے کہا یہ کون ہیں؟ اور یہ کون لوگ ہیں، ان فرشتوں نے کہا آگے چلیں، آگے چلیں، پھر ہم آگے بڑھے اور ایک اتنے بڑے باغ میں پہنچے کہ اس سے بڑا اور اچھا باغ میں نے کبھی دیکھا نہ تھا، ان فرشتوں نے کہا اس میں آپ اوپر کی طرف جائیں حضور ﷺ فرماتے ہیں، ہم اس کے بلند حصوں کی طرف بڑھے اور ایک ایسے شہر میں پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا ہم اس شہر کے دروازے پر آئے اور دروازہ کُھلوایا دروازہ کُھلا اور ہم اس میں داخل ہوئے، اس شہر میں ہم سے کچھ ایسے لوگ ملے جن کا آدھا جسم نہایت خوبصورت اور حسین تھا اور کچھ ایسے لوگ بھی ملے جن کا آدھا جسم انتہائی بدصورت تھا، حضور ﷺ فرماتے ہیں، فرشتوں نے ان سے کہا تم سب جاؤاور اس نہر میں کود پڑو ،حضور ﷺ فرماتے، ہم وہاں دیکھتے ہیں کہ سامنے ایسی نہر بہہ رہی ہے جس کا پانی دودھ کی طرح سفید، یہ لوگ گئے اور نہر میں کود پڑے، پھر ہمارے پاس ایسے عالم میں واپس آئے کہ ان کی بدصورتی جاتی رہی تھی اور وہ خوبصورت ترین ہوچکے تھے۔

فرشتوں نے بتایا، یہ ’’جنتِ عدن ‘‘ ہے اور یہ ہے آپ کی منزل ، حضور ﷺ فرماتے ہیں ، میری نگاہ اوپر اٹھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ سفید بادل کی طرح ایک محل ہے، فرشتوں نے کہا : یہ آپ کی منزل ہے، میں نے فرشتوں سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکتیں عطا کرے، مجھے اس محل میں جانے دو؟ فرشتوں نے کہا، اب اس وقت نہیں۔ ہاں آپ اس میں ضرور داخل ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ میں نے فرشتوں سے کہا رات میں نے بڑی عجیب عجیب چیزیں دیکھیں، کیا تم بتا سکتے ہو یہ کیا چیزیں تھیں؟ فرشتوں نے عرض کیا، ہاں اب ہم ان کے بارے میں بتائیں گے۔

پہلا وہ شخص جس کے پاس سے آپ گزرے جس کا سر پتھر سے توڑا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآنِ کریم اٹھاتا ہے پھر اس پر عمل نہیں کرتا اور فرض نماز سے غافل ہو کر سوتا ہے۔

دوسرا وہ شخص جس کا جبڑا توڑ کر اس کی گُدی تک اور اس کا نرخرہ اور آنکھ کھینچ کر اس کی گُدی تک پہنچا دی تھی یہ وہ شخص ہے جو صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے اور ایسا جھوٹ بولتا ہے جو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ جاتا ہے۔

رہے وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تندور جیسی عمارت میں تھے یہ سب زنا کار مرد و عورت ہیں۔

رہا وہ شخص جسے آپ نے نہر میں تیرتا اور منہ میں پتھر کے لقمے کی مار کھاتے دیکھا ہے یہ سود خور ہے۔

رہا وہ بد شکل آدمی جو آگ کے پاس آگ بھڑکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ مالک دار وغۂ جہنم ہے۔

رہے باغ کے طویل ترین شخص تو یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے گرد جو اولاد تھی یہ وہ لوگ تھے جن کی موت فطرت پر ہوتی تھی،رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم اچھا اور آدھا جسم بُرا تھا یہ وہ لو گ ہیں جنہوں نے کبھی نیک اعمال کیا اور کبھی برا، اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے۔[21]

سرت من مکۃ الی القدس للعرش           الی حیث شاء ذو الا لاء

آپ نے مکہ مکرمہ سے بیت المقدس ہوتے ہوئے عرش کی سیر کی پھر وہاں سے جہاں نعمتوں والے رب  نے چاہا۔

ببراق لوحا ول البرق إدراک          مداہ لباء بالا عیاء

یہ سیر آپ نے اس بُراق سے فرمائی جس کی بَرق رفتاری کا عالم یہ تھا کہ بَرق بھی اس کی رفتار کے مقابلہ کی کوشش کرتی تو عاجز درماندہ ہوجاتی۔

جزت لما سیرت یا بدر لیلا          سیدرۃ النتھی من الابتداء

اے بدرِکامل رات کے مختصر عرصے میں سدرۃ المنتہیٰ کو آپ نے عبور کیا اور یہ آپ کے اصل سفرکی ابتداء تھی۔

لم تزل ترتقی سماء سماء           لمحل خلا عن الرقباء

آپ مسلسل یکے بعد دیگرے آسمانوں سے گزرتے ہوئے ایسے مقام تک پہنچے جو نگہبانوں سے خالی ہے۔

سر ت بالجسم للسموات والروح          ومرقاک فوق کل ارتقاء

آپ جسم و روح دونوں کے ساتھ آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچے اور آپ کا یہ اوپر کا سفر ہر بلندی کے سفر سے بالاتر ہے۔

وتسامیت مستوی حیت باری         الخلق یجری أقلامہ بالقضاء

آپ اس مرکز سے بھی اور اوپر تشریف لے گئے جہاں خالقِ خلق اپنے قلموں سے فیصلے جاری کرتا ہے۔

ثم أوحی الیک رب البرایا          أی سر فی ذالک الا یحاء

پھر رب کائنات نے آپ کو وحی کی، کتنے ہی راض ہیں اس وحی میں۔

شعراوی نے اپنی کتاب ’’معراج میں ‘‘ نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے معراج میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جو ہر روز فصل لگاتے اور ہر روز فصل کاٹتے ہیں، اور ایسے ہی وہ فصل تیار ہوجاتی ہے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا،  یہ مجاہدین ہیں ان کی نیکیاں بڑھا کر سات سو گُنے تک کر دی جاتی ہیں ۔

اسی طرح نبی ﷺ نے معراج میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کے سر پتھر سے توڑے جاتے ہیں اور جب ٹوٹ جاتے ہیں تو پھر پہلے کی طرح درست ہوجاتے ہیں اور سزا کی اس کاروائی میں کوئی کمی نہیں کی جاتی یعنی عذاب کا یہ سلسلہ پیہم جاری رہتا ہے اور ان لوگوں کے بارے میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور ﷺ کو بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا سر فرض نماز سے بوجھل ہوجاتے تھے۔ اسی طرح نبی ﷺ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے آگے پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے، وہ اس طرح چررہے تھے کہ جیسے اونٹ یا بکریاں چرتی ہیں، اور جہنم کے پتھر وہ کھا رہے تھے، نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں سے زکوٰۃ ادا نہ کرتے تھے۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگوں کا مشاہدہ کیا جن کےسامنے ہانڈی میں پکا ہوا گوشت تھا اور انہیں کے سامنے دوسری ہانڈی میں خبیث اور کچا گوشت تھا، یہ لوگ گچا اور خبیث گوشت کھا رہے تھے اور پاک پکا ہوا گوشت چھوڑ رہے تھے۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سید کائناتﷺ کو ان کے بارے میں بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس جائز اور پاکیزہ عورتیں موجود تھیں مگر وہ خبیث عورتوں کے پاس جا کر زنا کی لعنت میں مبتلا ہوتے تھے، اسی طرح وہ عورت بھی جس کی شادی پاکیزہ مرد سے تھی مگر وہ خبیث مرد کے پاس جا کر زنا کی مرتکب ہوتی تھی۔

اسی طرح شبِ معراج میں نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی کینچی سے کاٹے جاتے تھے اور جب بھی کاٹ دیے جاتے پھر دوبارہ سہی ہو جاتے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج میں ایسے لوگوں کا مشاہدہ کیا جن کے منہ کھولے جاتے اور آگ کے گیند ان کے منہوں میں ڈال دیے جاتے  پھر یہ گیند ان کے نیچے سے باہر نکل جاتے، یہ وہ لوگ تھے جو یتیموں کا مال غلط طور سے کھاتے تھے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾

جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں وہ صرف اور صرف اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور وہ جلد ہی بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔

 

[1] جامع البیان عن تاویل آیۃ القرآن ازامام طبری مطبوعہ دار الفکر بیروت1405ھ ص16,17جلد 15

[2]فتح الباری ازامام ابن حجر عسقلانی مطبوعہ دار الفکر بیروت1411ھ ص 602 جلد 7۔

[3]نیل الاوطارازعلامہ شوکانی ص 333جلد4 مطبوعہ دار الجیل لبنان1973ء۔

[4] صحیح سنن ابن ماجہ ازناصر الدین البانی ص 430-433جلد 3مطبوعہ مکتبۃ تربیۃ العربی لدول الخلیج الریاض:1408مطبع طبع ثالث۔

[5] السیرۃ النبویہ فی ضؤ القرآن و السُنۃ از ابو شہبہ محمد بن محمد مطبوعہ دار القلم دمشق 1412ھ ص 407جلد 1۔طبع ثانی۔

[6] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص 218جلد1مطبوعہ دار الفکر بیروت۔

[7] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص600جلد 7 مطبوعہ دارالفکر بیروت۔

[8] شرح صحیح مسلم از امام نووی ص216جلد ۱ مطبوعہ دارالفکر بیروت۔

[9] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص 604,605 جلد 7۔

[10] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص707 جلد 7۔

[11] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص607 جلد 7۔

[12] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص609 جلد 7۔

[13] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص 609 جلد 7۔

[14] علامہ عسقلانی مرجع سابق ص600 جلد 7۔

[15] مسلم شریف مع شرح امام نووی (طبع بیروت) جلد 1ص 19-218

[16] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 615جلد 7۔

[17] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 615جلد 7۔

[18] فتح الباری از ابن حجر عسقلانی ص 619جلد 7۔

[19] صحیح مسلم ثقہ راویوں کے ساتھ۔

[20] صحیح سنن ترمذی ازمحمد ناصر الدین البانی مکتبۃ تربیۃ العربی لدول الخلیج الریاض: 1408ھ طبع اول ص 204جلد 2۔

[21] صحیح البخاری ص 219-221 جلد 4۔


متعلقہ

تجویزوآراء