حضور سید عالم ﷺ نے فتح مکہ کے دن اس جگہ اپنا جھنڈا مبارک لگایا تھا اور سید نا جبیر بن مطعمرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کنویں کے قریب آپ نے نماز ادا فرمائی ، پھر یہیں پر مسجد شریف بنادیگئی۔ جھنڈے مبارک کی نسبت سے مسجد رایہ مشہور ہوئی۔ رایہ عربی زبان میں جھنڈے کو کہا جاتا ہے۔(تاریخ مکہ صفحہ ۳۴۰، اخبار مکہ صفحہ ۴۲۵)

وصلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہٖ محمد وآلہ وصحبہٖ وبارک وسلم

فائدہ:

        اب یہ مسجد محلہ جودریہ غزہ روڈ پر ہے۔ اس لئے اس کو مسجد جودریہ بھی کہتے ہیں او ر اس مسجد کا فاصلہ مروٰی سے (پانچ سو پچاس ) ۵۵۰ میٹر ہے ۔ (زیارات مکہ معظمہ ، ص ۱۷۷)


All Related

Comments