ماہ رمضان المبارک ایک تربیتی مہینہ

ماہِ رمضان المبارک ۔۔۔ایک تربیتی مہینہ

از قلم:۔مفتی محمد منظر مصطفی ناز ؔصدّیقی اشرفی

(خطیب:جامع البیت المکرم مسجد، بوناکے، ماریشس ،افریقہ)

ابتدائے آفرینش سے اب تک چلا آرہا ہے کہ جب بھی کوئی اسلام کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کرکے دولتِ ایمان سے مالامال ہوتا ہے تو وہ احکامِ خداوندی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا پابند ہوتا ہے، لیکن یہ راہ اتنی آسان نہیں بلکہ اس راستے میں اس بندے کے سامنے قدم قدم پر رکاوٹیں آتی رہتی ہیں اور اس کا ازلی دشمن شیطان اسے خواہشاتِ نفسانی کی جانب ترغیب دینے کی جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ ایسے حالات میں قوانینِ اسلام پر مکمل طور پر گامزن ہونے اور بارگاہِ خداوندی میں ایک کامل و مخلص مومن بننے کے لیے تربیت ضروری ہے۔

یوں تو سال بھر تربیت کی درس گاہیں کھلی رہتی ہیں اور اسباب بھی مہیا ہوتے ہیں، لیکن ماہِ رمضان المبارک کاخاص طور پراس عظیم مقصد کے لیے انتخاب کیا گیا ہےاور یہ بات بالکل واضح اور حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر روزے، تراویح اور سحری وافطاری کے اصل مقاصد کو سمجھا جائے اور رسمی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھا جائے تو یہ ماہِ مبارک انسان کو دنیائے انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بنادیتاہے۔کیوں کہ قرآنِ مجید میں جہاں روزے کی فرضیت کا بیان ہوا وہاں اس کا فلسفہ یوں بیان ہوا ہے اس سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ﴿۱۸۳﴾ۙ(سورۃ البقرۃ: 183)

اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

’’تقویٰ‘‘ کا معنیٰ ہر ایسے عمل سے بچناہے جو جہنم میں لے جانے کا باعث ہو اور خدا کی نافرمانی کا باعث ہو، روزہ ان کاموں سے دور رکھتا ہے اور یہی بات تقویٰ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ روزہ تقوے کا ذریعہ کیسے بنتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جب روزے کی حالت میں سخت بھوک اور شدید پیاس کے باوجود کھانے پینے سے اجتناب کرتا ہے حالاں کہ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان موجود ہوتا ہے تو اس اجتناب کی بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کے حکم کی تعمیل کا جذبہ ہوتا ہے کیوں کہ وہ گھر کے کسی کونے میں بھی جہاں اسے دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا وہاں بھی کھانے پینے کا تصور بھی نہیں کرتا یہ محض ریاکاری نہیں کہ کسی کو دکھانے کے لیے ایسا کر رہا ہو بلکہ صرف اور صرف اسی ذات کا خوف ہوتا ہے اور اسی کے حکم کی بجاآوری ہوتی ہے جو ہر طرح کا اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

یوں تو روزہ بے شمار فوائد و برکات کا حامل ہے اور یہ فوائد روحانی بھی ہیں جسمانی بھی، اخروی بھی ہیں، دنیوی بھی، لیکن روزے کے اہم اور ہمہ جہتی فوائد جو انسان کی تعمیرِ سیرت میں بنیادی رول ادا کرتے ہیں۔ اطاعتِ خداوندی، صبر واستقامت اورغم خواری و غم گساری جیسی ارفع و اعلیٰ صفات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ جذبہ جب آگے بڑھتا ہے تو انسان ان تمام امور سے اجتناب بھی کرتا ہے جن سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے۔وہ چوری نہیں کرتا، رشوت نہیں لیتا، سود نہیں کھاتا، چغلی، غیبت اور گالی گلوچ جیسے اخلاق بد کا مرتکب نہیں ہوتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ جس ربِّ کائنات نے مجھے اس حالت میں رزقِ حلال سے رکنے کا حکم دیا ہے اور دن کے وقت روزے کی حالت میں مجھ پر کھانا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے یہ تمام کام بھی مجھ پر حرام کیے ہیں اور وجہ یہ بھی ان کی حرمت تو وقتی نہیں بلکہ ابدی ہے۔

چناں چہ جو لوگ اس عظیم مقصد کو پیشِ نظر رکھ کر روزہ نہیں رکھتے ان کے بارے میں رسولِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔

کم من صائم لیس لہ من صیامہ الا الظمأ وکم من قائم لیس لہ من قیامہ الاالسھر۔

کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی (رات کو عبادت کے لیے)قیام کرنے والے ہیں جن کو سوائے شب بیداری اور تھکاوٹ کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

سرکارِ دو عالم ﷺ نے واضح الفاظ میں بتایا کہ اگر روزے کااصل مقصد اور فلسفہ یعنی تقویٰ پیشِ نظر نہ ہو تو محض بھوک اور پیاس کی تکلیف اٹھانا ہے اور کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

پھر جب تقوے کی برکات ماہِ رمضان سے تجاوز کر جاتی ہیں تو بندۂ مومن سال بھر زندگی کے ہر شعبے میں اس تصور کو سامنے رکھتا ہے جو روزے کی حالت میں کھانے پینے سے اجتناب کی صورت میں سامنے رکھا تھا اور وہ ہر برے ناجائز اور حرام کام سے صرف اور صرف اس لیے بچنے کی کوشش کرتا ہے کہ خوفِ خداوندی اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کا جذبہ پیش نظر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ماہِ رمضان المبارک تربیت کے سلسلے میں سب سے پہلے روزہ دار کو اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا خوگر بناتا ہے اور اسے یہ درس دیتا ہے کہ وہ اس وقت تک کامل مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ شریعتِ مطہرہ اس کی خواہش پر غالب نہ آجائے۔اس لیے چاہیے کہ روزے کے ہر ایک تقاضے کو پورا کیا جائے۔اور روزے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر لمحے میں صبر واستقامت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور جب یہ کیفیت پیدا ہو جائے گی تو مسلمان کی نجی و انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی معاملات تک کامیابی اس کے قدم کو چومے گی۔

انسانی زندگی میں بعض اوقات مشکل مقامات آتے ہیں جن سے صرف وہی شخص گزرسکتا ہے جس میں قوتِ برداشت کوٹ کوٹ کر بھری گئی ہو؛ اس لیے جو لوگ صبر کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں وہ نہایت ہمت و استقلال کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں بالخصوص عبادات اور اطاعتِ خداوندی کے سلسلے میں صبر کی ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ اس راستے میں شیطانی جال بچھے ہوتے ہیں اور ان سے بچ نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ جب کوئی مسلمان نماز کے لیے سخت سردی میں بستر سے نکلتا ہے تو شیطان طرح طرح کے وسوسے ڈال کر اسے گرم بستر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو شیطان اس کی خواہش کے گھوڑے کو دوڑانے کی کوشش کرتا ہے اور اسی طرح جب اس سے کوئی نعمت چلی جاتی ہے چاہے وہ انسانی شکل میں ہو یا اس کے علاوہ تو شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور طرح طرح کے خیالاتِ فاسدہ سے اس کو بدعقیدگی کے دلدل میں دھکیلنا چاہتا ہے۔

ان تمام صورتوں میں صبر ہی ایسا عظیم وصف ہے جو اسے راہ راست پر لا سکتا ہے۔

صبر اسے نرم گداز بستر پہ آرام کی بجائے نماز کی طرف متوجہ کرتا ہے۔عیش وعشرت کی زندگی اور ناز و نعمت کے ماحول سے صبر ہی اسے حرام طریقوں کی بجائے حلال ذرائع سے رزق تلاش کرنے کی راہ دکھاتا ہے اور حکم خداوندی پر راضی رہتے ہوئے مصائب پر صبر کرنے سے ہی وہ شیطانی وسوسوں سے بچ سکتا ہے اور صبر کی دولت ماہِ رمضان تقسیم کرتا ہے۔نماز، روزہ، تراویح اور سحری جیسے اہم امور بغیر صبر کے پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتے اور اس صبرکا حصول ماہِ رمضان میں خاص طور سے ہوتا ہے۔

نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

وھو شھر الصبر یہ صبر کا مہینہ ہے ۔ (مشکوٰۃ شریف، صفحہ ۱۷۲)

گویا اس مہینے میں صبر کی تربیت ہوتی ہے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صرف ماہِ رمضان میں صبرکیا جائے اور سال کے باقی مہینوں میں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے۔لہٰذا تربیت کا دوسرا اہم ذریعہ صبر ہو جو ماہِ رمضان کی عظیم سوغات ہے۔ اگر چہ اطاعتِ خداوندی، اتباعِ رسول ﷺ اور صبرجیسے اوصاف حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں، لیکن حقوق اللہ کی ادائیگی کا خوگر بنانے کے لیے اسے سرکارِ دوعالم ﷺ نے ایک اور نام بھی دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ھو شھرالمواساۃ، یہ غم گساری اور غم خواری کا مہینہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تک اصحابِِ ثروت لوگ بھوک اور پیاس کی بھٹی سے نہیں گزرتے، انہیں بھوک اور پیاس کی شدت اور تکلیف کا احساس نہیں ہو سکتا، اس لیے اسلام میں ہر عاقل بالغ مسلمان پر روزہ فرض کیا گیا اور جب تک ایسی حالت پیدا نہ ہو جس میں روزہ رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے؛ ورنہ سب پر روزہ رکھنا لازمی ہے اس کی جگہ فدیہ نہیں دے سکتے اور کوئی مال دار شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس کھانے پینے کا سامان ہے؛ لہٰذا، مجھے روزہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیو ں کہ روزہ فرض کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ بھوک اور پیاس کی شدت سے غربا اور مساکین کی حاجات کو پورا کرنے کا احساس پیدا ہو اور یہ احساس اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک انسان خود ان مراحل سے نہ گزرے۔ ماہِ رمضان امیر وغریب کے درمیان سے امتیاز کی دیوار گرا کر معاشرتی اونچ نیچ کو بھی ختم کر دیتا ہے اور یہی اونچ نیچ کا تصور ہے جو معاشرتی ہم آہنگی کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

اسی طرح نمازِ تراویح اور سحری کھانا شب بیداری کی تربیت کا اہم حصّہ ہے اور جب انسان تراویح پڑھتا ہے تو نمازِ عشا اور سحری کے لیے اٹھتا ہے تو فجر کی نماز کا خوگر ہو جاتا ہے اور یہ دونوں نمازیں باجماعت پڑھنا قیامِ لیل کے قائم مقام ہیں ۔

خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ اگر ماہِ رمضان المبارک کے فلسفے اور مقصد کو پیشِ نظر رکھا جائے تو انسانی تربیت کا اس سے اہم موقع اور کوئی نہیں ہے ۔

اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ مکرم ﷺ کے صدقے اس ماہِ مبارک کے تربیتی پہلو سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین ثم اٰمین!


متعلقہ

تجویزوآراء