Ya Ilahi Reham Farma Mustafa K Wastey

یا الٰہی! رحم فرما مصطفیٰ کے واسطے
یارسولَ اللہ! کرم کیجے خدا کے واسطے

مشکلیں حل کر شہِ مشکل کُشا کے واسطے
کر بلائیں رد شہیدِ کربلا کے واسطے

سیّدِ سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے
علمِ حق بے باقرِ علمِ ہُدیٰ کے واسطے

صدقِ صادق کا تَصدّق صادق الاسلام کر
بے غضب راضی ہو کاظم اور رضا کے واسطے

بہرِ معروف و سَری معروف دے بے خود سَری
جُندِ حق میں گِن جُنیدِ با صفا کے واسطے

بہرِ شبلی شیرِ حق دُنیا کے کتوں سے بچا
ایک کا رکھ عبدِ واحد بے ریا کے واسطے

بوالفرح کا صدقہ کر غم کو فرح، دے حُسن و سعد
بوالحسن اور بو سعیدِ سعد زا کے واسطے

قادری کر قادری رکھ قادریّوں میں اٹھا
قدرِ عبدالقادرِ قدرت نُما کے واسطے

اَحْسَنَ اللہُ لَہُمْ رِزْقًا سے دے رزقِ حسن
بندۂ رزّاق تاجُ الاصفیا کے واسطے

نصر ابی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ
دے حیاتِ دیں مُحیِّ جاں فزا کے واسطے

طورِ عرفان و علوّ و حمد و حسنیٰ و بہا
دے علی، موسیٰ، حَسن، احمد، بہا کے واسطے

بہرِ ابراہیم مجھ پر نارِ غم گلزار کر
بھیک دے داتا بھکاری بادشا کے واسطے

خانۂ دل کو ضیا دے روئے ایماں کو جمال
شہ ضیا مولیٰ جمالُ الاولیا کے واسطے

دے محمد کے لیے روزی، کر احمد کے لیے
خوانِ فضل اللہ سے حصّہ گدا کے واسطے

دین و دنیا کے مجھے برکات دے برکات سے
عشقِ حق دے عشقیِ عشق انتما کے واسطے

حُبِِّ اہلِ بیت دے آلِ محمد کے لیے
کر شہیدِ عشق حمزہ پیشوا کے واسطے

دل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پُر نور کر
اچھے پیارے شمسِ دیں بدر العلیٰ کے واسطے

دو جہاں میں خادمِ آلِ رسول اللہ کر
حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے واسطے

صدقہ اِن اَعیاں کے دے چھ عین عز علم و عمل
عفو و عرفاں عافیت احمد رؔضا کے واسطے

حدائقِ بخشش

...
See More

Latest Zia-e-Bakhshish  

Ya Rab Mere Dil Main Hai Tamana e Madina

یا رب مرے دل میں ہے تمنائے مدینہ
ان آنکھوں سے دکھلا مجھے صحرائے مدینہ

نکلے نہ کبھی دل سے تمنائے مدینہ
سر میں رہے یا رب مرے سو دائے مدینہ

ہر ذرہ میں ہے نور تجلائے مدینہ
ہے مخزن اسرار سراپائے مدینہ

ایسا مری نظروں میں سما جائے مدینہ
جب آنکھ اٹھاؤں تو نظر آئے مدینہ

پھرتے ہیں یہاں ہند میں ہم بے سروساماں
طیبہ میں بلالو ہمیں آقا ئے مدینہ

اس درجہ ہیں مشتاق زیارت مری آنکھیں
دل سے یہ نکلتی ہے صدا ہائے مدینہ

یاد آتا ہے جب روضۂ پر نور کا گنبد
دل سے یہ نکلتی ہے صدائے مدینہ

میں وجد کے عالم میں کروں چاک گریبان
آنکھوں کے مرے سامنے جب آئے مدینہ

کیوں کر نہ جھلکیں خلق کے دل اس کی طرف کو
ہے عرش الہٰی بھی تو جو یائے مدینہ

سر عرش کا خم ہے ترے روضے کے مقابل
افلاک سے اونچے ہیں مکانہائے مدینہ

طیبہ کی زمیں جھاڑتے آتے ہیں ملائک
جبریل کے پرفرش معلائے مدینہ

قرآن قسم کھاتا نہ اس شہر کی ہرگز
گر ہوتا نہ وہ گل چمن آرائے مدینہ

سلطان دو عالم کی مرے دلمیں ہے تربت
ہوتے ہیں یہ کعبے سے سنخہائے مدینہ

کیوں گور کا کھٹکا ہو قیامت کا ہو کیا غم
شیدائے مدینہ ہوں میں شیدائے مدینہ

کیوں طیبہ کو یثرب کہو ممنوع ہے قطعاً
موجود ہیں جب سیکڑوں اسمائے مدینہ

جاتے نہیں حج کرکے جو کعبے سے مدینہ
مردود شیاطین ہیں اعدائے مدینہ

بلوا کے مدینے میں جمیل رضوی کو
سگ اپنا بنا لو اسے مولائے مدینہ

قبالۂ بخشش

...
See More Latest

Most Favourite Poetry  

Shajrah Sharif Hazrat Data Ali Hajveri

گنج بخش فض  عالم مظہرِ نور خدا
ناقصاں راپر  کامل کاملاں را راہنما

ہو رقم کس سے تمہارا مرتبہ یا گنج بخش
ہیں ثناء خواں آپ کے شاہ وگدا یا گنج بخش

بحر غم میں ہوتی ہے زیروزبر کشتی میری
لو خبر بحرِ محمد مصطفی یا گنج بخش

مہربان ہو کر ہماری مشکلیں آساں کرو
صدقہ حضرت علی مرتضیٰ یا گنج بخش

ازپئے خواجہ حسن بصری مجھے ہونے نہ دو
پھندہ حرص وہوا میں مبتلا یا گنج بخش

از برائے طاعت حضرت حبیب عجمی کرو
نور ایماں سے منور دل مرا یا گنج بخش

حضرت داؤد طائی پیر کامل کے طفیل
کیجیے سب حاجتیں سب کی روا یا گنج بخش

از پئے معروف کرخی خواب میں آکر مجھے
چہرہ انور دکھا دو بر ملا یا گنج بخش

از برائے سری سقطی رہے لب پر میرے
اسم اعظم آپ کا جاری سدا یا گنج بخش

ازپئے الطاف وتکریم وفیوضیات جنید
ہو ہمارے حال پر نظر عطا یا گنج بخش

از برائے حضرت ابوبکر شبلی نامدار
ہو ہمارے دل کا حاصل مدعا یا گنج بخش

از پئے حضرت علی حسری مجھے کردو رہا
ہوں گرفتار غم ورنج وبلا یا گنج بخش

از برائے ابوالفضل ختلی رہے جلوہ نما
ہر گھڑی دل میں  تصور آپ کا یا گنج بخش

یا علی مخدوم ہجویری برائے ذات خویش
غیر کا ہونے نہ دو ہم کو گدا یا گنج بخش

جب نظر لطف وکرم کی شیخ ہندی پر پڑی
کردیا قطرے سے دریا آپ نے یا گنج بخش

حضرت خواجہ معین الدین بابا فرید الدین کو
گنج عرفاں آپ کے در سے ملا یا گنج بخش

آپ کے دربار میں آکر کیا جس نے سوال
آپ نے بخشا اس کو گنج بے بہا یا گنج بخش

اس بشر کے ہوگئے فوراً سبھی مطلب روا
صدق سے اک مرتبہ جس نے کہا یا گنج بخش

کس کے در پر یہ ظہور الدین کرے جاکر سوال
آپ کے دربار عالی کے سوا یا گنج بخش

گنج بخشی آپ کی مشہور ہم پہ کر کرم
کر کرم کرواکرم دونوں جہاں میں رکھ شرم

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

...

Hajiyon Aao Shahenshah Ka

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

رکنِ شامی سے مٹی وحشتِ شامِ غربت
اب مدینے کو چلو صبحِ دل آرا دیکھو

آبِ زم زم تو پیا خوب بجھائیں پیاسیں
آؤ جودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو

زیرِ میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو

دھوم دیکھی درِ کعبہ پہ بے تابوں کی
اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو

مثلِ پروانہ پھرا کرتے تھے جس شمع کے گرد
اپنی اُس شمع کو پروانہ یہاں کا دیکھو

خوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ
قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو

واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
یاں سیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو

اوّلیں خانۂ حق کی تو ضیائیں دیکھیں
آخریں بیتِ نبی کا بھی تجلّا دیکھو

زینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ
جلوہ فرما یہاں کونین کا دولھا دیکھو

ایمنِ طور کا تھا رکنِ یمانی میں فروغ
شعلۂ طور یہاں انجمن آرا دیکھو

مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم
جن پہ ماں باپ فدا یاں کرم ان کا دیکھو

عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیلِ انجاح
آؤ اب داد رسیِّ شہِ طیبہ دیکھو

دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسوَد
خاک بوسیِّ مدینہ کا بھی رتبہ دیکھو

کر چکی رفعتِ کعبہ پہ نظر پروازیں
ٹوپی اب تھام کے خاکِ در ِ والا دیکھو

بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت
جوشِ رحمت پہ یہاں ناز گنہ کا دیکھو

جمعۂ مکّہ تھا عید، اہلِ عبادت کے لیے
مجرمو! آؤ یہاں عیدِ دو شنبہ دیکھو

ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں
ادب و شوق کا یاں باہم الجھنا دیکھو

خوب مسعیٰ میں بامّیدِ صفا دوڑ لیے
رہِ جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو

رقصِ بسمل کی بہاریں تو منٰی میں دیکھیں
دلِ خونابہ فشاں کا بھی تڑپنا دیکھو

غور سے سن تو رؔضا! کعبے سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے مِرے پیارے کا روضہ دیکھو

حدائقِ بخشش

...

Bagh e Jannat Kay Hain Behre

باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دشمنانِ اہلِ بیت

کس زباں سے ہو بیانِ عز و شانِ اہلِ بیت
مدح گوے مصطفیٰ ہے مدح خوانِ اہلِ بیت

اُن کی پاکی کا خداے پاک کرتا ہے بیاں
آیۂ تطہیر سے ظاہر ہے شانِ اہلِ بیت

مصطفےٰ عزت بڑھانے کے لیے تعظیم دیں
ہے بلند اقبال تیرا دُودمانِ اہلِ بیت

اُن کے گھر میں بے اجازت جبرئیل آتے نہیں
قدر والے جانتے ہیں قدر و شانِ اہلِ بیت

مصطفےٰ بائع خریدار اُس کا اللہ اشتریٰ
خوب چاندی کر رہا ہے کاروانِ اہلِ بیت

رزم کا میداں بنا ہے جلوہ گاہِ حسن وعشق
کربلا میں ہو رہا ہے امتحانِ اہلِ بیت

پھول زخموں کے کھلائے ہیں ہواے دوست نے
خون سے سینچا گیا ہے گلستانِ اہلِ بیت

حوریں کرتی ہے عروسانِ شہادت کا سنگار
خوبرو دُولھا بنا ہے ہر جوانِ اہلِ بیت

ہو گئی تحقیق عیدِ دید آبِ تیغ سے
اپنے روزے کھولتے ہیں صائمانِ اہلِ بیت

جمعہ کا دن ہے کتابیں زیست کی طے کر کے آج
کھیلتے ہیں جان پر شہزادگانِ اہلِ بیت

اے شبابِ فصلِ گل یہ چل گئی کیسی ہوا
کٹ رہا ہے لہلہاتا بوستانِ اہلِ بیت

کس شقی کی ہے حکومت ہائے کیا اندھیر ہے
دن دہاڑے لُٹ رہا ہے کاروانِ اہلِ بیت

خشک ہو جا خاک ہو کر خاک میں مل جا فرات
خاک تجھ پر دیکھ تو سُوکھی زبانِ اہلِ بیت

خاک پر عباس و عثمانِ علم بردار ہیں
بے کسی اب کون اُٹھائے گا نشانِ اہلِ بیت

تیری قدرت جانور تک آب سے سیراب ہوں
پیاس کی شدت میں تڑپے بے زبانِ اہلِ بیت

قافلہ سالار منزل کو چلے ہیں سونپ کر
وارثِ بے وارثاں کو کاروانِ اہلِ بیت

فاطمہ کے لاڈلے کا آخری دیدار ہے
حشر کا ہنگامہ برپا ہے میانِ اہلِ بیت

وقتِ رُخصت کہہ رہا ہے خاک میں ملتا سہاگ
لو سلامِ آخری اے بیوگانِ اہلِ بیت

اَبر فوجِ دشمناں میں اے فلک یوں ڈوب جائے
فاطمہ کا چاند مہر آسمانِ اہلِ بیت

کس مزے کی لذتیں ہیں آبِ تیغِ یار میں
خاک و خوں میں لوٹتے ہیں تشنگانِ اہلِ بیت

باغِ جنت چھوڑ کر آئے ہیں محبوبِ خدا
اے زہے قسمت تمہاری کشتگانِ اہلِ بیت

حوریں بے پردہ نکل آئی ہیں سر کھولے ہوئے
آج کیسا حشر ہے برپا میانِ اہلِ بیت

کوئی کیوں پوچھے کسی کو کیا غرض اے بے کسی
آج کیسا ہے مریضِ نیم جانِ اہلِ بیت

گھر لُٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جانِ عالم ہو فدا اے خاندانِ اہلِ بیت

سر شہیدانِ محبت کے ہیں نیزوں پر بلند
اَور اونچی کی خدا نے قدر و شانِ اہلِ بیت

دولتِ دیدار پائی پاک جانیں بیچ کر
کربلا میں خوب ہی چمکی دوکانِ اہلِ بیت

زخم کھانے کو تو آبِ تیغ پینے کو دیا
خوب دعوت کی بلا کر دشمنانِ اہلِ بیت

اپنا سودا بیچ کر بازار سونا کر گئے
کون سی بستی بسائی تاجرانِ اہلِ بیت

اہلِ بیتِ پاک سے گستاخیاں بے باکیاں
لَعْنَۃُ اﷲِ عَلَیْکُمْ دشمنانِ اہل ِبیت

بے ادب گستاخ فرقہ کو سنا دے اے حسنؔ
یوں کہا کرتے ہیں سُنّی داستانِ اہلِ بیت

ذوقِ نعت

...

Aasman Gar Tere Talwo Ka

آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اُتارا کرتا

طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا

صَرصرِ دشتِ مدینہ جو کرم فرماتی
کیوں میں افسردگیِ بخت کی پرواہ کرتا

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

یہ وہی ہیں کہ گرِو آپ اور ان پر مچلو
اُلٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا

ہم سے ذرّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

دُھوم ذرّوں میں اناالشمس کی پڑ جاتی ہے
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ دَر ہوتا میں
اُن کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا

شوق وآداب بہم گرمِ کشاکش رہتے
عشقِ گم کردہ تواں عقل سے اُلجھا کرتا

آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا
دِل بگڑ تا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

بے خودانہ کبھی سجدہ میں سوے دَر گرِتا
جانبِ قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا

گاہ مرہم نہیِ زخمِ جگر میں رہتا
گاہ نشتر زنیِ خونِ تمنا کرتا

ہم رہِ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا

صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا
اُلفتِ دست و گریباں کا تماشا کرتا

دلِ حیراں کو کبھی ذوقِ تپش پہ لاتا
تپشِ دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا

کبھی خود اپنے تحیّر پہ میں حیراں رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی اندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اُس بزم میں کھٹکا کرتا

کبھی رَحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی
پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا

دل اگر رنجِ معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سنبھالا کرتا

یہ مزے خوبیِ قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پروا کرتا

موت اُس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
خاک اُس سر پہ جو اُس در سے کنارا کرتا

اے حسنؔ قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

ذوقِ نعت

...
See More Favorite