علامہ محمد رمضان تونسوی  

مسائلِ زکوٰۃ

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ الصّلوٰۃُ والسّلام علی سیّد المرسلین وعلی اَلہ واصحابہ اجم   نماز، روزہ کی طرح زکوٰۃ بھی سابقہ انبیا ء کرام کی شریعتوں میں شامل رہی ہے اگر چہ ان کے تفصیلی احکام جدا تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ترجمہ : اور اس (اللہ جل شانہ ) نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ ہوں (مریم 31)زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے لئے قرآن و حدیث میں سخت و عید آئی ہے۔ترجمہ : ۔اور جو لوگ سونا، چ...

خاندان ِصدیق اکبر رضی اللہ عنہ

ازواج کی تعداد: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ازواج کی تعداد چار ہے آپ نے دو ۲ نکاح مکۂ مکرمہ میں کیے اور دو ۲ مدینہ منورہ میں۔ پہلا نکاح اور اس سے اولاد: پہلا نکا ح قریش کے مشہور شخص عبد العزی کی بیٹی امّ قتیلہ سے ہوا بعض کے نزدیک اس کا نام امّ قتلہ ہے، یہ قریش کے قبیلہ بنو عامر بن لوی سے تعلق رکھتی تھیں۔اس سے آپ کے ایک بڑے بیٹے حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک بیٹی حضرت سیدتنا اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا پیدا ہوئیں۔ دوسرا نکاح اور ا س...

سیدنا صدیق اکبر کی اہل بیت سے رشتہ داری

حضر ت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ پیارے صحابی ہیں جو نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ سفر و حضر میں ہر وقت ساتھ ہوتے تھے اور ہر وقت جلوہ محبوب ان کے پیش نظر ہوتا تھا، اسی طرح دیگر تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے اپنے قلوب کو تر و تازہ رکھا کرتے تھے۔ صحابہ وہ صحابہ جن کی ہر صبح عید ہوتی تھی خدا کا قرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی اسی عشق و محبت سے معمور حیات ...

جہیز کی شرعی حیثیت

جہیز کی شرعی حیثیت جہیز در حقیقت اپنی اولاد کے ساتھ صلہ رحمی ہے اور فی نفسہ مباح، بلکہ امرِ مستحسن ہے۔لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں اس امرِ مستحسن ( جہیز ) کا چہرہ جس طرح مسخ کر دیا گیا ہے کہ یہ محض ایک ہندوانہ رسم بن کر رہ گئی ہے ۔ کئی کئی سال والدین  لڑکیوں کو اسی وجہ سے گھر بیٹھائے رکھتے ہیں کہ والدین کے پاس جہیز کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ جبکہ اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے کہ جوان لڑکی کو صرف اس لیے گھر بٹھائے رکھیں کہ ابھی  ان کے پاس جہی...

امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب

امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب نام و نسب: اسمِ گرامی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔ کنیت: ابوالحفص۔ لقب: فاروق اعظم ۔اورسلسلہ نسب اسطرح ہے: عمر بن خطاب ،بن فضیل ،بن عبدالغریٰ ،بن ریاح ،بن عبداللہ، بن فرط، بن زراح ،بن عدی ،بن کعب،بن لوی۔ آپ کی والدہ کا نام حنتمہ بنت ہشام ،بن مغیرہ ، بن عبداللہ، بن عمر وبن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن کعب ۔یہ حضرت خالد بن رضی اللہ عنہ کی چچازاد بہن تھیں۔آپ کا نسب والد کی طرف سے حضور ﷺکے نسب نامہ کعب پر ملتا ہے۔(شریف التواریخ۔ال...

سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نام ونسب:اسمِ گرامی: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ۔کنیت: ابو عبداللہ۔القاب: ولی، زکی، طیب، مبارک،ریحانۃالرسولﷺ،سبطالرسولﷺ۔شہید، سید،التابع المرضات اللہ۔سلسلہ نسب :امام حسین بن امیرالمؤمنین علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم۔والدہ کی طرف سے امام حسین بن سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا بنت سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺبن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم۔ تاریخِ ولادت: ا...

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم

بسم اللہ الرحمن الرحیم مولوی ہرگز نہ شدمولائے روم حالاتِ زندگی: مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ پیدائش: مولانا رومی 1207ء بمطابق 6 /ربیع الاول/ 604ھ میں پیدا ہوئے۔ آپکابچپن: مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ بہت بڑے صوفی ،عارف باللہ ، متکلم اسلام، اور تمام کمالات انسانیہ سے موصوف بھی۔ ان کو علماءو مشائخ دونوں میں بڑی مقبولیت حاصل رہی۔ مولانا کی عمر ابھی چھ برس کی تھی کہ ایک جمعہ کو بلخ میں شہر کے لڑکوں کے ساتھ چھت پر سیر کر رہے تھے کہ...

بی بی حلیمہ کا گھر

نام ونسب: اسم گرامی: حلیمہ سعدیہ۔ سلسلۂ نسب: حلیمہ بنتِ ابو ذویب بن عبد اللہ بن حارث بن شجنۃ بن جابر بن رازم بن ناصرۃ بن فصیۃ بن نصر بن سعد بن بکر بن ھوازن بن منصور بن عکرمۃ بن خصفۃ بن قیس بن عیلان بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق بنی سعدقبیلے سےتھا،اور یہ قبیلہ ہوازن کی ایک شاخ تھا،جو اپنی فصاحت و بلاغت میں جواب نہیں رکھتا تھا۔حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا نام حارث بن عبدالعزیٰ بن رفاعۃ بن ملان ...

تعلیمات غوث الاعظم

تحریر: حضرت علامہ محمد  رمضان تونسوی محبوب سبحانی غوث الاعظم سید نا شیخ عبدالقادر جیلانی ﷫ان عظیم شخصیات  میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی سنہری  تعلیمات  کی بدولت اسلام کی آفاقی تعلیم کو زندہ و جاوید کردیا۔ آپ کی تعلیمات نے عالم اسلام کے مرکز بغداد میں ٹوٹ پھوٹ کے شکار معاشرے کو حیات نو کا مژدہ سنا کر مسلم امہ کے نحیف و ناتواں بدن میں نئی روح پھونک دی تھی۔ اس وقت سے آج تک آپ کی تعلیمات امت مسلمہ کو روحانی غذا فراہم کررہی ہیں۔ عص...