سیلفی و تصویر کشی کا بڑھتا رجحان

سیلفی و تصویر کشی کے بڑھتے رجحان نے طواف و زیارتِ حرمین جیسی عظیم نعمت کی روح کو متاثر کر دیا۔

مسلمان حرمینِ مقدس کا احترام کرتے ہیں، حرمین سے محبت رکھتے ہیں، وہاں کی زیارت سعادت جانتے ہیں، اسی تمنا میں جیتے ہیں۔ بلاشبہہ کعبے کا دیدار عبادت۔ روضۂ رسول ﷺ کی حاضری سعادت و خوش نصیبی کی بات ہے۔ لوگ اسی آرزو میں عمریں گزار دیتے ہیں۔ پھر جب یہ انعام ملتا ہے تو مسرتوں کا عجب عالَم ہوتا ہے۔ زہے نصیب! یہ سعادت کم عمری میں مل جائے۔ عقیدتوں کے قافلے سوئے حرم رواں دواں ہوتے ہیں۔ کتنے ارمان سے سفرِ حرمین کی تیاری کی جاتی ہے۔ جذبات کا عالم بھی ایسا کہ محسوس قلب سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک طلاطم بپا ہوتا ہے۔ دل و جاں وجد کناں جھک گئے بہرِ تعظیم۔

ایسا مبارک سفر، ایسا تقدس مآب سفر جس کی آرزو میں لمحہ لمحہ انتظار میں گزرتاہے۔ خانۂ خدا کی حاضری؛ درِ محبوبِ ربّ العالمین ﷺ کی حضوری۔

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔

لیکن بعض ایسے عوامل ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ زیارتِ حرمین سعادت مندی لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ اِس مبارک سفر کے آداب ملحوظ رہیں؛ ورنہ سعادتوں کے لمحے کہیں گناہوں کے ابتلا سے اعمال کو ضائع نہ کردیں۔ اِس ضمن میں راقم ایک اہم پہلو اپنے حالیہ سفرِ حجاز کے مشاہدے سے ذکر کرتا ہے؛ جو گزشتہ دنوں [6فروری تا 21فروری2018ء] درپیش ہوا۔

آج کل سیلفی و تصویر کشی و کیمرے کے بے جا استعمال نے انسانی اقدار؛ اخلاقی اطوار اور اعمال کی چاندنی کو گہنا دیا ہے۔ اِس کے بڑھتے رجحان نے کئی نازک لمحات میں خدمتِ انسانی کو فروگذاشت کردیا۔ مثلاً کوئی حادثہ ہوا تو فوقیت انسانی جان بچانے کو ہونی چاہیے؛ لیکن تصویر کشی کے رجحان نے فرض شناسی کو نظر انداز کر کے رکھ دیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہے سفرِ حرمین میں اِس رجحان کی تباہ کاریوں کا جس کے زیرِ اثر اعمال کا توشہ گناہوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ مکۃ المکرمہ میں ایک نیکی کے بدل میں لاکھ نیکی کی بشارت ہے تو ایک گناہ بھی نامۂ اعمال میں کثیر گناہ کے اندراج کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس لیے ایسے کاموں سے بچنے کے جتن کیے جانے چاہییں کہ گناہوں کا دفتر پُر نہ ہونے پائے۔

تحریر: غلام مصطفیٰ رضوی(نوری مشن مالیگاؤں)

راقم نے دیکھا کہ بندگانِ خدا محوِ طواف ہوتے ہیں۔ سیلفی کے شائق دورانِ طواف سیلفی لیتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ طواف محویت کے ساتھ کیا جائے۔ رب کی رحمتیں ہماری سمت متوجہ ہیں۔ مطاف کی مقدس زمین ہمارے اعمال کی گواہی دے رہی ہے۔ میزابِِ رحمت، حطیم، حجرِ اسود، مقامِ ابراہیم سبھی ہمارے طواف کے گواہ بن رہے ہیں، یہ لمحات بڑے اَنمول ہیں۔ یہ بڑی قبولیت کی گھڑی ہے، ایسے قیمتی وقت میں عبادتوں سے نگاہیں موند کر سیلفی نکالنا؛ محض چند احباب کو دکھانے کے لیے ایسے گناہوں کا حرمِ محترم میں ارتکاب بڑی محرومی ہے۔ یہ رجحان گناہ در گناہ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ طبقۂ نسواں بھی محوِ طواف ہوتا ہے، سیلفی لینے والے یہ بھول جاتے ہیں؛ وہ تقدس فراموش کر کے نامعلوم کیسی کیسی تصویر نکال لیتے ہیں۔ ایک گناہ کو کئی گناہ سے اور یوں کثیر گناہ سے بدل لیتے ہیں۔ راقم نے دیکھا کہ اس مرض میں ایک دو اورتین نہیں کثیر نوجوان حتیٰ کہ بعض بوڑھے بھی مبتلا ہیں۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پورا کنبہ کعبہ شریف کی جانب پیٹھ کیے کھڑے ہو کر تصویر بنوا رہا ہے۔ کبھی دورانِ سعی سیلفی لی جا رہی ہے۔ کبھی مروہ کی مقدس وادی میں سیلفی، کبھی صفا کے جلو میں سیلفی۔ جن نشانیوں کے سائے میں دعاؤں کی سوغات پیش کرنی تھی؛ اعمالِ سیاہ کے دھبے دھونے تھے؛ تا کہ یہ دعائیں آخرت کا سرمایہ بنتیں وہاں ایسے اعمال جو شریعت نے ممنوع قرار دیے؛ کی انجام دہی کیا توشۂ آخرت بنے گی؟ یہ سوال بہت اہم ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

عبادت میں حضوریِ قلب درکار ہے۔ تصویر کشی کی فکر نے ریا و دکھاوے کوبڑھاوہ دیا؛ اخلاص کو رُخصت کردیا؛ یکسوئی میسر نہیں؛ موبائلوں کے بے محابا استعمال، بے جا استعمال نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ عبادت ہے؛ روحِ عبادت رُخصت ہوگئی۔ رسم باقی ہے خشیت رُخصت ہوگئی۔ خوفِ خدا معاذاللہ! ایسا نکلا کہ حرم میں بھی دُنیا داری! اللہ اکبر! کاش میری قوم اس کا تصفیہ کرتی اور تصویر کشی کے مرض سے بچتی۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اِس میں کم علم و دنیا دار افراد تو الگ رہے؛ دین دار حتیٰ کہ بہت سے علماو مصلحین بھی مبتلا ہیں جس سے گفتار میں تاثیر نہیں رہی اور دل دنیا دار ہو کر رہ گئے۔ ایسوں کی قیادت فتنۂ ملّتِ بیضا بن گئی ہے۔

روضۂ رسول ﷺ پر حاضری حیات کا غازہ ہے۔ زندگی کا حاصل ہے۔ سعادتوں کی اِس مسافرت میں جب ہم نے دیکھا کہ مواجہ شریف جہاں آواز بلند کرنا اعمال کے ضائع ہونے کا سبب ہے، جس کے احترام میں نصِّ قطعی وارد، جس بارگاہ میں جبریل بھی مؤدب آتے، جہاں جنبشِ لب کشائی کی جرأت کسی کو نہ ہوئی، جہاں اسلاف نے سانسوں کو بھی تھامے رکھا، جہاں دلوں کی دھڑکنوں کو بھی ادب کا پیرہن دیا، جہاں خیالات بھی طہارت مآب رکھے جاتے؛ وہاں دھڑا دھڑ تصویریں کھینچی جا رہی ہیں؛ سلیفیاں لی جا رہی ہیں؛ کیمروں کی کھچاک سے مقدس بارگاہ کے سکوت کو توڑا اور ادب کا رُخ موڑا جا رہا ہے! اللہ اکبر! ہم کہاں آگئے۔ آقا ﷺ نے بلایا؛ اِس احسان کو لمحے میں بھلا دیا؛ کیسا کرم کیا کہ ہم تو طیبہ کے لائق نہ تھے؛ حاضری کا پروانہ دیا اور محبوب ﷺ کے در کے آداب بھی بجا نہ لائے؛ بلکہ غافل ہو کر سیلفیوں میں پاکیزہ لمحات آلودہ کر بیٹھے۔ کاش ہم اپنی اصلاح کرتے اور اِس خطرناک رجحان سے بچ کر قوم کو ادب کا شعور دیتے تو مبارک سفر توشۂ نجات بن جاتا۔ محبوبِ پاک ﷺ کی شفاعت کا مژدہ سنتے اور ادب کے طفیل ہر منزل پر با مُراد ہوتے۔ یہ مصائب کی بجلیاں خرمن پر نہ گرتیں؛ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کر لیں؛ خواص بھی دامنِ تقویٰ کو دھبوں سے بچائیں۔ احترام کی فضا آراستہ کریں۔ ربّ العالمین کی رحمتوں اور محبوبِ پاک ﷺ کی نوازشوں پر تشکر کے موتی لٹائیں۔ تصویر کشی سے حرمین کے تقدس کو بچائیں۔ بے شک ادب حیات ہے۔ ادب عبادت کی روح ہے۔ ادب ایمان کا زیور ہے۔ جو ادب و احترام بجا لایا اس کا سفر بھی سعادتوں کی صبح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ محبوبِ پاک ﷺ کے درِ پاک کی حاضری احترام کے سائے میں نصیب کرے۔

بقولِ اعلیٰ حضرت﷫ ؎

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے، او جانے والے!


متعلقہ

تجویزوآراء