جب لوگ نماز ضائع کرنے لگیں

     نماز کو ضائع کرنا چند طور سے ہے۔ نجاست سے پرہیز نہ کرے کپڑے میں اس قدر نجاست ہو جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے یا ناپاک جگہ میں نماز پڑھےیا وضو صحیح طور پر نہ ہویا نماز میں کوئی شرط یا رکن ادا نہ ہو یا معاذاللہ دل طہارتِ باطنی و نورِ ایمانی سے خالی ہو بایں طور کہ اللہ و رسول  جل وعلا و ﷺکی تعظیم سے خالی ہو اور ضروریاتِ دین میں سے کسی امر ضروری دینی مثلاََ اللہ کی پاکی، نبی کے علمِ غیب، یا خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت وغیرہ کا منکر ہو اگر چہ زبان سے کلمہ پڑھتا ہو اور یہ آخری صورت بدترین حالت ہے۔

       جس میں نماز ہی کو رائیگاں کرنا نہیں بلکہ ایمان کو بھی ضائع کرنا ہے۔ آج کل اس کے مصداق وہابیہ، دیابنہ، قادیانی، روافض اور تمام منکرانِ ضروریاتِ دین ہیں۔انھیں کے لئے مخبرصادقﷺنے غیب کی سچی خبر دی:

     ’’سیصلی قوم لا دین لھم‘‘  [1]یعنی ایک ایسی قوم نماز پڑھے گی جس کا دین نہ ہوگا۔

       ان تمام صورتوں میں نماز اصلاََ ہوتی ہی نہیں اگر چہ ظاہری صورت نماز کی دیکھنے میں آتی ہے اور نماز کو رائیگاں کرنے کی یہ صورت بھی ہے کہ اصلاَََ نماز نہ پڑھے اور نماز کو ضائع کرنا یہ بھی ہے کہ رکوع و سجود میں طمانیت جو کہ واجب ہے نہ کرے۔

      اسی طرح واجباتِ نماز میں سے کوئی واجب چھوڑ دینا، یا خشوع و خضوع کے بغیر نماز پڑھنا، ان تمام صورتوں میں تضیع صلٰوۃلازم آتی ہے۔

     ’’بخاری شریف‘‘ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ،انہوں نے دیکھا ایک شخص کو کہ رکوع و سجود کامل طور پر نہیں کررہا تھا جب اس نے اپنی نماز پوری کی تو حضرت حدیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو نے نماز نہیں پڑھی  راوی کا بیان ہے میں گمان کرتا ہوں کہ حضرت حزیفہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا کہ اگر تو اس حالت پر مرا تو سنتِ محمد ﷺ  پر نہ مرے گا۔

     حدیثِ پاک کے الفاظ یہ ہیں:’’عن حذیفہ انہ رأی رجلا لا یتم رکوعہ و لا سجودہ فلما فضی صلاتہ قال لہ حذیفۃ ما صلیت قال؟وحسبہ قال لو مت مت علی غیر سنۃ محمد ﷺ‘‘[2]

     نماز کو ضائع کرنا یہ بھی ہے کہ وقت گزار کر پڑھے،اسی ’’بخاری شریف‘‘ میں حضرت زہدیرضی اللہ عنہ  سے روایت کیا۔وہ کہتے ہیں کہ میں دمشق میں انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ روتے تھے تو میں نے عرض کی کہ آپ کے رونے کا سبب کیا ہے؟ انہوں نے کہا : میں نبی علیہ السلام کے زمانے کی کوئی چیز نہیں پہچانا سوائے اس نماز کے اور یہ نماز بھی ضائع کردی گئی۔

      حدیثِ پاک کے الفاظ یہ ہیں :’’عن عثمان ابن ابی روادا خی عبدالعزیز قال سمعت الزھری یقول دخلت علی انس بن مالک بدمشق وھویبکی فقلت ما یبکیک فقال لا اعرف شیئامما درکت الا ھذہ الصلاۃ قد ضیعت‘‘[3]

      اس حدیث کو نماز کو اس کا  وقت گزار کر ادا کرنے کے بیان میں امام بخاری نے ذکر کی۔نیز طبرانی میں انہیں انس بن مالک  رضی اللہ عنہ سے روایت کی فرماتے ہیں فرمایا حضورﷺنے جو نمازیں ان کے وقتوں پر پڑھے اور اس کا وضو کامل ہو۔اور نمازوں میں قیام خشوع  و رکوع و سجود کامل طور پر کرے تو اس کی نماز سفید چمکتی ہوئی نکلتی ہے کہتی ہے اللہ تیری حفاظت کرےجس طرح تو نے میری حفاظت کی اور جو ناوقت (بے وقت) نماز پڑھے اور وضو کامل نہ کرے اور نہ خشوع و رکوع و سجود تمام کرے تو اس کی نماز نکلتی ہے سیاہ اندھیری، کہتی ہے اللہ تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نے مجھے ضائع کیا یہاں تک کہ جب اس جگہ پر پہنچتی ہے جہاں اللہ چاہتا ہے۔لپیٹ دیجاتی ہے جیسے کہ پُرانا کپڑا لپیٹ دیا جاتا ہے پھر اس نمازی کے منہ پر ماردی جاتی ہے۔

     اسی کے ہم معنی حضرت عبادہ ابن صامت سے مروی ہے اور کعب ابن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرمایا : ہمارے رسول ﷺ جلوہ گر ہوئے اور ہم سات (۷) نفر تھے، چار ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے اور تین ہمارے عربوں میں سے۔ہم لوگ حضور ﷺ کی مسجد پر اپنی کمر ٹکائے تھے،تو فرمایا تم لوگ کس لئے بیٹھے ہو؟ہم نے عرض کیا ہم بیٹھے ہیں نماز کے انتظار میں تو حضور ﷺتھوڑی دیر ٹھہرے پھر ہم پر توجہ فرمائی تو  فرمایا کیا جانتے ہو کہ تمھارا رب کیا فرماتا ہے؟ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا تو جان لو کہ تمہارا رب فرماتا ہے جو پانچوں نمازیں ان کے وقتوں پر پڑھے اور ان نمازوں کی پابندی کرے اور ان کے آداب کی حفاظت کرے اور نمازوں کو ضائع نہ کرے اور نمازوں کو ناحق تساہل  سے ضائع نہ کر ے ، تو اسکےلئے میرے اوپر عہد ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں اور جو ان نمازوں کو ان کے وقتوں پر نہ پڑھنے اور ان کے آداب کی حفاظت نہ کرے اور ناحق تساہل سے انہیں ضائع کر دے تو اس کیلئے میرے اوپر کوئی عہد نہیں۔چاہوں تو عذاب دوں اور چاہوں تو بخش دوں۔

     حدیث پاک کے الفاظ یہ ہیں:’’و عن انس بن مالک قال ،  قال رسول اللہ ﷺ من صلی الصلاۃ لوقتھا واسبغ لھا وضوء ھا و اتم لھا قیامھا و خشوعھا و رکوعھا و سجود ھا خرجت وھی یبضاء مسفرۃ تقول حفظک اللہ کما حفظتنی ومن صلی لغیر وقتھا و لم یسبغ لھا وضوء ھا و لم یتم لھا خشوعھا و لا رکوعھا و لا سجودھا خرجت وھی سوداء مظلمۃ تقول ضیعک اللہ کما ضیعتنی حتیٰ اذا کانت حیث شاء اللہ لفت کما یلف الثوب الخلق ثم ضرب بھا وجھہ رواہ الطبرانی فی الاوسط فیہ عباد نب کثیر و قد اجمعوا علی ضعفہ۔قلت ویاتی حدیث عبادۃ بنحو ھذا فی باب من لایتم صلاتہ و یسئ رکوعھا و عن کعب بن عجرۃ قال خرج علینا رسول اللہ ﷺو نحن سبعۃ نفراربعۃ من موالینا و ثلاثۃ من عربنا مسندی ظھورنا الی مسجدہ فقال ما اجلسکم؟ قلنا جلسنا ننتظر الصلاۃ قال فأرم قلیلا ثم اقبل علینا فقال ھل تدرون ما یقول ربکم ؟ قلنا لا قال فان ربکم یقول من صلی الصلوات الخمس لوقتھا و حافظ علیھا و لم یحافظ علیھا  وضیعھا  اتخفافا بحقھا فلا عھد لہ علی ان شئت عذبتہ و ان شئت غفرت لہ‘‘[4]

     اس حدیث کو روایت کیا طبرانی نے ’’اوسط ‘‘[5]  میں اور ’’کبیر‘‘[6] میں اور امام احمد [7]کے الفاظ یوں ہیں ’’راوی نے کہا اس دوران کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں بیٹھا تھا ۔ ہم لوگ حضور ﷺ کی مسجد کی طرف اپنی کمر ٹکائے تھے ۔اتنے میں حضور ﷺ حجر ۂ مقدسہ سے باہر تشریف لائے نماز ظہر کے وقت میں تو فرمایا تم لوگ ۔۔۔۔الی آخر ۹؍‘‘ اس کے بعد امام احمد نے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کی۔

(’’آثارِقیامت‘‘،مطبوعۂ دارالنقی،کراچی،ص:15,16,17,18)

از:تاج الشریعہ محمد اختر رضا خاں قادری ازہری﷫

تخریج:عبیدالرضا مولانا محمد عابد قریشی

 

([1] )مکارم الاخلاق / باب حفظ الامانۃ و ذم الخیانۃ / رقم الحدیث:176 /  ص:73السنن الکبری / کتاب الودیعۃ / باب ما جاء فی الترغیب فی اداء الامانات / رقم الحدیث :12696 / ج:6 / ص:472۔

([2])صحیح البخاری /کتب الصلاۃ/باب اذا لم یتم السجود / رقم الحدیث:389 / ج:1 / ص:87۔

([3])صحیح البخاری /کتب الصلاۃ / باب تضییع الصلاۃ عن وقتھا / رقم الحدیث:530 / ج:1 / ص:112۔

([4])مجمع الزوائد / کتاب الصلاۃ  /  باب فی المحافظۃ علی الصلاۃ لوقتھا /  رقم الحدیث:1677،1678 / ج:1 / ص:302۔

([5])المعجم الاوسط / باب الباریٔ / من اسمہ بکر / رقم الحدیث:3095 /  ج:3 /  ص:263۔

([6])المعجم الکبیر / باب الکاف / عامر الشعبی عن کعب بن عجرۃ  /  رقم الحدیث:311 / ج:19 / ص:142۔

([7])مسند احمد / مسند الکوفیین / حدیث کعب بن عجرۃ / رقم الحدیث:18132 / ج:30 / ص:55۔


متعلقہ

تجویزوآراء