ضیائی آرٹیکل  

نیّت عمل سے بہتر ہے

نیّت عمل سے بہتر ہے حضرتِ سیِّدُنا سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ دلکش نشان ہے: «نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ» یعنی ”مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہترہے“۔ [المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث: 5642، ج6، ص185]. ابن حجر مکی ہیتمی فرماتتے ہیں: ”امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا : بن...

عِلْم حاصل کرنا فرض ہے

عِلْم حاصل کرنا فرض ہے حضرتِ سیِّدُنا اَنس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں: «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِم». ”یعنی علم کا حاصل کرناہر مسلمان مرد (وعورت) پر فرض ہے“۔[سنن ابن ماجه، كتاب السنة، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم، باب في طلب العلم، الحدیث: 224، ج1، ص151]. مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ” ہ...

دھوکہ دینے کا نقصان

دھوکہ دینے کا نقصان حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اﷲتعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: «مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا». یعنی: ”جو دھوکہ دہی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔]جامع الترمذي، أبواب البیوع، باب ماجاء في کراهية الغش، الحدیث: 1315، ج3،ص598]. حكيم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”اس (حدیث)سے معلوم ہوا کہ تجارتی چیز میں عیب ...

توبہ کی بنیاد

توبہ کی بنیاد حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم ، نور مجسم صلیﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں: «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» یعنی:” شَرْمِنْدَگی توبہ ہے“۔[سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب ذکر التوبة، الحدیث: 4252،ج5، ص322]. حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : ”چونکہ گزشتہ گناہوں پر نَدَامَتْ(یعنی شرمندگی)توبہ کا رُکنِ اعلیٰ ہے کہ اس پر باقی سارے اَرکان مَب...

گناہوں سے توبہ کرنے کی فضیلت

گناہوں سے توبہ کرنے کی فضیلت حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعودرضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں: «التَّائِبُ مِنْ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ» یعنی: ” گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں“۔ [سنن ابن ماجه، كتاب الزهد، باب ذکر التوبة، الحدیث: 4250،ج 5، ...

روضۂ اقدس کی حاضری

روضۂ اقدس کی حاضری حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ، شاہ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں: «مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي» یعنی ”جس نے میری قبر کی زِیارت کی، اس کے لئے میری شفاعت لازِم ہوگئی“۔[شعب الإیمان، باب في المناسك، فضل الحج والعمرة، الحدیث: 4159، ج3، ص490]. اللہ تعالیٰ قراٰن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : ﴿وَلَوْ اَنَّهُمْاِذظَّلَمُوااَنفُسَهُ...

خوشخبری سناؤ

خُوشخبری سُناؤ حضرتِ سیِّدُنا انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں: «بَشِّرُوا، وَلاَ تُنَفِّرُوا» یعنی: ” خوشخبری سناؤ اور(لوگوں کو )نفرت نہ دلاؤ“۔ [صحیح البخاري، کتاب العلم، باب ما کان النبي صلى الله تعالى عليه وسلم یتخولهم... إلخ، الحدیث: 69، ج 1، ص25]. حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”یعنی لوگوں کو گ...

تکبر کا علاج

تَکَبُّر کا علاج     حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲبن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:«الْبَادِئُ بِالسَّلَامِ بَرِيءٌ مِنَ الْكِبْرِ» یعنی: ” سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے دور ہو جاتا ہے“۔[شعب الإیمان، باب في مقاربةأهلالدین... إلخ،الحدیث: 8407، ج 11، ص201].   حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں: ”جو شخص مسلمانو...

دو ٹوک بات

غازی علم دین شہید غازی عامر چیمہ شہید اور غازی ممتاز قادری شہید جیسے عشاق دیوانہ وار عظمت مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش نہ کرتے توخدا کی قسمہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت کا خدانخواستہ وہی کردار بن جاتا جو عیسائیوں نے فلمز اور کارٹون فلمز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کر دیا مطلب ان کے ہاں اپنے نبی کا کردار ادا کرنا یا ان پر کوئی کارٹون بنا دینا کوئی گستاخی نہیں یہی سب سے بڑی توہین ہے ان وجوہات کی بن...

موت خرید لاؤ

پلیز ! یہ پٹاخے اس بچے کو نہ دلاؤ اس نے میرے بچے کے ہاتھ سے پٹاخے چھین کر پھینک دئیے،ایک عجیب کیفیت طاری تھی اس عورت پر میں بہت حیرت سے اس عورت کو دیکھ رہی تھی لباس اور گفتگو سے وہ بہت پڑھی لکھی معلوم ہوتی تھی۔ میں نے اس عورت کو تسلی دی اور پوچھا :آخر کیوں؟ کیا ہو گیا؟ پھر اس نے قریب میں موجود ایک ریسٹورینٹ میں مجھے بیٹھنے کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی۔ آگے کی کہانی اسی سےسنیے۔ وہ زندگی کی سب خوفناک رات تھی میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے وہ رات ...