ضیائی آرٹیکل  

بریلوی ترجمہ قرآن کا علمی تجزیہ’ پر ایک تنقیدی نظر

‘ بریلوی ترجمہ قرآن کا علمی تجزیہ’ پر ایک تنقیدی نظر تاج الشریعہ حضرت علامہ شاہ محمد اختررضاخان قادری ازہری ‘‘نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم واٰلہ وصحبہ اجمعین’’سیدنااعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے ترجمہ قرآن مسمی بہ ‘‘کنزالایمان’’پر مولوی اخلاق حسین قاسمی کا مضمون‘‘بریلوی ترجمہ قرآن کا علمی تجزیہ’’اخبار‘‘الجمیعہ’’میں قسط وار چھپ رہا ہے، اس مضمو...

ذنب تحقیق وتنقیدکے میزان پر

ذنب تحقیق وتنقیدکے میزان پر حضرت قبلہ علامہ مفتی محمدرمضان گل ترچشتی قادری الفتح اِنَّافَتَحنَا لَکَ فَتحاً مُّبِیناًOلَّیَغفِرَ لَکَ اللہُ مَاتَقَدَّ مَ مِن ذَنبِکَ وَمَاتَاَخَّرَ(الآیت) ‘‘بےشک ہم نے تمہارےلیےروشن فتح فرمادی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشےتمہارےاگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے’’۔الخ(کنزالایمان یہ ہے ترجمہ امام اہلسنّت ،مجدّددین وملّت،عظیم البرکت،اعلیٰ حضرت شیخ العرب والعجم، مفسّرِ اعظم،پروانۂ شمع رس...

مختصر تذکرہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

خلیفہ اول جانشین پیغمبرامیرالمؤمنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نامی "عبداللہ "،"ابو بکر" آ پ کی کنیت اور"صدیق وعتیق"آپ کا لقب ہے۔ آپ قریشی ہیں اورساتویں پشت میں آپ کا شجرہ نسب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے خاندانی شجرہ سے مل جاتاہے ۔ آپ عام الفیل کے ڈھائی برس بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ اس قدر جامع الکمالات اورمجمع الفضائل ہیں کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد تمام اگلے اور پچھلے انسانوں میں سب سے افضل...

اعلیٰ حضرت کی غوثِ پاک سے محبت

اعلیٰ حضرت﷫کی غوثِ پاک﷜سے محبت امام احمد رضا محدث بریلوی﷫کو فخر السادات حضور غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی النورانی﷜سے حیرت انگیز حد تک محبت وعقیدت تھی، آپ تادم زیست بغداد شریف، مدینہ شریف اور کعبہ شریف کی جانب پاؤں پھیلاکر نہیں بیٹھے۔ محبت غوثیت سے لبریز ایک واقعہ محدث اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی﷫کی زبانی سنیے:۔"مجھے کار افتاء پر لگانے سے پہلے خود گیارہ روپے کی شیرینی منگائی اپنے پلنگ پر مجھ کو بٹھاکر اور شیرینی رکھ کر فاتحہ غوثی...

تجارت ایک عبادت

تحریر: مفتی سیّد شجاعت علی قادری ﷫   اسلام دین و دنیا کی بھلائی اور فوز وفلاح کا ضامن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کو اللہ سے صرف طلبِ آخرت کے ساتھ دنیا کی بھلائی بھی مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر نماز میں یہ دعا مانگی جاتی ہے: رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرہ: 201) ترجمہ: اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا۔ ی...

جن کے لیے فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں

تحریر: بشارت علی قادری اشرفی بِسم الله الرَّحْمٰن الرَّحِيمo و الصلاۃ و السلام علٰی سیِّدنا محمَّد و آلہ وصحبہ الاکرمین! کتاب میں درود لکھنے کی فضیلت: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی کتاب میں مجھ پر درودِپاک لکھا جب تک میرا نام  اس کتاب میں رہے گا، ملائکہ اس کے لیے استغفار کرتے رہیں گے۔‘‘ (المعجم الاوسط،ح:1835) سرکارِ دو عالم پر درود پڑھنےکی فضیلت:...

عظیم تحفہ

عظیم تحفہ الطا ف حُسین   ’’تُم آج مجھے کچھ پریشان دِکھائی دے رہے ہو……خیر تو ہے نا؟‘‘ ماجد کی امّی نے اُس کے چہرے کی اُداسی کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔ ’’آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے؛ ایسی تو  کوئی بات نہیں‘‘،  ماجد نے ٹالنے کی کوشش کی۔   بیٹا! تُم اُن آنکھوں کو اتنی آسانی سے دھوکہ نہیں دے سکتے جو تمہارے چہرے کے ایک ایک رنگ کو پہچاننے کا ہُنر جانتی ہیں۔‘‘ و...

بیٹوں کی اقسام

انتخاب ویب ڈیسک: محمد امیر حمزہ قادری ترابی بیٹے پانچ قسموں کے ہوتے ہیں:   پہلے وہ جنھیں والدین کسی کام کو کرنے کا حکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں۔   دوسرے وہ ہیں جنھیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں۔   تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنھیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جت...

بادشاہوں سے بہتر زندگی

اگرقارون کو بتا دیا جائےکہ آپ کی جیب میں رکھا ’’اے ٹی ایم کارڈ‘‘ اُس کے خزانوں کی ان چابیوں سے زیادہ فوائد کا حامل ہے، جنھیں اس وقت کے طاقت ور ترین انسان بھی اٹھانے سے عاجز تھے، تو قارون پر کیا بیتے گی؟ اگر کسریٰ کو بتایا جائے کہ آپ کے گھر کی بیٹھک میں رکھا صوفہ اس کےتخت سےکہیں زیادہ آرام دہ ہے تو اُس کے دل پر کیا گزرے گی؟ اگرقیصرِروم کو بتادیاجائےکہ اس کےغلام شتر مرغ کےپروں سے بنےپنکھوں سےاسےجیسی اورجتنی ہواپہنچایاکرتےت...

دعا کا اثر

دُعا کا اثر الطا ف حُسین   نمازِ عشا کے بعد اُس نے کتابیں اُٹھائیں اور اپنے بستر پر پڑھنے بیٹھ گیا۔ اُسے رات گئے تک پڑھنا تھا ۔۔۔۔۔ یہ اُس کا روز کا معمول تھا ۔اس رات بھی وہ کتاب کھولے ٹمٹماتے دیے کی دھندلی روشنی میں بڑے انہماک سے مطالعے میں مگن تھا۔اُس کی ماں گھر کے کاموں اور نماز سے فارغ ہوکر اُس کی چارپائی کے برابر بچھی چارپائی پر سورہی تھی۔ سبق یاد کرتے کرتے اُسے تھکن کے باعث نیند آ گئی ۔ ’’بایزیدبیٹا!‘‘ سوتے...