کنزالایمان اورتفہیم القرآن

کنزالایمان اورتفہیم القرآن:تجزیاتی مطالعہ

علامہ مولانامحمدصدیق ہزاروی سعیدی ازہری

قرآن مجیدواحدکتاب ہےجس کی تلاوت باعث اجروثواب اوراس پرعمل رفعت وسرفرازی کااہم زینہ ہےیہ کتاب جسمانی اورروحانی بیماریوں سےشفاکااہم ذریعہ بھی ہے۔اورطہارت و تزکیہ کےحصول کی ضمانت بھی۔الہامی کتب کی یہ آخری سوغات کتاب ہدایت ہےاورتقدیس خداوندی ناموس رسالت اور احترام مسلم کی حفاظت کاسامان بھی۔قرآن مجیدکانزول اس زبان میں ہواجواس کےپہلےمخاطبین اوراس رسول معظمﷺکی زبان فیض ترجمان ہےیعنی عربی۔اوریہی بات رحمت خداوندی کاتقاضہ اورحکمتِ الٰہیہ کامطلوب رہی ہےکہ اللہ تعالیٰ کے نمائندے(رسل عظام)اسی زبان کےساتھ تشریف لائے،جوان کی قوم اوراس ماحول میں بسنےوالی قوم کی زبان تھی جہاں ان کومبعوث کیاگیا۔

ارشادخداوندی ہے:

وَمَآاَرسَلنٰامِن رَّسُولٍ اِلَّابِلِسَانِ قَومِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُم ط(سورۃ ابراہیم آیت۴)

’’اورہم نےہررسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجاکہ وہ انہیں صاف بتائے۔

لیکن رسول اکرمﷺنہ صرف خاتم النبین بن کراورختم نبوت کےتاج سےسرفراز ہو کر تشریف لائےبلکہ عالمگیراوردائمی پیغام رسالت آپ کاطُرّۂ امتیازہے۔آپ کی نبوت ورسالت کےدامن رحمت سےوابستہ لوگ قوم نہیں،اقوال ہیں،لغت واحدہ نہیں لغات متعددہ کےحامل ہیں اس لیےجہاں یہ بات ضروری ہےکہ قرآن مجید،تلاوت و قرأت اوراثرآفرینی کےاعتبارسےاپنی اصل زبان (عربی)میں قائم وثابت رہےاورہر قسسم کےدست بُردسےمحفوظ رہےاورعظیم مقصد کےلیےاس کوتحفظ کےحصارمیں لیاجائےاور یوں اعلان کردیاجائے۔

اِنَّانَحنُ نَزَّلنَاالذِّ کرَوَ اِنَّا لَہ‘ لَحٰفِظُونَ O(سورۃ حجرآیت ۹)

’’بےشک ہم نےاُتاراہےیہ قرآن اوربےشک ہم خوداس کےنگہبان ہیں’’۔

وہاں منشائےخداوندی یہ بھی ہےکہ اس کےافادہ واستفادہ کوعام کرنےکےلیےاس کو دوسری زبانوں میں منتقل کیاجائےتاکہ مشرق ومغرب،شمال وجنوب اورعرب و عجم کے لوگ اس کی ہدایت کوحرزجان بناکر’’ھُدًی لِّنَّاسِ’’کےاعلان خداوندی پرمہرتصدیق بھی ثبت کردیں اورکائنات انسانیت ضلالت وگمراہی کی وادیوں میں بھٹکنےکےبجائےشاہراہ ہدایت پرجادۂ پیماں بھی ہوجائے۔اسی عظیم مقصد کےحصول کےلیےدیگرزبانوں کی طرح اردومیں بھی قرآن مجیدکےتراجم لکھےگئےاوربرصغیرکےلوگوں کےلیےقرآن مجیدکی راہ آسان کردی گئی۔کسی مضمون کوایک زبان سےدوسری زبان میں منتقل کرتےہوئےجہاں لغت کاخیال رکھنا پڑتاہےوہاں یہ بات پیش نظررکھنابھی ضروری ہوتاہےکہ ہرزبان کےاپنےتقاضےہوتے ہیں ایک لفظ عربی زبان میں استعمال ہوتاہےلیکن اس کےتغیرات مختلف ہوتےہیں۔جب ہم اس کواردوزبان میں منتقل کرتےہیں تواس بات کاجائزہ لیناضروری ہوتاہےکہ یہاں کونسی تعبیرمناسب ہےاورایسی تعبیرسےبچنالازم ہوجاتاہےجس سےتقدیس خداوندی یا ناموس رسالتﷺپرحرف آئےیامنشائےخداوندی کی نفی ہوتی ہو۔

مثلاًلفظ مکرعربی زبان میں لفظ’’مکر’’فریب اوردھوکہ دہی کےلیےاستعمال ہوتاہےکہاجاتا ہےفلاں شخص بڑامکارہےگویااردوزبان میں یہ لفظ کفارکےلیےتواستعمال کیاجاستکاہے منافقین پرتوچسپاں ہوسکتاہےلیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ستودہ صفات اورسرکاردوعالمﷺ کی ذات والا شان کےلیےاس کااستعمال ممنوع ہے۔اس لیےیہاں خفیہ تدبیر والا ترجمہ کرناہی مناسب اورادب کےتقاضوں کےعین مطابق ہے۔

مثلاًلفظ مکرعربی زبان میں معیوب نہیں کیونکہ اس کامعنی خفیہ تدبیرہےیہی وجہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نےجہاں یہ لفظ مخالفین اسلام کفارکےلیےذکرفرمایاوہاں اپنی ذات کےلیےبھی ذکر فرمایا۔ارشادخداوندی ہے:

وَمَکَرُواوَمَکَرَاللہُط(سورۂ آل عمران:۵۴)

لیکن اردوزبان میں لفظ ’’مکر’’فریب اوردھوکہ دہی کےلیےاستعمال ہوتاہےکہاجاتاہے فلاں شخص بڑامکارہےگویااردوزبان میں یہ کفارکےلیےتواستعمال کیاجاسکتاہےمنافقین پر تو چسپاں ہوسکتاہےلیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ستودہ صفات اورسرکاردو عالمﷺکی ذات والا شان کےلیےاس کااستعمال ممنوع ہے۔اس لیےیہاں خفیہ تدبیروالاترجمہ کرناہی مناسب اور ادب کےتقاضوں کےعین مطابق ہے۔

لفظ’’ضال’’کاایک معنی’’گمراہ’’ہےتواس کےساتھ ساتھ دیگرمعانی بھی ہیں اگریہ لفظ گمراہ لوگوں کےلیےاستعمال کیاجائےتواس سےگمراہی مرادلینااوراردوترجمہ میں لفظ گمراہ کا استعمال ہوگالیکن جب یہی لفظ اللہ کےرسول ﷺ کےلیےاستعمال ہواتویہاں اس معنی کوترک کرنافرض ہوگیاورنہ معاذاللہ ہادی دوجہاں ﷺ کی توہین کاارتکاب ہی نہیں خلاف وضع بات بھی لازم آئےگی کہ جس ذات کوہادی بناکربھیجاگیااس ذات کےلیے اس کے برعکس معنی کااستعمال کرکےمقصدنبوت ورسالت کی نفی کاجرم عظیم بھی لازم آئےگا۔برصغیرمیں مختلف مکاتب فکرکےزعمااورقائدین نےقرآن مجیدکواردومخاطب میں ڈھالنے کی کوشش کی اوربزعم خویش امت کی راہنمائی کاقصدوارادہ کیالیکن یہ بات افسوس سےکہنا پڑتی ہےکہ ان لوگوں کےتراجم میں بعض مقامات مفید ہونےکی بجائےنقصان دہ ثابت ہوئے اور جن ذوات کی عزت واحترام کودین پرعمل کی بنیاد قراردیاگیاتھااور:

’’وَ تُعَزِرُوہُ وَ تُوَقِّروہُ’’۔(سورہ فتح آیت ۹) ترجمہ:۔’’اورسول کی تعظیم وتوقیرکرو’’

ایسےاہم اعلان کےذریعےملتِ اسلامیہ کوناموسِ رسالت اوریہودیوں کی اعتقادی بداعتدالیوں کی طرف:

’’وَمَاقَدَ رُواللہِ حَقَّ قَدرِہٖ’’۔(سورہ انعام آیت۹۱)

ترجمہ:’’اوریہودنےاللہ کی قدرنہ جانی جیسی چاہیےتھی’’۔

کےذریعےاشارہ کرکےامت مسلمہ کوتقدیس خداوندی اورناموس رسالت کےتحفظ کے نورانی پرچم کوتھامنےکی طرف متوجہ کیاگیاتھاان تراجم نےامت مسلمہ کواس سے محرومی کی راہ دکھائی جب کہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فقیہ اسلام مجدددین وملت الشاہ امام احمدرضا خان فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی فکررساکےنتیجےمیں’’کنزالایمان’’کےنام سےایک ایسا ترجمۂ قرآن منصۂ شھودپرجلوہ گرہواجوان تمام خوبیوں کاحامل ہےجن کاکسی ترجمۂ قرآن میں ہوناضروری ہےاوران تمام خرابیوں سےمبراہےجودیگرتراجم میں نظرآتی ہیں۔برصغیرکےتراجم قرآن اورکنزالایمان کےدرمیان تقابلی جائزہ متعددبارعلمائےکرام نےپیش کیااوردلائل کی روشنی میں کنزالایمان کی عظمت اورافادیت کوثابت کیاہے۔

مولانامودودی ایک خاص فکرکےحامل لوگوں کی امارت وقیادت کےمنصب پرفائزہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کاتعارف دیگرممالک میں بھی ہےانہوں نےتفہیم القرآن کےنام سےقرآن مجیدکاترجمہ اورتفسیرلکھی لیکن افسوس!کہ انہوں نےبھی بعض مقامات پر ٹھوکرکھائی اورتقدیس خداوندی اورناموس رسالت کےتقاضوں کونظراندازکرگئے۔

ہم نےاسی سلسلےمیں چندآیات کاانتخاب کیاہےجن کےحوالےسےکنزالایمان اورتفہیم القرآن کاتقابلی جائزہ پیش کیاجارہاہےیقیناًاسےپڑھنےکےبعدکوئی بھی منصف مزاج شخص اس اقرارسےفرارکی راہ اختیارنہیں کرسکتاہےکہ اس سلسلےمیں فکرورضاہی فکررساہے۔

سورۂ بقرہ کی آیت ۱۵میں ارشادخداوندی ہے:

’’اَللہُ یَستَھزِئیُ بِھِم’’ اس کاترجمہ مولانامودودی یوں کیاہے’’اللہ ان سےمذاق کرتاہے’’۔

جب کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ فرماتےہیں۔’’اللہ ان سےاستھزافرماتاہے(جیسااس کی شان کےلائق ہے)’’۔

یقیناًاستھزاکسی کوہلکاسمجھناہے،مذاق کےاندربھی دوسرےکی تحقیرہوتی ہے۔لیکن یہاں استھزاکی اسناد اللہ تعالیٰ کی طرف ہورہی ہے۔اس لیےادب کاتقاضایہی تھاکہ اس کا معنی مذاق نہ کیاجائےیہی لفظ اس سےپہلےآیت نمبر۱۴میں کفارکےقول کےطورپرمذکورہے کہ وہ اپنےشیطانوں کےپاس جاتےہیں توکہتےہیں۔

’’اِنَّمَانَحنُ مُستَھزِؤُنَ’’یہاں اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نےیوں ترجمہ فرمایا۔

’’ہم تویوں ہی ہنسی کرتےتھے’’۔

یہ وہ خوبی ہےجوکنزالایمان کےعلاوہ کہیں اورنظرنہیں آتی کیونکہ کفاریاکسی عام آدمی کا ہنسی مذاق کرناان کی شان کےخلاف نہیں لہٰذااسی لفظ کایہ ترجمہ فرمایالیکن چونکہ ہنسی مذاق کا عمل اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہےلہٰذاآپ نےاللہ تعالیٰ کےحوالےسےیہ ترجمہ نہیں فرمایا۔اس لیےامام بیضاوی رحمتہ اللہ علیہ نےیہاں تفصیلی بحث کرتےہوئےارشادفرمایاکہ اللہ تعالیٰ ان کوان کےاستھزاکابدلہ دیتاہے۔

سورۃ النمل میں ارشادخداوندی ہے:

وَمَکَرُوامَکرًاوَّ مَکَرنَامَکرًا(سورۃ النمل آیت۵۰)

یہاں مودودی صاحب ترجمہ کرتےہیں:

’’یہ چال تووہ چلےپھرایک چال ہم نےچلی’’۔لفظ چال کااللہ تعالیٰ کےلیےاستعمال ذوق سلیم پر کتنابھاری اورادب کی دنیاسےکس قدربیگانہ ہے۔حالانکہ خودمودودی صاحب سورۂ آل عمران میں اس کاترجمہ خفیہ تدبیرسےکرتےہیں توپھرکیاوجہ ہےکہ یہاں آکروہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کےلیےاس کامناسب ترجمہ خفیہ تدبیرہی ہےیقیناًکچھ اعتقادہی کمزوری ہےجس نےنسیان یاذہول کی کیفیت پیداکردی۔اس موقع پراعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ ترجمہ فرماتےہیں:

’’اورانہوں نےاپناسامکرکیااورہم نےاپنی خفیہ تدبیرفرمائی’’۔(سورۃ النمل آیت۵۰)

کتناپُرحکمت اندازہےکفارکےلیےان کےمناسب اورذات باری کےلیےاس کے شایان شان ترجمہ فرمایا۔جبکہ مودودی صاحب نےسورۃ آل عمران میں خفیہ تدبیروالامعنی کیالیکن کفار کےلیےبھی یہی لفظ استعمال کیااوراللہ تعالیٰ کےلیےبھی۔ (دیکھیےتفہیم القرآن سورۂ آل عمران آیت ۵۴)

یعنی نمل میں اللہ تعالیٰ اورکفاردونوں کےلیےلفظ چال کااستعمال اورسورۂ آل عمران میں دونوں کےلیےخفیہ تدبیروالاترجمہ کرکےامتیازکی راہ اختیارکرنےسےبھی گریزکیا۔سورۂ اعراف کی آیت ۹۹میں ارشادخداوندی ہے:

اَفَاَمِنُومَکرَاللہِ ج فَلَایِامَنُ مَکرَاللہِ اِلَّاالقَومُ الخٰسِرُونَ O

یہاں بھی اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کےلیےخفیہ تدبیرکےالفاظ استعمال کررہے ہیں جب کہ مودودی صاحب نےاللہ تعالیٰ کےلیے’’چال’’کالفظ استعمال کیاجبکہ ’’چالباز’’لفظ کااستعمال ایک دین دارمسلمان کےلیےبھی جائزنہیں تواللہ تعالیٰ کی شان کےلیےکیسے مناسب ہوسکتاہے؟یہاں بھی اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کےلیےخفیہ تدبیرکےالفاظ استعمال کررہےہیں جب کہ مودودی صاحب نےاللہ تعالیٰ کےلیے’’چال’’کالفظ استعمال کیاجبکہ’’چالباز’’لفظ کا استعمال ایک دین دارمسلمان کےلیےبھی جائزنہیں تواللہ تعالیٰ کی شان کےلیےکیسے مناسب ہوسکتاہے؟

سورۂ اعراف آیت۸۸میں ارشادخداوندی ہے:

قَالَ المَلاُ الَّذِ ینَ استَکبَرُو مِن قَومِہٖ لَنُخرِجَنَّکَ یٰشُعَیبُ وَالَّذِ ینَ اٰمَنُوا مَعَکَ مِن قَریَتِنَااَولَتَعُودُ نَّ فِی مِلَّتِنَا۔

یہاں اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کاترجمہ اس طرح ہے:

’’اس کی قوم کےمتکبرسرداربولے،’’اےشعیب!قسم ہےکہ ہم تمہیں اورتمہارےساتھ والےمسلمانوں کواپنی بستی سےنکال دیں گےیاتم ہمارےدین میں آجاؤ’’۔

مودودی صاحب یہاں ترجمہ یوں کرتےہیں:

’’اےشعیب!ہم تجھےاوران لوگوں کوجوتیرےساتھ ایمان لائےہیں اپنی بستی سےنکال دیں گےورنہ تم لوگوں کوہمارےدین میں واپس آناہوگا’’۔

غورکیجیےاعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ بھی جانتےتھےکہ’’لَتَعُودُ نَّ’’کامعنی بظاہرواپس آنایا لوٹناہےلیکن آپ کی ایمان افروزبصیرت نےآپ کو’’واپس آنے’’والےترجمہ سےروکا کیونکہ واپسی وہاں ہوتی ہےجہاں سےآدمی جاتاہےتومعاذاللہ حضرت شعیب علیہ السلام پہلے ان لوگوں کےدین پرتھےجوکفرتھا۔اوراب ان کوواپس بلایاجارہاہےاس لیےآپ نے ’’واپس آناہوگا’’کی بجائےیوں ترجمہ فرمایا’’تم ہمارےدین میں آجاؤ’’۔

جب کہ مودودی صاحب نےلکھاہےکہ ورنہ تم لوگوں کوہمارےدین میں واپس آناہوگا۔ مفسرین کرام نےیہاں تفصیلی گفتگو کی ہےجس سےاعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کےترجمہ کنزالایمان کی تصدیق وتائیدہوتی ہے۔

مفسرین نےلکھاہےکہ’’عادیعود’’’’صاریصیر’’کےمعنی میں بھی آتاہےیعنی لوٹنےکی بجائے معنی ’’آنا’’مرادہوتاہے۔

(راقم (محمدصدیق ہزاروی)نےاپنےکتابچہ’’کنزالایمان تفاسیرکی روشنی میں’’مطبوعہ رضا اکیڈمی لاہورمیں اس کی تفصیل نقل کی ہے)

حضرت آدم علیہ السلام کامشہورواقعہ یعنی جنت کےدرخت سےکھانےکےحوالےسےارشاد خداوندی ہے: وَعَصٰی آدَ مُ رَبَّہ’ فَغَوٰی(سورۃ طٰہٰ آیت۱۲۱)

اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نےمقام نبوت کےآداب اورناموس نبی کی حفاظت کوسامنے رکھتےہوئےاس آیت کایوں ترجمہ فرمایا:

’’اورآدم (علیہ السلام)سےاپنےرب کےحکم میں لغزش واقع ہوئی توجومطلب چاہاتھا اس کی راہ نہ پائی’’۔

اس مطلب کےحوالےسےصدرالافاضل حضرت علامہ سیدمحمدنعیم الدین مرادآبادی رحمتہ اللہ علیہ رقم طرازہیں:

’’اوراس درخت کےکھانےسےدائمی حیات نہ ملی پھرحضرت آدم علیہ السلام توبہ واستغفار میں مشغول ہوئےاوربارگاہ الٰہی میں سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کےوسیلےسےدعاکی’’۔(تفسیری حاشیہ خزائن العرفان)

مودودی صاحب نےیوں ترجمہ کیا۔

’’آدم نےاپنےرب کی نافرمانی کی اورراہ راست سےبھٹک گئے’’۔

’’آدم سےاپنےرب کےحکم میں لغزش واقع ہوئی،تاجداربریلی کایہ ترجمہ کوثروتسنیم میں دُھلی ہوئی زبان اورناموس رسالت کےتحفظ کاآئینہ دارہے’’۔جبکہ مودودی صاحب حضرت آدم علیہ السلام کونافرمان قراردےرہےہیں اورراہ راست سےبھٹکاہواقراردےرہےہیں۔یہ ترجمہ عظمت نبوت کےسراسرخلاف اورادب واحترام کی دنیاسےبیگانگی کاثبوت ہے۔

اسی آیت کی تفسیرمیں وہ لکھتےہیں:

’’بس ایک فوری جذبےنےجوشیطانی تحریص کےزیراُبھرآیاتھاان پرذہول کردیااور ضبط نفس کی گرفت ڈھیلی ہوتےہی وہ طاعت کےمقام بلندسےمعصیت کی بستی میں جاگرے’’۔’’معصیت’’اور’’پستی میں گرنے’’کےالفاظ قابل توجہ ہیں۔بلاشبہ انبیائےکرام علیہم الصلوٰۃوالسلام کےبارےمیں یہ الفاظ ان کوعام انسانوں جیسےبشرسمجھنےکی فکرکےعکاس بھی ہیں۔ہم نےچندمثالوں کےذریعےقارئین کویہ بات بتانےکی کوشش کی ہےکہ کنزالایمان کی عظمت ،افادیت،فرق مراتب کالحاظ اوردیگربےشمارمحاسن نےاس ترجمہ کوتمام اردو تراجم میں منفرد مقام عطاکیاہےاوریہ ترجمہ مترجم کےحسن اعتقاد،فکرآخرت اوراللہ تعالیٰ اور رسل عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی محبت اور ان کےمقام ومرتبہ کوسمجھنےکےحوالےسے اپنی مثال آپ ہے۔

تجویزوآراء