مکہ مکرمہ کے مقدس   قبر ستان کو ‘‘جنت المعلی ’’کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔یہ قبرستان مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جو مسجد حرام کی مشرقی جانب ایک پہاڑی کی گھاٹی میں    واقع ہے ۔جنت       المعلیٰ   کی شان بیان کرتے ہوئے حضور سید عالمﷺ نے فرمایا:۔

من اقبر فی ہذہ المقبرۃ بعث اٰمنا یوم القیمٰۃ

"جو شخص مکہ مکرمہ کے قبرستان (جنت المعلیٰ )میں دفن کیا گیا وہ قیا مت کے دن امن سے اٹھے گا۔"

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مقدس قبرستان کے ستر ہزار افراد بلا حِساب  جنت میں جائیں گے۔(بلد الامین ، ص ۲۱۷)

فائدہ :

اس وقت نجدی حکومت نے جنت المعلیٰ کے بیچ میں سڑک نکال کر اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے  ۔شمال میں ایک چھوٹے سے احاطے میں حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنھا اور حضور ﷺکے خاندان بنو ھاشم کے اکثر بزرگ یہیں مدفون ہیں اس مقدس قبرستان میں ام المومنین حضرتِ خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنھا، حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا،حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما،حضور ﷺکے دادا جناب عبدالمطلب ،اور آپ ﷺکے چچا جناب ابو طالب ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، حضرت فضیل بن عباس   رضی اللہ عنہما، حضرت عبداللہ بن عمر   رضی اللہ عنہما،   اور حضورﷺ کے صاحبزادگان حضرت قاسم   رضی اللہ عنہ ،حضرت طیب رضی اللہ عنہ ،حضرت طاہر رضی اللہ عنہ بن رسول ﷺکے مزارات ہیں ۔ اس کے علاوہ بے شمار تابعین رحمہم اللہ اور اولیا ء عظام مدفون ہیں ۔ (زیارات مکہ ، ص ۱۶۶)

علامہ   فاکہی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

مکہ مکرمہ کے پہاڑوں کی گھاٹیوں کا قدرتی رُخ ٹھیک سمتِ قبلہ کی طرف نہیں ہے‘‘سوائے جنت المعلیٰ ’’کے اس کا رُخ خطِ مستقیم سے قبلہ کی طرف ہے ۔(اخبار مکہ للفاکہی ج 4 ،ص67)


All Related

Comments