یہ مشہور مقام صفا کے قریب واقع ہے۔ شروع اسلام میں حضور سید عالم ﷺ اسی میں رہا کرتے تھے، مشورے ہوتے تبلیغی نظام کو پروان چڑھانے کے منصوبے بنتے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اسی مکان میں حاضر ہوکر ایمان لائے تھے۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حویلی    کے بعد اسے شرف حاصل ہے کہ حضور علیہ السلام دیر تک اس میں رہے اور سب سے بڑی وجہ شرف حضور ﷺ کی نسبت ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ نے اس جگہ پر مسجد تعمیر کروائی ۔ بعد ازاں امین الملک مصلح ، وزیر الجواد ، المستنصر عباسی ، جمال الدین ، شرف الاسلام ، ابو جعفر سلطان مراد خاں، ابراہیم کلب نے اپنے اپنے دور میں اس کی مرمت و تزئین میں حصہ لیا۔(شفا ،ص ۳۶، جلد ۱، تاریخ مکہ، جلد ۱ ، ص ۳۶۰)

فائدہ:

          کوہ صفا کی طرف جائیں تو بائیں طرف کوہ صفا سے بالکل متصل دار ارقم والی جگہ ہے، اسی جگہ کئی حضرات مشرف با اسلام ہوئے جن میں حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔ ۱۹۵۵؁ء میں اس طرف توسیعی منصوبہ عمل میں آیا تو دار ارقم کو اس میں شامل کر دیا گیا ۔ اور یادگار کے طور پر مسعی میں صفاء کے قریبی دروازے کا نام ‘‘باب دارلارقم’’ رکھ دیا گیا۔ (اخبار مکہ للفاکہی، جلد ۳، ص ۳۳۰)


All Related

Comments