ترقی اسے کہتے ہیں جناب

’’ترقی‘‘اسے کہتے ہیں جناب

 

 

(ڈاکڑغلام زرقانی)

 

پہلے شدت پسندی نقصان دہ ثابت ہوئی اور اب اباحیت پسندی ناقابل تلافی نقصانات سے دوچارکرے گی

سعودی عرب کے موجودہ ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان نے چند مہینوں پیشتر مغربی ممالک سے آئے ہوئے چند شخصیات کی موجودگی میں کہاتھا کہ ہم چالیس پچاس سالوں پیشترایسے نہ تھے ،جیسا آج ہمیں سمجھا جارہاہے،لہذا دنیا بہت جلد ہمارےمعاشرے میں بڑی تبدیلی کے آثار ملاحظہ کرے گی۔ہمیں علم ہے کہ تہذیب وتمدن کے حوالےسے جوفضاہمارے ملک میں موجود ہے،وہ نہ تو ہمارے شہریوں کی بڑھتی ہوئی خواہشات کے مطابق ہے اور نہ ہی اقتصادی پسِ منظر میں درست کہے جانے کے لائق ہے۔لہذاہم اعتدال پسند اسلام کی حوصلہ افزائی کریں گے،جوسارے مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی جانب راغب کرے۔

سماجی حلات پرعقابی نگاہ رکھنے والے تاڑگئے تھے کہ اب سعودی عرب میں شدت پسندی ختم ہوجائے گی اور تبدیلی آئے گی،تاہم یہ تووہم وگمان میں نہ تھا کہ اعتدال پسندی کے نام پر مغربی تہذیب وتمدن کی آبیاری شروع ہوجائےگی۔اب یہی دیکھیے کہ فروری کے مہینے میں پہلی بارمغربی ڈانس کا پروگرام منعقد کیاگیا۔عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ فٹ بال میچ سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دی گئی ۔ملک میں فیشن شوکا انعقادہوا۔غیرمحرم کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ملک میں بند پڑے ہوئے سنیماہال دوبارہ کھولے جارہےہیں۔ملک کے پہلے اوپر ہال کی تعمیرریاض میں شروع ہوچکی ہے۔غیرمسلموں کے لیےشراب کی اجازت دینے پر بھی غورہورہاہے۔

خیال رہےکہ یہ کوئی ایک دواستثنائی پروگرامات نہیں ہیں،جنہیں نظرانداز کیا جاسکے،بلکہ یہ سب سرکاری  سر پرستی میں ایک منظم لائحہ عمل کے تحت ہورہاہے۔یقین نہیں آتا تو سینے کہ جزل انڑٹینمنٹ اتھارٹی کی طرف سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ آئیندہ دس سالوں میں۱۶۴ارب ڈالر تفریح پروگرام کی ترویج واشاعت کےلیےمختص کیے گئےہیں۔اس طرح صرف رواں سال میں ۵۰۰ پروگرامات کیے جاےئیں گے ،جن میں امریکی پاپ بینڈ مرون ۵ اور کینیڈین پرفارمرزسرک ڈوسلیل کے پروگرام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر سننے کی سکت ہے توسینے کہ متذ کرہ ادارہ کےسربراہ احمد بن عقیل الخطیب نے کہاہے کہ اللہ نے چاہاتوآپ۲۰۳۰ تک اصل تبدیلی دیکھیں گے۔معاذ اللہ ،خرافات ،لہو ولعب اور اباحیت پسندی کی حوصلہ افزائی اور انہیں اللہ تعالی سے منسوب کرنے کی جرٔات!

اخباری اطلاعات کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے ۵۰۰ بلین ڈالر کی لاگت سے ایک تجارتی شہرآبادکرنے کا منصوبہ بنایاہے،جہاں مردو خواتین آزادانہ ایک دوسرے سے ملاقات کر سکیں گے۔ایک دوسری تخمینی رپورٹ کے مطابق سعودی شہری اپنی چھٹیاں منانے کے لیے ملک سے باہر جاتے تھے اور وہاں تفریحی پروگراموں میں زرمبادلہ خرچ کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۷ میں تقریبادس لاکھ سعودی شہری دبئی اور اس سے ملحقہ ممالک میں گئے، اس لیے موجودہ  انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ ملک کی دولت باہرنہ جائے اور لوگ اپنے  ہی ملک میں تمام ترتفریحی پروگراموں سے لطف اندوز ہوں۔ اسی سلسلے میں بحراحمر کے کنارے سومیل کے احاطے میں تفریحی بیچ کی تعمیر کی جارہی ہے،جو ۲۰۲۲ تک تیار ہوجائے گا۔ سعودی انتظامیہ پرامید ہے کہ اس کے بعد وہ بیرونی سیاحوں کو اپنی جانب راغب کر سکیں گے۔ کہتے ہیں کہ سالانہ  آٹھ ملین سیاح سعودی عرب آتے ہیں،جن میں عام طور پر عمرہ اور فریضہ حج کی ادائیگی کرنے والے ہوتے ہیں، جب کہ متذ کروبالا منصوبوں کے ۲۰۳۰ تک مکمل ہوجانے کے بعد سیاحوں کی تعداد ۳۰ ملین سالانہ تک پہچانے کا ارادہ ہے۔

اور تواور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذہبی علماء کی زبانیں بھی تبدیل ہونے لگی ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی حال ہی میں ولین ٹائن ڈے کے حوالے سے سعودی عالم احمدقاسم الغامدی کے خیالات نگاہوں سے گزرے۔موصوف بڑے ہی طمطراق سے کہتے ہیں کہ ویلن ٹائن ڈے میں کیا خرابی ہے؟اس کےذریعہ لوگ ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔اس لیے اسے ہمارے معاشرے میں بھی منانے کی اجازت ہونی چاہیے،تاکہ ہم مغربی اقدار سے قریب ہوسکیں۔دوسرےلفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اب دین کے تقاضے بھی سرکاری اشارے پر تبدیل ہورہےہیں!ٹھیک ہی ہے،جوچاہے آپ کا قبح کرشمہ سازکرے۔

اب آیئے مرکزی خیالات کی طرف۔دیکھیے یہ الزام میرے سرنہ ڈالیے گاکہ میں نے سعودی معاشرے کوشدت پسند قراردیاہے،بلکہ وہاں کے بڑے خوداعتراف کر رہے ہیں کہ ہم پہلے ایسے نہ تھے اوراب ’اعتدال پسند اسلام‘ کی طرف رخ کررہے ہیں۔ اس لیے اسے بہر کیف ،تسلیم کرہی لیجیے کہ عالمی طاقتیں بھی اور ملکی ارباب اقتدار، سبھی متفق ہیں کہ ملک شدت پسندوں کے زیراثرآگیاہے۔خیال رہے کہ روئےزمین پرموجودمسلمانوں کی اکثریت برسوں سے یہی کہہ رہی ہے کہ شدت پسند خیالات ملت اسلامیہ کی تعمیر میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں،لہذاانہیں اصلاحی مراحل سے گزار کر معتدل بنانے کی کوشش کرنی چاہیے،تاہم احباب یقین ہی نہیں کرتے تھے۔اب جب کہ خودجناب بھی ارشاد فرمارہے ہیں،اس لیے امید ہے کہ کسی کو مجال انکارنہ ہوسکے گا۔یہاں پہنچ کر میں ولی عہد محمد بن سلمان کاصمیم قلب کے ساتھ شکر گزارہوں کہ انہوں نے معاشرے کی بیماری کی تشخیص کرلی ہے،تاہم جو علاج انہوں نے تجویز فرمایا ہے،میرے خیال میں وہ بذات خودایک مہلک بیماری سے کم نہیں ہے۔ یہ بھی کوئی سوچنے کی بات ہے کہ اباحیت پسندی اخلاقی زوال اور معاشرے کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ہے۔ یقین نہیں آتا تو مغربی ممالک میں معاشرتی برائیوں کی وجہ سے خوفناک حالات کا جائزہ لیں۔یہ بات کسی بھی شک وشبہ سے بالاتر ہوکر کہی جاسکتی ہے کہ لوگ صنعتی اعتبار سے توترقی یافتہ ہورہے ہیں،لیکن اخلاقی زوال وپستی کی وجہ سے نہایت ہی تکلیف دہ صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ویلن ٹائن ڈے،ڈیٹنگ،مخلوط تفریحی پروگرام کی اجازت اور فحش لہوولعب کے اہتمامات، سب کے سب آئے دن مغربی معاشرے کی تباہی وبربادی میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔

صاحبو!عقل وفراست پرماتم کرنے کو جی چاہتاہےکہ ایک مسئلہ سے نکل کر اس سے کہیں زیاوہ پیچیدہ اور مہلک مسئلہ کی طرف جانے کی تیاری ہورہی ہے اور احساس تک نہیں ہے۔اے کاش مغربی تہذیب وتمدن کے ظاہری پُرکشش تام جھام سے مرعوب ہونے کی بجائے ،اندرونی تکلیف دہ صورتِ حال پرگہری نگاہ ڈال لیتے تومحسوس ہوتا کہ متذ کرہ اقدامات نہ توملک کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے۔ اور رہی بات اسلامی نقطئہ نگاہ سے تو ان کے غیر اسلامی ہونے میں کوئی شک وشبہ ہے ہی نہیں۔ کسے خبر نہیں کہ ویلن ٹائن ڈے کی آڑ میں کس طرح عصمت وعفت تارتار کی جاتی ہے،ڈانس کے پروگرام میں شرکت کے ناجائز ہونے کےحوالے سے کسے اختلاف ہے؟ سمندری ساحل پرآزادانہ تفریحی اہتمامات شریعت کے کس خانے میں رکھے جانے کے لائق ہیں،یہ کسے بتانے کی ضرورت ہے؟ کوئی شک نہیں کہ سارے مسلمانوں کی پہلی اور  آخری پسند’ معتدل اسلام‘ ہی ہے۔اور میں نہیں سمجھتا کہ ارباب حل وعقد کی نگاہوں سے اعتدال پسند اسلام کے تقاضے کسی طور پوشیدہ رہےہیں۔اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ملک شدت پسندی سے نکل کے اعتدال پسندی کی جانب مائل ہو جائے ، نہ یہ کہ’’ اباحیت پسندی‘‘عام ہوجائے اور ہم نئی نسل کے اسلام سے دور ہونے پرکفِ افسوس ملتے رہ جائیں!

(مضمون نگارحجازفاؤنڈیشن آف امریکہ کے چیئرمین ہیں)


متعلقہ

تجویزوآراء