علی سے پوچھ کتنا عظیم ہے صدیق

حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شان وفضائل کا یہ مختصر مجموعہ احادیث نبوی بروایت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ور احادیث مرتضوی پر مشتمل ہے۔

 

۱۔       حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: جبریل (علیہ السلام) میری خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے پوچھا میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا جبریل نے جواب دیا ابوبکر اور وہ آپ کے بعد آپ کی امت کے والی ہیں اور آپ کے بعد سب سے افضل ہیں۔[1]

 

۲۔      حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’سالت اللّٰہ ان یقدمک ثلاثا فابی علی الا تقدیم ابی بکر‘‘ میں نے اللہ تعالیٰ سے آپ کو مقدم کرنے کے لیے تین بار دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کو مقدم کرنے کے سوا کسی بات کو قبول نہ فرمایا۔[2]

۳۔      حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’رحم اللّٰہ ابابکر روجنی ابنتہ وحملنی الی دارالھجرۃ واعتق بلالامن مالہ ومانفعنی مال فی الاسلام ما نفعنی مال ابی بکر اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے اس نے اپنی بیٹی میری زوجیت میں دی اور مجھے سوار کراکے دارالہجرت لے گئے اور اسلام میں ابوبکر کے مال نے جو مجھے فائدہ دیا کسی اور کے مال نے نہیں دیا۔[3]

 

۴۔      حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے اور حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یوم بدر حضورﷺ نے فرمایا: ’’مع احد کما جبریل ومع الآخر میکائیل‘‘ یعنی تم میں سے ایک کے ساتھ جبریل علیہ السلام اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے۔[4]

 

۵۔      حضرت علی، حضرت انس، حضرت جابر اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’سیّداکہول اھل الجنۃ من الاولین والآخرین الاالنبیین والمرسلین لاتخبرھما یا علی یعنی ابابکر وعمر‘‘ یعنی انبیاء اور مرسلین کے علاوہ ابوبکر اور عمر اولین اور آخرین اہل جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں اے علی آپ ان کو خبر نہ دینا۔[5]

۶۔      حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’خیر امتی بعدی ابوبکر وعمر‘‘ میرے بعد میری امت کے بہترین آدمی ابوبکر وعمر ہیں۔[6]

 

۷۔      حضرت علی رضی اللہ تسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یاابابکر ان اللہ اعطانی ثواب من آمن بی منذ خلق آدم الی ان بعثنی وان اللہ تعالیٰ اعطاک یا ابا بکر ثواب من آمن بی منذ بعثنی الی یوم القیامۃ‘‘ اے ابوبکر! بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے آدم علیہ السالم کی پیدائش سے لے کر میرے مبعوث ہونے تک جو مجھ پر ایمان لایا اس کا ثواب عطا فرمایا اور ابوبکر آپ کو میرے مبعوث ہونے سے لے کر قیامت تک جو مجھ پر ایمان لائے گا اس کا ثواب عطا فرمایا۔[7]

 

۸۔      حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ما: ’’ولد فی الاسلام مولود ازکی ولااطہر ولا افضل من ابی بکر وعمر‘‘ جو بچہ بھی اسلام میں پیدا ہوا وہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ پاک اور افضل نہیں۔[8]

 

۹۔      حضرت علی رضی اللہ تسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم ابوبکر کو والی بناؤ گے تو تم انہیں دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے والا اور آخرت میں رغبت رکھنے والا پاؤ گے اور اگر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو والی بناؤ گے تو انہیں ایسا قوی اور امین پاؤگے جسے اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اپنی گرفت میں نہیں لے سکتی اور اگر تم علی کو والی بناؤ گے تو انہیں ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا پاؤ گے جو تمہیں سیّدھے راستے پر چلائے گا۔[9]

 

۱۰۔     حضرت علی﷜ سے روایت ہے کہ حضور رسالت مآبﷺ نے اُنہیں فرمایا اے علی! مُجھے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ میں ابو بکر کو وزیر، عمر کو مُشیر، عثمان کو سہارااور تجھے اپنا مدد گار بناؤں، پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم چاروں کے متعلق اُم الکتاب میں وعدہ لیا ہے کہ تُم سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور تم سے بغض نہیں رکھے گا مگر فاجر، تم میری نبوت کے خلفاء ہو میرے ذمہ کی بیعت لینے والے ہو اور میری اُمت پر حجت ہو، میری اُمت کے لوگ نہ تم سے مقاطعہ کریں نہ تم سے مُنہ پھیریں اور نہ تمہاری نافرمانی کریں۔

اِ س روایت کی تخریج ابن سمان نے موافق میں کی اور اِسے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دُوسرے طریق پر بھی روایت کیا۔[10]

 

۱۱۔     حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا:ہر نبی کو سات نجیب ورفیق عطا فرمائے گئے۔ یا فرمایا رقباء عطا فرمائے گئے اور مجھے چودہ (۱۴)عطا فرمائے گئے ہیں۔ہم نے کہا! وُہ کون ہیں؟

حضرت علی نے فرمایا! میں، میرے بیٹے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، عمّار اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم،

اس کی تخریج ترمذی نے کی، اور تمام رازی نے فوائد میں ان لفظوں کے ساتھ نقل کیا۔[11]

 

۱۲۔     حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحمت کرے، اُس نے اپنی بیٹی کو میری زوجیت میں دیا، اور مُجھے دارِ ہجرت تک لے کرآیا اور غار میں میرا ساتھی بنا اور اپنے مال سے اِس نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آزاد کروایا۔

اللہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے وہ حق کہتا ہے اگر چہ تلخ ہو، اُس نے اپنا حق اور اپنا پیارا مال چھوڑ دیا۔

اللہ تعالیٰ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے، اُس سے ملائکہ حیاء کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ علی﷜ پر رحم فرمائے، الٰہی! جدھر وہ جائے اُس طرف حق کو پھیر دے۔

اس روایت کی تخریج ترمذی نے اور خلعی اور ابنِ سمان نے کی۔[12]

 

۱۳۔     حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا خیر تین سو ستر خصائل پر مشتمل ہے جب اللہ تعالیٰ کسی سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اُسے ان میں سے کوئی ایک خصلت عطا فرمادیتا ہے جس کے ساتھ اُسے جنت میں داخل فرماتا ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ! اس میں سے کوئی چیز مجھ میں ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا! ہاں آپ میں سب جمع ہیں۔

اس روایت کی تخریج صاحبِ فضائل نے کی اور ابنِ بہلول نے سلمان بن یسار سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روایت بیان کی۔[13]

 

[1]۔ کنزالعمال جزء ۱۱، ص ۲۵۱،طبع دارالکتب العلمیہ بیروت، مسندالفردوس رقم (۱۶۳۱)ج ۱، ص ۴۰۴۔

[2]۔ کنزالعمال جزء ۱۱، ص ۲۵۵، طبع دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان، الصواعق المحرقہ ص ۳۶، ۳۵ طبع مکتبہ مجیدیہ ملتان۔

[3]۔ الصواعق المحرقہ ص ۷۱،طبع مکتبہ مجیدیہ ملتان،جامع ترمذی، ج ۵،ص ۶۳۳، رقم(۳۷۱۴)۔

[4]۔ الصواعق المحرقہ ص ۷۶طبع مکتبہ مجیدیہ ملتان۔

[5]۔ الصواعق المحرقہ ص۷۸، ۷۷ طبع مکتبہ مجیدیہ ملتان،کنزالعمال جز ۱۱ ص ۲۵۷طبع دارالکتب العلمیہ بیروت۔

[6]۔ الصواعق المحرقہ ص ۷۸طبع مکتبہ مجیدیہ ملتان۔

[7]۔ کنزالعمال ۸جزء ۱۱ص۲۵۶طبع دارالکتب العلمیہ بیروت۔

[8]۔ کنزالعمال ج ۱۱ص ۲۶۹طبع دارالکتب العلمیہ بیروت۔

[9]۔ مستدرک حاکم ج ۳ ص ۷۳ رقم (۴۴۳۴) مسند احمد ج ۱ ص ۱۰۸رقم (۸۵۹)مسندبزار ج ۳ ص ۳۳ رقم (۷۸۳)۔

[10]۔       الرّیاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، ص ۸۶۔

[11]۔       الرّیاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، ص ۷۳۔

[12]۔       الرّیاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، ص ۸۷۔

[13]۔       الرّیاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، ص ۳۱۸۔


متعلقہ

تجویزوآراء