مزدوروں کی حوصلہ افزائی

مزدوروں کی حوصلہ افزائی

از:علامہ محمد امجد اعوان

دینِ اسلام نے ہمیں ایسے مزدوروں کا بھی حق ادا کرنے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے کی تاکید کی ہے کہ جن کی خستہ حالی اور اُن کے معمولی نوعیت کے کام کی وجہ سے عام طور پر لوگ اُن کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، اہلِ اسلام ان کی حوصلہ افزائی کریں، دعائے برکت اور دعائے خیر وعافیت کریں، محنت مزدوری کرنے والوں کی شان بہت اعلیٰ ہے، حضرت سیّدنا ابو ہریرہ ﷛ سے روایت ہے: ایک سیاہ رنگت والی عورت مسجد کی صفائی ستھرائی کرتی تھی، جب رسول اللہ ﷺ نے اُسے نہ پایا، تو کچھ دنوں کے بعد اُس کے بارے میں پوچھا، آپ سے عرض کی گئی: اُن کا انتقال ہوگیا، رَحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا:’’جب اُس کا انتقال ہوا تو تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی؟‘‘، سرورِ کونین ﷺ اُس کی قبر کے پاس تشریف لائے اور اُس کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی ( [1] ) ، اس حدیث پر غور کیجیے کہ نبیِ رَحمت ﷺ نے اس قسم کے لوگوں کے ساتھ بھی کیسی شفقت کا برتاؤ فرمایا کہ جن کے کاموں کو اکثر سراہا نہیں جاتا، ہاں بعض لوگ اُن کے کام کی قدر کرتے ہیں، جس طرح نبیِ مكرم ﷺ نے ایسے لوگوں کی خاص طور پرنماز ِ جنازہ ادا فرما كر اُن كی شفاعت فرمائی، پھر فرمایا: ’’یہ قبریں اپنے مکینوں کے لیے اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ اُن کو میری نماز کے سبب منور فرما دیتا ہے۔‘‘ ( [2] )

رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کے احوال کی خبر گیری وعزت افزائی فرماتے اور اُنہیں دعاؤں سے نوازتے تھے، آپ ﷺ نے اپنے خادم حضرت سیّدنا انس بن مالک ﷛ کو دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا دی ہے۔ آپﷺ نے اُن کے لیے بارگاہِ الہٰی ميں عرض کی: ’’اے اللہ! انہیں مال واولاد سے نواز اور اُن میں برکت عطا فرما‘‘، حضرت سیّدنا انس ﷛ انصار میں سب سے مال دار ہوئے، اُن کے بچوں اور پوتوں، نواسوں کی تعداد اُن کی زندگی ہی میں ایک سو بیس سے بھی زیادہ تک پہنچ چکی تھی۔ ( [3] )

اسلام نے انسان کے لیے یہ مقرر فرما دیا کہ معاشرے اور اپنے وطن کی تعمیر وترقی کے لیے ہر اُس کام کو بجا لائے جو لوگوں کے لیے نفع بخش ہو اگرچہ بظاہر اُن کاموں کو معمولی سمجھا جاتا ہو، زمین کی آبادی، عالم کی عقل، تاجر کے مال اور ماہر اشخاص کی موجودگی کی محتاج ہے، کام کاج کرنے والے اُن کاریگروں کی بھی محتاج ہے جو اپنی دست کاری سے اس جہاں کو زینت بخش کر اپنی محنت کی اجرت پاتے ہیں، اس زمین پر آباد لوگوں اور ان سے منسلک چیزوں کی زینت کی بقا، راستوں سے پتھروں کے ہٹادینے، درخت لگانے اور تکلیف دہ چیز کو دور کردینے سے بھی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان کاموں کو انجام دینے والے خوش نصیب لوگوں کا ذکر فرمایا ہے اور اُن کے لیے اجر ِ عظیم کی بشارت دی ہے، حضور ِ اکرم ﷺ نے فرمایا:. ’’تمہارا پتھر، کانٹے دار چیز اور ہڈی وغیرہ تکلیف دہ شے کو راستے سے ہٹا دینا بھیتمہارے لیے صدقہ ہے۔‘‘ ( [4] )

جب کوئی مزدور ہمارا کام صحیح طور پر انجام دے تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے، کہ لوگوں کا شکریہ کرنا اللہ کا شکر کرنا ہے، ان کی ناشکری اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے، نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا تو گویا اُس نے اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہ کیا۔‘‘ علمائے کرام نے فرمایا: اس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جب کوئی کسی پر احسان کرے تو اُسے چاہیے کہ وہ اُس کا شکر یہ ادا کرے اگر وہ احسان کرنے والے کا شکریہ ادا نہیں کرتا تواللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کے اپنے حق میں شکر کو بھی قبول نہیں کرتا۔‘‘ ( [5] )

مملکتیں محنت کشوں کی کوششوں اور اپنے وطن کی خدمت کے جذبے سے اس کی ترقی کے کاموں میں حصہ لینے والے محبِ وطن لوگوں کی محنتوں سے قائم ودائم رہتی ہیں، ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیّبہ کی روشنی میں اپنے ملک کے مزدور طبقہ لوگوں کو اُن کی محنتوں کا بھرپور صلہ دیں، اُن کے کاموں کی قدر کریں، اُن کے احوال سے باخبر رہیں، اُن سے اچھی گفتگو کریں، خندہ پیشانی سے اُن کا خیر مقدم کریں، جو وہ محنت ومشقت سے کام سرانجام دیں ان پر اُن کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں، بیمار ہوجائیں تو اُن کی بیمار پرسی کریں، انتقال کر جائیں تو اُن کی محنتوں کے صلے میں بعدِ موت بھی اُن کے لیے دعا واستغفار اور ایصالِِ ثواب کرکے انہیں فائدہ پہنچاتے رہیں۔

اے اللہ! ہمارے وطن کے مزدوروں، ماہر کاریگروں اور محنت کشوں کی حفاظت فرما، اے اللہ! ہمارے اتحاد واتفاق میں برکتیں عطا فرما، بھلائی وکشادگی کو ہم پر قائم ودام رکھ، امن وسکون اور ترقی عطا فرما، اے اللہ! ہم پر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور اُن ميں دوام عطا فرما، اے اللہ! ہمیں اپنے اور اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے والا بنا، ان کی سنّتوں اور سیرتِ طیّبہ پر عمل کی توفیق عطافرما، اے اللہ! ہم تجھ سے علمِ نافع، تیرے خوف سے ڈرنے والا دل، ذکر ودرود کرنے والی زبان، پاکیزہ وکشادہ رزق، مقبول نیک عمل، بدن کی عافیت اور عمر واولاد میں برکت کا سوال کرتے ہیں، اے اللہ! ہمیں وہ علم عطا فرما جو ہم سب کو فائدہ دے، اے اللہ! ہمیں تقویٰ نصیب فرما، ہمیں پاکیزہ کر دے، ہمارے تمام کاموں کو پار لگا دے، اے اللہ! ہمارے علم میں اضافہ فرما،ہماری نیّتوں کو درست فرما، ہمارے اہل وعیال میں برکت فرما، انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا، ہم سب کے درجات بلند فرما، ہماری نیکیوں میں اضافہ فرما، ہمارے گناہ مُعاف فرما، نیک لوگوں کے ساتھ ہمارا حشر فرما، اے اللہ! ہمارے غم دُور کردے، ہمیں قرض سے نجات دے، ہمارے مریضوں کو صحت یابی دے، ہماری حاجات پوری فرما، اے اللہ! ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائی عطا فرما، ہمیں اپنے عذاب سے بچا، ہمیں پیارے مصطفی ٰ کریم ﷺ کی پیاری دعاؤں سے وافر حصّہ عطا فرما، اے مولائے کریم! ہمیں ایسا بندہ بنا لے کہ ہم تجھے اور تیرے حبیبِ کریم ﷺ کو پسند آجائیں۔ اٰمین یا ربّ العالمین! وَصَلّى الله تَعالٰى علٰى خير خلقهٖ ونُور عَرشهٖ سيّدنا وَمولَانا محمدٍ وعلٰى اٰلهٖ وصحبهٖ اجمعين وبارَك وسلَّم، والحمد لله ربّ العالمين.



([1]) ’’سنن ابن ماجة‘‘ كتاب الجنائز، باب ما جاء في الصلاة على القبر : ۱۵۲۷، ص ـ٢٥٦.

([2]) ’’صحيح مسلم‘‘، كتاب الجنائز، باب الصلاة على القبر: ٢٢١٥، ص ـ٣٨.

([3])’’مسند الإمام أحمد‘‘، مسند أنس بن مالك بن النضر، ر: ۱۲۹۵۲، ٤/٣٧٥.

([4]) ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب البرّ والصلة، باب ما جاء في صنائع المعروف، ر: ۱۹۵۶، صـ٤٥٤.

([5]) ’’معالم السنن شرح سنن أبي داود‘‘، للخَطّابي (ت۳۸۸ﻫ)، كتاب الأدب، باب شكر المعروف، ٤/١١3، حلب: المطبعة العلميّة ١٣٥١ﻫ، ط١.


متعلقہ

تجویزوآراء