قطب کویت کی رحلت

قُطبِ کویت کی رحلت

تحریر: ملک شیر زمان قادری ضیائی

تاریخِ پیدائش: 1932ء(الکویت)۔

تاریخِ وفات: بروز جمعہ 30؍ مارچ2018ء (نازہ)

تدفین: بروز ہفتہ 31؍مارچ۔

یوں تو اس فانی دنیا میں ہر ذی روح شخص جانے کے لئے ہی آتا ہے لیکن اللہ تبارک و تعالٰیکے کچھ خاص بندے جب یہاں سے کوچ کرتے ہیں تو اپنے پیچھے ایک نہایت ہی وسیع حلقۂ احباب اپنے غم میں مبتلا کر جاتے ہیں۔ جانے والا تو اپنے مالک و خالقِ حقیقی سے ملنے کے لئے بے تاب و مشتاق ہوتا ہے لیکن جنھیں جدائی کا داغِ مفارقت دے کر جا رہا ہوتا ہے وہ کہیں مدت بعد جا کر اس غم نڈھال سے باہر نکلتے ہیں۔ ایسے ہی ہمارے موجودہ دور کی ایک عظیم روحانی علمی سماجی اور قد آور شخصیت فضیلۃ الشیخ حضرت علامہ الحاج سیّد یوسف ہاشم الرفاعی نو راللہ مرقدہ جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کا قلم کانپ رہا ہے اور دل یقین نہیں کر پا رہا کہ واقعی قبلہ رفاعی صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ صرف کویت ہی نہیں بلکہ پورے عالم عرب، یورپ اور ہندو پاکستان و بنگلہ دیش اور افریقہ کے اہل ِمحبّت و عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کو یتیم کر گئے ہیں۔ آپ کے جنازے کا جم غفیر اس بات کی شاہد علامت ہے کہ واقعی رفاعی بابا ہر دلعزیز اور سب کے غم و دکھ میں شریک ہونے والے تھے۔ آپ کی زیارت کرکے قرونِ اولیٰ کی مقتدر شخصیات جن کی ہم زیارت تو نہ کر سکے لیکن ان کے تذکروں سے کتب بھری پڑی ہیں کی یاد تازہ ہو جایا کرتی تھی کی واقعی اللہ والے یقیناً ایسے ہی ہوا کرتے تھے اور ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔

سیّد رفاعی الحمد للہ بیک وقت محدث بھی تھے اور فقیہ بھی، مفسر قرآن بھی، عظیم صوفی و درویش، حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے سیاست دان بھی لیکن عشق مصطفی علیہ الصلاۃ والسلام تو آپ کا ایسا سرمایہ تھا کہ کوئی بات بھی سرکار کے تذکرے کے بغیر نہ ہوتی تھی ۔ جب آپ کے دیوانیہ میں قصیدہ بردہ شریف پڑھا جاتا تھا تو نہ صرف آپ خود جھوم جھوم کے اس سے مستفید ہوتے تھے بلکہ حاضرین کو بھی اپنے ساتھ اس خاص سوغات مستجاب میں شامل کر لیتے تھے یہی وجہ تھی کہ جب بھی کوئی آدمی خواہ وہ عربی ہوتا یا عجمی ایک دفعہ آپ کی مجلس میں شرکت کی سعادت حاصل کرتا تو دوبارہ بلکہ بار بار آتا اور ہر جمعرات کی شام کو شریک مجلس ہونا اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتا ۔ رفاعی بابا کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہر آدمی سے بڑی شفقت اور محبت سے پیش آتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ لوگ جوق در جوق آپ کی طرف کھنچے چلے آتے ۔

فقیر کو آج سے کم و بیش 35 سال پہلے مدینہ طیّبہ میں فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا فضل الرحمٰن قادری مدنی علیہ الرحمۃ کے آستانے میں آپ کی ملاقات و زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ سیّدی فضل الرحمٰن مدنی نے آپ کے اعزاز میں ایک عشائیہ کا اہتمام کیا تھا،جس میں مشائخ مدینہ کے علاوہ اور بھی کافی احباب شامل تھے۔ اس وقت آپ نے اس پروگرام میں فضائل مدینہ منورہ پر ماشاء اللہ ایک پر مغز بیان کیا تھا۔ پھر گردش زمانہ کی روش کے تحت چند سال بعد جب نا چیز کو دولت الکویت جانے کا اتفاق ہوا تو پھر آپ کے آستانۂ عالیہ (دیوانیہ) کی حاضری معمول بن گئی ۔ ہر شبِ جمعہ کو ماشاء اللہ پروگرام بڑھ چڑھ کر ہوتا تھا اور ہر دفعہ کویت سے باہر کی کوئی مصروف دینی شخصیت ضرور تشریف لایا کرتی تھی، جن سے حاضرین خوب محظوظ ہوا کرتے تھے۔

اصل میں رفاعی صاحب کی خدمات کا اس مقالے میں مکمل احاطہ کرنا نہایت ہی مشکل ہے یہ تو مستقبل کا کوئی موّرخ ہی یہ حق ادا کرے گا کے حصّے میں قبلہ رفاعی صاحب کی شخصیت اور خدمات پر اگر پی ایچ ڈی کرنے کا پروگرام بنا تو نا چیز’’ من آنم کہ من دانم‘‘ کے مصداق، صرف اس ضعیف خاتون کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعی کر رہا ہے جو کہ سیّدنا یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے خریداروں میں شامل تھی۔ کسی نے جب اس بوڑھی اماں سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت یوسف کے خریداروں میں مصر کا بادشاہ ’’عزیزِ مصر‘‘ بھی خود آیا ہوا ہے اس کی بے پناہ دولت کے سامنے آپ کی یہ چھوٹی سی پونجی کیا حیثیت رکھتی ہے تو اس مُعزّ ز ماں نے بڑا عارفانہ جواب دیا تھا کہ ہاں مجھے یہ سب کچھ خوب معلوم ہے لیکن میں تو محض یوسف کے خریداروں میں اپنا نام رقم کرانے کی نیت سے آئی ہوں تا کہ کل جب قیامت میں اللہ تبارک و تعالٰی پوچھے گا کہ میرے یوسف کے اس وقت کون کون خریدار تھے تو میرا نام بھی اس فہرست میں شامل ہو گا ۔ یہی مدعا اس وقت اس عاجز و ناتواں کا ہے کہ باوجود شدید علالت کے نہ تو لکھنے کے قابل ہوں اور نہ ہی میری اتنی قابلیت و صلاحیت ہے کہ ایک عجمی ہونے کے ناطے ایک ایسی عرب شخصیت پر کچھ ضبطِ تحریر میں لاؤں کہ جس کے مدّاحوں میں عرب کے بڑے بڑے دانشور، مذہبی سکالرز، مشائخ عظام، اولیائے کرام اور علمائے کرام اس وقت ان کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ رفاعی بابا کی بھرپور مصروف حیات اس بات کی علامت ہے کہ کبھی بھی آپ نے زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا۔ کبھی مریدین میں گھرے ہوئے ہیں تو کہیں مستحقین میں راشن اور کھانے کی اشیا تقسیم کر رہے ہیں، کبھی مطالعہ کر رہے ہیں تو کہیں کچھ تحریر فرما رہے ہیں، کبھی اوراد و وظائف میں مشغول ہیں کبھی دیوانیہ میں حاضرین مجلس کے ساتھ اذکار اور دعا میں شامل توکبھی حج وعمرہ اور زیارتِ مدینہ کے لئے جا رہے ہیں تو کبھی کسی دوسرے عرب ملک دورے پر ،کبھی عجم کے کسی ملک کا پروگرام ہے تو کبھی چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ آہ! ایسی دو راندیش اور غم گسار شخصیت اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔وہ تو اپنے نامۂ اعمال میں بے پناہ حسنات اور لا تعداد صدقۂ جاریہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ۔

میں نے دیکھا کہ آپ کے پاس آنے والا کبھی بھی خالی ہاتھ واپس نہیں گیا ۔ایک دفعہ فقیر سے فرمانے لگے کہ میں جانتا ہوں کہ ہمارے دیوانیہ میں کون شخص محض اللہ جل جلالہ اور رسول ﷺ کی رضا کے لئے آتا ہے، کون کسی دنیاوی کام کے لئے آتا ہے اورکون محض کھانا کھانے کے لئے؛ لیکن میں کسی کو بھی منع نہیں کرتا۔ حتی الوسع میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں آنے والا کوئی بھی خالی ہاتھ نہ جائے۔ ہمارے جَدّ سیّدنا احمد کبیر رفاعی کا یہی معمول تھا اور ہم اس جَدّی طریقے پر گامزن ہیں۔ ہر جمعرات یعنی شبِ جمعہ کو بعد از نمازِ عشا آپ کے دیوانیہ میں سلسلۂ عالیہ رفاعیہ کے اوراد و وظائف کا ذکر ہوتا ہے کچھ اورادِ نبوی ﷺ بھی پڑھے جاتے ہیں اور پھر ’’مدیح نبی فی العربی‘‘ عربی میں نعت شریف پڑھی جاتی ہیں ۔سلسلے کے بعد میرِ محفل قبلہ رفاعی بابا خوب دعا فرمایا کرتے تھے اور پھر لنگر شریف۔ پھر رات گئے تک لوگ اپنی اپنی عرض داشت پیش کرتے رہتے تھے یہی معمولات آپ کے ہمیشہ کے تھے ۔ بعد ا ز نماز فجر بھی مسجد سے آکر باہر دیوانیہ کے صحن میں تشریف فرما ہو جاتے تھے اس وقت بھی لوگ آپ سے مستفیض ہوتے تھے ۔آپ نے کویت میں ایک بہت بڑا عربی مدرسہ ’’مھدالایمان شرعی‘‘ کے نام سے بنایا۔ اس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکول بھی بنوایا تا کہ طلبا کمپیوٹر وغیرہ بھی جان سکیں جس کی آج کل کے دور میں اشد ضرورت ہے ۔ اس میں ایک عظیم الشان مسجد بھی ہے۔ اس مسجد میں شام کے ایک بڑے اچھے شیخ خطیب ہیں عاشق رسول ﷺ ہیں جن کو ماشآء اللہ آقائے نامدار ﷺ کی زیارت بھی مھدالایمان میں ہو چکی ہے۔

جس وقت سعودیہ کے نجدی ملاؤں نے محدثِ حجاز سیّد محمد بن علوی المالکی ﷫ پر مظالم کی انتہا کر دی، ان کا درس حرم مکی میں بند کر دیا اور ان کی تمام کتب ضبط کر لیں اور ان کو مناظرےکے لئے ریاض میں اپنی ملا کمپنی کے سامنے طلب کیا ۔ تو سب سے پہلے کویت کے سیّد رفاعی نے قبلہ مالکی صاحب کی حمایت میں نعرۂ حق بلند کیا اور تقریباً 400 صفحات کی عربی میں کتاب لکھی جس کا بعد میں انگلش اور اردو میں ’’عقائدِ اہلِ سنّت‘‘ کے نام سے ترجمہ شائع ہوا ۔ سیّد رفاعی صاحب نے شیخ مالکی صاحب کو دورۂ کویت کی دعوت دی اور وہ آپ کی دعوت پر دولت الکویت تشریف لائے ۔ائیر پورٹ سے لے کر رفاعی صاحب کے آستانۂ عالیہ منصوریہ تک ان کا شان دار خیر مقدم کیا گیا ۔ پھر ان کے اعزاز میں دیوانیہ میں بھرپور استقبالیہ پروگرام منعقد ہوا جس میں قبلہ مَالکی صاحب نے بڑے مدلل انداز میں قرآن و سنّت ،ائمۂ اربعہ اور جَیّد صوفیاء عظام کے افکار کی روشنی میں عقائد و معمولاتِ اہلِ سنّت بیان فرمائے۔ آج بھی علامہ مَالکی کی یاد گار تصاویر دیوانیہ رفاعی میں آویزاں ہیں۔حضرت علامہ سیّد یوسف رفاعی کی دوسری کتاب ’’تصوف قرآن و سنّت کی روشنی میں‘‘ ہے اس کی تحریر کا سبب کویتی ملا عبدالخالق عبدالرحمٰن کا بد نام زمانہ کتابچہ ’’خرافاتِ صوفیہ ‘‘ ہے جس میں اس نام نہاد محقق نے قطر کے سلف صالحین اور بزرگانِ دین کی عبارات توڑ مروڑ کر پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ معاذاللہ صوفیا کا تواسلام سے کچھ تعلق ہی نہیں ہے۔ رفاعی صاحب نے اپنے احباب کو اس طرف متوجہ کیا کہ کوئی صاحب اس کا رد لکھے لیکن دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے کسی نے بھی یہ کام نہیں کیا بالآخر قبلہ رفاعی صاحب نے خود اس کے جواب کے لئے قلم اٹھایا ۔ ماشاء اللہ آپ نے اس کے تمام الزامات کا جواب تو دیا لیکن اعتدال کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ایک لفظ بھی اخلاق سے گرا ہوا اس کے خلاف نہیں لکھا جیسا کہ وہ اپنی تحریر میں بے ہودہ خرافات لکھ چکا تھا ۔ رفاعی صاحب کی اس کتاب کا بھی اردو ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ آپ کی ایک اہم کتاب ’’شیخ رفاعی کا پیغام علماءِ نجد کے نام ‘‘ گو کہ ضخیم نہیں ہے، لیکن آپ نے اس کتاب میں حرمین شریفین خصوصاً مدینہ المنورۃمیں اہل عقیدت زائرین کے ساتھ نجدیوں کی زیادتی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اس کتاب پر شام کے معروف عالم الدین علامہ ڈاکٹر رمضان سعید بوطی نے تقریظ لکھ کر حق ادا کر دیا ہے۔ کتاب کیا ہے حقیقت کی ترجمان ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں زائرین کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے لیکن ان کے خلاف کچھ کہتے ہوئے یا لکھتے ہوئے مصلحت اور مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں۔ رفاعی صاحب کے حسینی خون نے جوش مارا اور سب مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائی ۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر سعودی حکومت کی طرف سے کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن نجدی مولویوں نے اپنی طرف سے خود ساختہ پابند ی بنا کر لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ وقتاً، فوقتاً آپ کے مقالات کویت کے جرائد میں عالم اسلام کے مسائل پر شائع ہوتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ مولوی عبدالخالق نے آپ کو ٹی وی مناظرہ کا چیلنج دیا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں صوفی صفت آدمی ہوں مناظرہ میرا موضوع نہیں ہے لیکن اگر میں انکار کرتا ہوں تو نجدی سمجھیں گے کہ اس نے فرار کا راستہ اختیار کیا، لہٰذا مجھے چیلنج منظور ہے۔ تاریخ مقرر ہوئی مناظرہ ہوا جس کی ویڈیو ثبوت کے طور پر موجود ہے۔ رفاعی صاحب تحمل مزاجی کے ساتھ دلائل دیتے تھے اور وہ منہ پھٹ زبان دراز ملا شور شرابا کرتا تھا بالآخر تمام حاضرین و سامعین اور ٹی وی انتظامیہ نے رفاعی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کو کامیاب قرار دیا ۔

آپ اکثر پاکستان تشریف لایا کرتے تھے اور مختلف مذہبی پروگراموں میں شرکت فرماتے علما و مشائخ سے ملاقاتیں کرتے اور عوام الناس آپ سے مستفیض ہوتے ۔ ایک دفعہ صحافیوں نے آپ سے پاکستان اکثر آنے کے بارے میں سوال کیا تو جواباً آپ نے فرمایا ویسے تو میں احباب کی دعوت پر حاضر ہوتا ہوں اور دعوت قبول کرنا میرے آقا کریم ﷺ کی سنّتِ مبارکہ ہے اور ساتھ ہی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ معاذ اللہ! پورا عرب اس وقت وہابی ہو گیا ہے جیسا کہ بعض سعودیوں نے یہاں بعض اداروں اور تنظیموں کو چندے کے منہ کھول رکھے ہیں۔ اہل تشیع کو ایران کی طرف سے کھلی فنڈنگ ہوتی ہے جس پر ہمارے خفیہ ادارے مصلحت کی بنا پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اہلِ سنّت کے مدارس و مساجد کی عمارتیں قابل رحم ہیں جب کہ غیر مقلدو اہلِ حدیث کہلانے والوں کی مساجد میں ایئر کنڈیشنڈ چل رہے ہیں، لہٰذا ان کایہ تاثر بھی زائل کرنے کے لئے آتا ہوں کہ نہیں نہیں پہلے کی طرح اب بھی الحمد للہ عرب ممالک میں اہلِ حق، اہلِ سنّت ہی کی اکثریت ہے اور سنّی ہی ہر جگہ سواد ِ اعظم ہیں ۔ہاں وہ دوسری بات ہے کہ وسائل پر اس وقت ان کا تسلط ہے اور اہلِ سنّت صرف اللہ جل جلالہ اور رسول ﷺکے سہارے چل رہے ہیں ۔

ایک دفعہ اخبارات میں خبر چھپی کہ سعودیہ والوں نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ استنبول کے عجائب گھرمیں تاریخی اسلامی تبرکات جو ہیں وہ ہمیں دئیے جائیں وہ ہمارے ہیں ۔ ناچیز نے رفاعی بابا کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تو آپ نے فرمایا کہ میں ان شاء اللہ کل ہی ترکی کے سفارت خانے جاؤں گا اور انہیں آگاہ کروں گا کہ خبر دار بالکل کوئی چیز بھی ان نجدی ظالموں کو نہ دی جائے۔ انہوں نے پہلے بھی کافی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اب بھی یہ ان تبرکات کو حاصل کرکے ضائع کرنا چاہتے ہیں؛ لہٰذا ان پر بھروسہ نہ کیا جائے، مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ۔ ایک مرتبہ جب فقیر عمرہ کرکے اور مدینہ طیّبہ کی زیارت سے مستفیض ہو کر واپس آیا تو حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ جناب اب تو رمضان کے علاوہ بھی پورا سال ساری رات کو حرم نبوی شریف کھلا رہتا ہے زائر ین کے لئے آسانی پیدا ہو گئی ہے تو جواباً آپ نے فرمایا: محبی شیر زمان میں نے سعودیہ کے شاہ عبداللہ کو خط لکھا تھا کہ قبل ازیں خلفائے راشدین، بنو امیّہ، بنو عباس اور سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں کبھی بھی حرم نبوی شریف رات کو بند نہیں ہوا بلکہ حرم مکی کی طرح ساری رات زائرین کے لئے کھلا رہتا تھا اب آپ کے آل شیخ نے اپنی طرف سے صفائی کے نام پر رات کو زائرین کو زیارت سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی اور اس نے فوراً احکامات جاری کر دیے کہ اب رات کو حرم نبوی شریف بند نہیں ہو گا ۔ اس طرح بقیع شریف کی زیارت کے بھی صبح و شام اوقات اب مقرر کروا دیے گئے۔ مدینۂ منورہ میں نجدیوں نے جگہ جگہ حرم نبوی شریف کے لگائے گئے بورڈوں کو ہٹا کر ان کی جگہ مسجد نبوی کے بورڈ لگائے تو ان کے خلاف بھی آپ نے آواز بلند کی کہ سعودیہ کا جو بھی بادشاہ ہوتا ہے وہ اپنے لئے ’’خادم الحرمین الشریف‘‘ کا لقب اختیار کرتا ہے اگر مدینہ طیّبہ حرم نہیں ہے تو پھر ایں لقب چہ معنیٰ دارد؟

پورے کویت میں اہلِ سنّت کے پروگراموں کی سربراہی فرماتے تھے خصوصاً ربیع الاوّل شریف میں آپ کے دیوانیہ کے سامنے پارک میں بڑے سائز کا عربی خیمہ نصب کیا جاتا ہے جس میں بڑی عظیم الشان میلاد الرسول کانفرنس (احتفال مولود نبوی شریف ) کا اہتمام ہوتا ہے اور اس میں عربی، انگلش، اردو اور دیگر زبانوں کے اسکالر اور دانش ور عظمت ِمصطفی اور آمدِ مصطفیٰﷺ کا بیان کرتے ہیں آخر میں قبلہ رفاعی صاحب اپنی پر سوز آواز میں دعا فرماتے تھے اور پھر مختلف قسم کے انواع و اقسام کے کھانوں اور فروٹ سے حاضرین کی تواضوع کی جاتی ہے۔ نیز آپ کی ہی کاوشوں کی وجہ سے بارہ ربیع الاوّل شریف کو کویت کے تمام سرکاری اداروں اور سرکاری و غیر سرکاری کمپنیوں کو عام تعطیل ہوتی ہے؛ نہیں نہیں، بلکہ 27؍ رجب المرجّب کو معراج شریف کی بھی عام تعطیل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کویت کی نجدی برادری کو بڑی تکلیف ہوتی ہے، لیکن کیا کریں بے چارے مجبور ہیں کیوں کہ حکومتِ وقت نے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنا کر اعلان کر دیا ہے۔ جب سعودیہ میں اَبواشریف میں حضور سیّدنا رحمت للعالمین ﷺ کی والدۂ ماجدہ کی قبر مبارک کو شہید کیا گیا تو آپ نے کویت میں منعقد ’’والدین مصطفیٰ کانفرنس‘‘ سے خصوصی صدارتی خطاب فرمایا اور سرکار کے آبا و اجداد کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرکے ان کے مومن و صالح ہونے کے زبردست دلائل دیے۔ آپ کی ہی کاوشوں سے کویت یونیورسٹی کے استاذ نور سوید نے ’’ایمانِ والدین مصطفیٰ‘‘کے موضوع پر عربی میں کتاب لکھی جس کا پاکستان میں اردو ترجمہ شائع کیا گیا۔ پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، گجرانوالہ، سیالکوٹ، دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ ضلع سر گودھا، دارالعلوم محمدیہ حنفیہ بصیر پور ضلع اوکاڑہ،مراڑیاں شریف جامعہ عالمیہ قادریہ ضلع گجرات کاآپ نے دورہ کیا اور دارالعلوم نعیمیہ فیڈرل بی ایریا کراچی میں بھی دو مرتبہ تشریف لے گئے اور اہلِ سنّت کے اداروں کی ہر لحاظ سے حوصلہ افزائی فرمائی۔ کراچی کے ایک بڑے مقامی ہوٹل میں امام احمد رضا کانفرنس میں آپ مہمانِ خصوصی تھے۔ آپ نے فاضل بریلوی کے جذبۂ عشقِ رسول اور نعتیہ شاعری پر سیر حاصل کلام ارشادفرما کر اعلیٰ حضرت﷫ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور صوفی شوکت علی قادری صاحب لاہورکے سالانہ مرکزی پروگرام میں بھی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے۔ لاہور کے اکثر پروگراموں میں ترجمانی کی سعادت جناب سیّد عبدالرحمٰن بخاری صاحب کے حصّے میں آیا کرتی تھی ۔ملتان میں غزالیِِ زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید کاظمی شاہ صاحب﷫ کے مدرسۂ انوارالعلوم میں بھی تشریف لائے اور خطاب فرمایا۔کراچی میں علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے ہاں گلزارِ مدینہ مسجد سولجر بازار میں بھی آئے۔ لاہور میں جب بھی آتے مفتی محمد خان قادری اور علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری نقشبندی صاحب سے علمی موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی۔ نیز سیالکوٹ کی معروف شخصیت الحاج چوہدری محمد رفیق رفاعی آپ کے مریدین میں شامل ہیں۔

دورانِ وزارت اور بعد میں بھی آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میرا مشن وزیری نہیں بلکہ فقیری ہے اور اس پر آپ ہمیشہ کار بند رہے ۔کاش آج کل کے حکومتی وُزرا بھی اپنے عہدوں کو مالِ غنیمت سمجھنے کی بجائے خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائیں کیوں کہ سرکار ِابد قرار ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ کوئی کھا کر خوش ہے اور کوئی کھلا کر مطمئن ہے۔‘‘ جب بھی کسی ملنے والے کے ساتھ بچے ہوتے تو آپ ہر بچے کو ایک دو کویتی دینار اور ٹافی وغیرہ ضرور عطا فرماتے۔ یاد رہے کہ کویتی دینار کی پاکستانی مالیت اس وقت 383 روپے کے لگ بھگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیاوی نعمتوں سے نوازا تھا اور ساتھ ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا دل بھی عطا فرمایا تھا ۔

ایک دفعہ ایک صحافی نے آپ سے سوال کیا کہ جناب آپ بھارت میں دیوبندیوں کے صد سالہ جشن میں بھی گئے تھے وہاں کا کچھ آنکھوں دیکھا حال بتایئے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں انہوں نے مجھے دعوت نامہ بھیجا تھا اور میں گیا تھا جب سٹیج پر ایک غیر مسلم کافرہ اور مشرک عورت بغیر پردے کے آئی تو میں خاموش نہیں رہا میں نے سب سٹیج پر موجود مولویوں کی توجہ دلائی کہ یہ کسی یونیورسٹی یا کالج کا فنکشن نہیں ہے؛ تم لوگوں نے اسلامی روایات کو پامال کیا ہے۔ آہ! صد آہ! اب اس قحط الرجال کے دور میں ایسی شخصیات کہاں ملیں گی۔

اس مختصر مقالے میں آپ کی زندگی کے ہر شعبے پر سیر حاصل بحث کرنا تو ناممکنات میں سے ہے، آخر میں آپ کے مستجابِ دعا ہونے کے بارے میں عرض کرنے کے بعد اپنی تحریر کا اختتام کرتا ہوں۔ بنگلہ دیش کے الحاج سیّدلقمان شاہ آپ کے مخلص عقیدت مندوں میں سے ہیں اور حضرت کی وفات ِحسرت آیات پر بہت زیادہ غمگین ہیں۔آپ نے دو مرتبہ بنگلہ دیش کا دورہ بھی فرمایا ۔ ما شآء اللہ رفاعی نسبت کی برکت سے عشقِ رسولﷺ کے جذبے سے بہرہ مند ہیں۔ آپ کو سرکارِ ابد قرار ﷺ کی زیارت بھی نصیب ہو چکی ہے۔ آپ نے بتایا کہ یہاں کویت میں مقیم ایک بنگالی عورت کی چار پانچ بچیاں ہیں (بیٹے اور بیٹیاں سب اللہ پاک کی دین ہیں)، اس کے سسرال والوں نے اس کو طعنے دیے کہ اگر اس دفعہ بھی تمہارے ہاں بیٹی ہوئی تو تمہاری خیر نہیں ہو گی وہ بے چاری پوچھتے پوچھتے رفاعی بابا کے پاس پہنچی اور روتے ہوئے اپنی روئیداد سنائی۔ حضرت صاحب نے اسے تسلّی دی اور اس کے لئے دعا فرمائی اور اس کو کچھ پڑھنے کے لئے بتایا اور ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی دی کہ اس دفعہ، ان شآء اللہ، اللہ پاک کے فضل و کرم سے تمہارے ہاں بیٹا ہو گا اور اس کا نام میرے نام پر ’’یوسف‘‘ رکھنا ۔ سبحان اللہ! جب اس کو یوسف ملا تو پھر خوشی خوشی آپ کے پاس آئی حالاں کہ پہلے وہ بے چاری روتے روتے آئی تھی۔

ایک ہوتی ہے جگ بیتی اور ایک ہوتی ہے آپ بیتی، اب ناچیز اپنے واقعے کی طرف آتا ہے کہ ایک دفعہ کویت میں میرا بٹوا چوری ہو گیا، پیسے تو زیادہ نہیں تھے لیکن ہر وقت ساتھ آنے والے ڈاکومنٹس، کویت کا ہیوی ڈرائیونگ لائسنس، کرین کا لائسنس انشائیہ، ون ایٹ کا رخصہ، بینک کارڈ، کویت کا شناختی کارڈ، کمپنی کارڈاور سیفٹی کارڈ تھے۔ ہسپتال میں گیا ہوا تھا، جب پتا چلا تو میرے اوسان خطا ہو گئے، فوراً قبلہ رفاعی صاحب کو فون کیا اور صورتِ حال سے آگاہ کیا آپ اس وقت کویت سے باہر گئے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا حجی شیر زمان پیسو ں کو چھوڑو ان شآء اللہ کاغذات سمیت بٹوہ مل جائے گا۔ دعا فرمائی اور ساتھ ہی کچھ پڑھنے کا فرمایا ناچیز پولیس اسٹیشن میں رپورٹ داخل کرانے کے چکر میں تھا اور بڑا ہی پریشان تھا کہ دوسرے دن ہسپتال کے کریانہ سٹور(بقالہ) سے فون آیا کہ اس کمپنی کے اس نام کے کسی آدمی کا بٹوہ یہاں پڑا ہوا ہے آکر لے جاؤ۔ احقر فوراً بھاگا بھاگا وہاں پہنچا تو سوائے پیسوں کے ہر چیز سلامت ملی۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور رفاعی بابا کے لئے دل سے دعائیں نکلیں۔

آپ کے جنازے کی سعادت سیّد عبدالرحمٰن، جو کہ آپ کے نواسے ہیں، ماشآء اللہ کم گو، باشرع با عمل عالم ہیں، کے حصّے میں آئی۔جنازے کا ایک جم غفیر تھا جو کہ کویت کی تاریخ میں شاید ہی کہیں ہوا ہو۔ دیگر آپ کے صاحبزادے سیّد محمد رفاعی ہر شب جمعہ کو ہونے والے پروگرام میں دعا فرماتے ہیں اور پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابو ولید سیّد خالد رفاعی آپ کے ایک اشارے پر ہر وقت جاں نثاری کے لئے تیار رہتے تھے۔آپ کے نواسے اوس تو ہر وقت بابا کے ساتھ رہتے تھے۔ مقالے کا عنوان ناچیز نے’’قطبِ کویت‘‘ تحریر کیا ہے ۔ اہل اللہ کے نزدیک ہر وقت دنیا میں ایک غوث الوقت ہوتا ہے جس کو کچھ لوگ قطبِ افراد بھی کہتے ہیں اور باقی اوتاد، ابدال، نجبا اور ہر علاقے کے قطب اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ’’ولی را ولی می شناسد ‘‘کے تحت مجھے اہلِ بصیرت میں سے ایک صاحب نے ایک دفعہ بتایا کہ کویت کے قطب سیّد یوسف ہاشم الرفاعی ہیں، پہلے وہ مجھے مدینہ المنورہ کے قطب کے بارے میں بتا چکے تھے جس کی وہاں سے باقاعدہ تصدیق ہوئی تھی۔ رفاعی بابا کی مجلس میں آنے والے دیگر عرب اور کویتی حضرات کے علاوہ پاکستان کے چوہدری عبدالرزاق نوری ، چوہدری غلام شبیرکشمیری، ارشد جنجوعہ، سیّد لقمان شاہ اور سیّد اقبال فاروقی انڈیا وغیرہ شامل ہیں؛ جب کہ چوہدری عبدالرزاق صاحب کو دیوانیہ میں الیکٹریکل کام کرنے کی خدمت کا بھی موقعہ مل جاتا ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کے علامہ قاری خلیل احمد رضوی کو آپ نے دیوانیہ میں ایک مرتبہ خطاب کا بھی موقع دیا ۔

کمر کے جرمنی کے آپریشن کے بعد جب آپ کویت کے امیری ہسپتال میں داخل تھے تو ہر وقت عیادت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا جس سے ہسپتال کے عملہ کو آپ کی ٹریٹ منٹ میں دشواری پیش آتی تھی لیکن عقیدت مند تھے کہ وہ ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے تھے اور پھر باہر کمرے کے شیشے سے زیارت کرکے واپس آ جایا کرتے تھے، جب کہ دیوانیہ میں دورانِ علالت اہلیۂ محترمہ نے احتیاط کے طور پر ملاقات پر پابندی لگا رکھی تھی ۔ آخر وہ لمحہ بھی آیا جب بابا ہم سب کو غم گسار چھوڑ کر اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! ناچیز اپنے آپ پر کون کونسی شفقتوں اور عنایتوں کا ذکر کرے ۔ جب آپ کے والدِ محترم سیّد ہاشم رفاعی کا انتقال ہوا تو ان کے ایصالِ ثواب میں آپ نے اپنے گھر میں اندرونِِ خانہ کھانے کا اہتمام فرمایا جس میں چند خاص احباب کو مدعو کیا گیا تھا۔ فقیر بھی ان گداؤں میں شامل تھا۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ شیر زمان! میرے پاس غوثِ اعظم سیّدنا عبدالقادر جیلانی ﷜ کے روضۂ مبارک کی چادر ہے جو کہ سو سالہ پرانی ہے اور مجھے بغداد شریف میں بوقتِ حاضری وہاں آپ کے دربارِ عالیہ سے عطا ہوئی تھی، کسی خاص قادری کودینا چاہتا ہوں اور میں نے اس بارے میں تمہارا انتخاب کیا ہے۔ تم ایسا کرنا کسی ایسے وقت فون کرکے آنا جب دیوانیہ کا وقت نہ ہو یعنی رش نہ ہو ۔ پھر ناچیز آپ کے حکم کے مطابق حاضر ہوا اور خزینۂ غوثیہ سے مستفیض ہوا۔ ابھی وہ مبارک چادر ہمارے گھر میں ہمارے لیے باعثِ افتخار اور باعثِ برکت ہے۔ ایک دفعہ آپ اپنے دیوانیہ کے مکتب یعنی آفس میں کچھ تناول فرما رہے تھے مجھے اشارے سے قریب بلایا، فقیر ادب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے بجائے کرسی کے نیچے ہی بیٹھ گیا تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھ سے کھانے کی چیز ناچیز کے منہ میں ڈال دی اور پھر دوسری مرتبہ اپنے مبارک منہ میں کھاتے ہوئے جو چباتے ہوئے لقمہ آپ کے منہ بھی تھا لعاب سمیت اپنے منہ سے براہِ راست فقیر کے منہ میں ڈال دیا ۔ الحمد للہ علٰی ذالک۔ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ امامیہ مدینہ المنورہ سے سیّدی ضیاء الدین القادری مدنی ﷫ سے نصیب ہوا تھا اور سیّد احمد کبیر رفاعی﷫ کا سلسلۂ عالیہ رفاعیہ کویت سے سیّد یوسف الرفاعی کے توسّط سے مل گیا۔ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے خواب میں آپ کو اپنے گھر میں دیکھا ہے۔ فرمایا الحمد للہ سیّد احمد کبیر کا فیض بھی تمہارے گھرانے کو پہنچ رہا ہے۔ الغرض، آپ کی کون کون سی سخاوتوں اور اداؤں کا ذکر کیا جائے۔ آپ مدینہ عالیہ گئے، ناچیز نے فون کیا تو فرمانے لگے شیر زمان! تم ہمارے ساتھ ہو۔ کراچی امام احمد رضا کانفرنس میں دعا فرما رہے تھے اور احقر نے فون کیا۔ فرمایا: شیر زمان! تم ہمارے ساتھ ہو۔ گزشتہ روز چکوال شہر کے مقامی ہوٹل میں آپ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں جناب الحاج عابد حسین شاہ صاحب نے آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اللہ تعالیٰ ہزاروں لاکھوں کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ان کی مرقدِِ منور پر اور ان کے درجات اعلیٰ سے اعلیٰ فرمائے! آمین بجاہ طہٰ و یٰسین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ) ان کے صدقے اور وسیلۂ جلیلہ سے ہم سب کے حال پر رحم فرمائے ۔ اٰمین!


متعلقہ

تجویزوآراء